Tehreer#03 | Mutanaza | Amad Riyan Khan

متنازعہ
قلم زن عمادریان خان
"ایک اور بار کوشش کریں۔۔۔ آپ اس بار بھی اکیلے آنا اگر  کوئی بات بن جاتی ہے تو ٹھیک ورنہ ہم اپنی کوشش مہم جاری رکھیں گے اور ہاں اس بار کے لئے  آل دی بیسٹ.." انوش کا آخری میسج پڑھ کر فجر سے کچھ دیر پہلے ہی اس نے تیاری پکڑلی...
اپنے فوجی والے بیگ میں تین ایک کپڑوں کے جوڑے اور ضروری سامان ڈالنا شروع کردیا.. اسے کبھی فوج میں جانے کا شوق رہا تھا..
مگر شوق تو تھا وقت کے ساتھ خاموش ہوا مگر مرا نہیں..
فجر کی نماز کے بعد پہلی ٹرین سے حیدرآباد نکل پڑا..
ایک پل کو اس نے باہر کے بھاگتے دوڑتے ہوئے منظر کو دیکھا..
پھر اپنے تھکے ہارے ہوئے وجود کو سکیڑ کر آنکھیں موند لی..
سفر میں نیند کا آجانا غنیمت ہے وگرنہ جس طرح  ملکِ عزیز کے مکینوں نے اس کا حال کیا ہوا  ہے کسی عام انسان کے لئے اسے دیکھنا صرف ٹورچڑ  ہی سمجھا جائے گا..
وہ وقت بھی آگیا..
چرچراہٹ اور  ہارن کی بلند آواز کے ساتھ ٹرین سست ہوتی ہوتی رک ہی گئی..
آنکھ کھول کر وہ لڑکا اپنا بیگ لئے ہوئے باہر نکلا..
اپنی منزل کی جانب ایک ٹیکسی لئے چل پڑا.. پتہ ٹھیک اسی جگہ کا تھا..
وہ اس مکان کے مقابل کھڑا ہوا..
سفر کو ایک دن گزر چکا تھا..
وہ تھکن سے ٹوٹ چکا تھا..
مطلوبہ جگہ  گیا اسے ناشتہ کروایا گیا..
چوری چھپے اس نے انوش کو دیکھ ہی  لیا..
جو خود اوپر سے جھانک کر اسے چوری چھپے دیکھنے میں مشغول تھی..
وہ اس گھر میں تئیسویں مرتبہ آیا تھا..
وہ یہاں آتا ۔ رشتہ مانگتا ،انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتا اور منہ لٹکائے واپس چلا جاتا...
.رشتے سے انکار کی ہمیشہ ایک ہی وجہ ہوتی تھی ۔
"ہم اپنی بیٹی کو اتنا دور نہیں بھیج سکتے.."
صبح کو آتا اور شام کو انکار پاکر لوٹ جاتا..
 "دیکھیں خالہ میں یہاں آتا ہوں , اب تو انکار سننے کی عادت ہو گئی ہے.. مگر آپ نے عہد کیا تھا کہ آپ مجھے کوشش سے منع نہیں کریں گی..." اس نے دن کے کھانے کے بعد چائے پر بات شروع کی..
"تو تم انکار کیوں نہیں مان لیتے.. ہم اتنا دور کیسے بھیج دیں.."  انھوں نے معمول کے مطابق وہی جملہ کہا..
"لیکن حدیقہ آپی بھی تو دور ہی بیائی گئی ہیں.."  اس نے ایک پختہ دلیل دی..
"ہاں کینیڈا میں ہے.. اس کا دیور بھی انوش کو پسند کرتا ہے میں تو سوچتی ہوں انوش کو بھی وہیں روانہ کردوں دونوں بہنوں کا سنگ اچھا گزرے گا.." وہ اسے بتارہی تھیں یا مشورہ طلب کر رہی تھیں مگر ظاہر ایسے ہو رہا تھا جیسے وہ اسی گھر کا کوئی فرد ہو..
وہ بس سر کو جھکائے مسکراتا رہ گیا..
دوقسم کی  سوچ میں لوگ کیسے بٹے ہیں اس کی سمجھ سے بالاتر تھا۔۔۔۔
جو پاکستان کے کسی اور شہر سے رشتہ مانگ رہا وہ دور ہے اور جو پاکستان سے باہر سے رشتہ  مانگ رہا وہ؟ 
****
****
شام کو خالو جی گھر واپس آچکے تھے..
مگر ان دونوں کا سامنا اتنا ہی ہوا تھا کہ  وہ تیزی سے باہر کو  نکلا اور وہ کام سے لوٹ کر گھر آئے..
اس کا بیگ اس کے کندھے پر موجود تھا..
وہ پاس ہی موجود مسجد میں چلا گیا..
نماز پڑھتے ہوئے اسکی توجہ ہرگز نہ بھٹکی..
اس نے یکسوئی کے ساتھ نماز ادا کی..
سلام پھیرتے ہی اسے دو لوگوں نے پکڑ کر باہر نکال دیا..
"یہ پڑھو کیا لکھا ہے.." ان میں سے ایک شخص نے اس کے جبڑوں سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا..
"ہزارہ امام بارگاہ حسینی حیدرآباد.." پل کو اسے جھٹکا لگا..
وہ کس کامل توجہ کے ساتھ وہاں سےنکلا مگر اس کے قدم کہاں  کو چل دیئے۔۔۔
"بتا کس نے بھیجا ہے تمہیں...اور اس بیگ میں کیا ہے.." سب جماعتی بھی جمع ہوگئے تھے..
وہ کچھ بولنے سننے سے قاصر تھا..
"شرم نہیں آتی کسی مقدس جگہ پر خود کش حملہ کرتے ہوئے..." ایک نے منہ پر تھپڑ رسید کیا..
اتنے میں اگلی گلی کی مسجد کی جماعت ہوئی مزید لوگ جمع ہوگئے...
اسے اور چپ لگ گئی..
بلند آوازیں اور ہجوم دیکھ کر سب مسجد سے نکل کر اس طرف کو  آرہے تھے۔۔۔
مسجد کے امام بھی آ پہنچے تھے..
بیگ اب تک مشکوک تھا..
اتنے میں مولوی صاحب نے بیگ اور اس لڑکے کا حلیہ باقی سب سے مختلف دیکھ کر اپنی طرف سے قیاس لگا دیا۔۔۔
کہ یہ تم لوگ مسجد کے خلاف کیا منصوبہ بنارہے ہو۔۔۔ بحث چھڑگئی کہ  مسجد کے خلاف لڑکے اکھٹے کئے جارہے ہیں..
دونوں فرقوں میں عجیب بحث شروع ہوگئی..
وہ سب بلاوجہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے..
اب مدعہ  وہ لڑکا نہیں آپسی مسائل نے آگ پکڑلی۔۔۔
تھک ہار کر دونوں عبادت گاہوں کے پیشواؤں نے چُپ سادھ لی اور بیگ کھولنے پر اکتفا ہوا.. بیگ کھولا گیا تو سوائے کپڑوں کے کچھ بھی حاصل نہ ہوا..
اب سب شرمندہ ہو کر اس لڑکے کی جانب سرنگوں تھے..
اس کا رویہ ابھی تک نارمل تھا..
"اتنے اختلافات..." حاضرین نے اس کے منہ سے پہلا جملہ سنا..
سب خاموش ہی تھے..
"مجھے بتائیں امام صاحب کے امام غائب کے ہاتھ پر کون کون بیت کرے گا وہاں سنیوں کو اجازت آپ سے ملے گی؟..." وہ لڑکا مدہم آواز میں بولا..
"اور مولوی صاحب امام مہدی کے ہاتھ پر بھی بیت کروگے تو کیا وہاں بھی شیعہ کافر کہوگے؟کیا اختلاف رہے گاپھر بھی؟.." اس نے ایک جیسا سوال دونوں سے کیا..
ایک پل میں سب بدل جائے گا تو کیوں نہ آج سے ہی اس کی کوشش جاری کر دیں؟؟
"کچھ تو اس وقت کا خیال کرلیں دونوں لوگ وہاں کیسے منہ دکھائیں گے.."
"آپس میں مل کر رہنے سے دین کی بقا ہے نہ کے بٹ کر اور کٹ کر.." 
مسلک سنی یا شیعہ برا نہیں برے ہم ہیں ہمارے کام برے ہماری سوچ بری اور ہم مذہب نہیں انسان ہیں۔۔۔برا انسان ہوتا ہے مذہب یا مسلک نہیں۔۔۔
انسان بڑا نہیں ہوتا مذہب بڑا ہوتا ہے۔۔۔۔وہ لڑکا ترکی بہ ترکی بولتا گیا۔۔۔
"ایک دوسرے کے لیے دل میں اتنا خناس لئے ہوئے ہیں.. میں نے اپنی نماز پڑھی اور مجھے دہشت گرد کا ٹیگ لگ گیا...مجھے اپنے جیسے حلیے میں دیکھ کر آپ لوگوں نے بھی سازش کا نشانہ بنا کر الزام لگادیا.." 
"بس یہی کے دل ملنے چاہیئے.. دل میں بغض ہوا تو نہ کسی کو جنت ملے گی نہ دنیا میں سکون.." 
اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور سٹیشن کی جانب چل دیا..
سننے والوں میں ایک کان انوش کے بابا کا بھی تھا۔۔۔
ٹرین میں بھی اس کے دماغ میں یہی  سب چل رہا تھا..
زندگی میں اتنی الجھن اور نفرت کا وہ کبھی نشانہ نہ بنا تھا۔۔۔
"مجھے نہیں لگتا میں اب اس شہر میں دوبارہ آؤں گا اس لئے آخری سلام..." میسج بھیجنے لگا تو ایک دم سے موبائیل وائیبریٹ ہوا..
میسج کھول کر دیکھا..
"الحمداللہ مسٹر خان ہم نے کر دکھایا..ہماری دعائیں کام آگئی ہیں ۔۔۔۔کیا ڈھیٹ ہو ویسے تم.. رشتہ جوڑنے آئے تھے سب کے دل جوڑ لئے تم نے.. بابا مان گئے ہیں .. میں بہت خوش ہوں اور اس کی وجہ صرف تم ہو.." 
اپنا لکھا میسج مٹا کر اس نے نیا میسج ٹائپ کیا..
"الحمداللہ ۔۔۔دعائیں تو قبول ہوتی نظر آتی ہیں ۔۔۔اب نکاح اور پھر ہماری عبادات سے جنت کے سفر کے لئے تیار رہیے گا...
 ان شاءاللہ۔۔۔
میسج کو پڑھے بنا اس نے ایک معنی خیز مسکراہٹ  دی اسے علم تھا ان شاءاللہ ہی جواب میں آیا تھا۔۔۔

*********
*********


No comments

Powered by Blogger.