Afsana#01 | Ishq Jismo ka | HaaDi Khan

عشق جسموں کا
ازقلم ہادی خان
🌟🌟🌟
لڑکی معصوم سی 
خوابوں میں رہا کرتی تھی 
دنیا کی سمجھ نہ تھی اس کو
خود میں مگن رہا کرتی تھی 
پر وقت نے پلٹا کھایا ایسا 
ایک راج کمار بھایا ایسا 
پھر معصومیت نے اس کو دیا دهوکہ 
سہیلی نے اسے بہت روکا 
نہ سمجھ سکی کوئی بات 
پھر دن آیا بے حیائی کا 
ملنے جو گئی اس راج کمار سے 
اپنے محبوب اپنے پیار سے 
پھر کُھلی بند آنکھوں سے پٹی 
ایک ہوس کے پوجاری کے ہاتھوں 
عزت اپنی لٹا بیٹھی 
ویلنٹائن کے نام پہ 
عزت خاک کرا بیٹھی
(عالیہ رضا)
🌟🌟🌟
میں ابھی سترہ برس کی ہوئی،، لاتعلق سی ہر طرح کی ذمہ داریوں سے عاری، کاغذی پھول جیسے چہروں کی کوئی پہچان نہ تجربہ، پاؤں پاؤں چلتی میں کب لڑکپن تک پہنچی کب جوانی کی حدوں کو چھوا پتا ہی نہ چلا...
کالج کے باہر بے دستور ،بے ڈھنگے سے کپڑے پہنے ایک لڑکا میری راہ تکتا رہتا،،، اس کے سر کے بےترتیب بال تیل میں یوں چپڑے ہوتے تھے جیسے اچار کے ہر ہر ذرے کو تیل میں ڈبویا جاتا ہے اور اس کے ہونٹوں پر پان کی زرد تہہ کا گاڑھا رنگ رونما ہوتا تھا...
🌟🌟🌟
اس نے پچکاری کو ایک طرف تھوکا جس کے باعث ہونٹ کے کنارے سے تھوک اور پان سے بنی لال اور پیلے رنگ کی عجیب سی رستی ہوئی وہ نہر اس کی تھوڑی پر لڑھک گئی جس کو اس نے اپنی آستین سے پونچھ لیا...
آنکھوں پر چشمہ اور کان میں ایک تیلی اڑسے ہوئے وہ گول گول چکری گھما رہا تھا...
قمیض کے بٹن کھلے ہونے کی وجہ سے چھاتی کے بال بھی اس کی قمیض سے باہر کی جانب جھانک رہے تھے...
مجھے اس کے حلیے سے کراہت محسوس ہوئی، اس کی غلیظ نظروں کا تعاقب اپنے سراپے پر محسوس کر کے مجھے خود سے ہی گھن آنے لگتی تھی...
میں بڑے بڑے ڈگ بھرتی وہاں سے گھر کی طرف بھاگ کھڑی ہوتی...
یہی وہ لمحہ تھا جس کو ساجد تسکین آمیز سمجھتا اور جی بھر کے محظوظ ہوتا...
ایک دن وہ میرے راستے میں کھڑا ہوگیا، گلی کی نکڑ پر عموماً کالج کی چھٹی کے وقت کوئی نہ ہوتا تو اس وقت ساجد کو اپنے سامنے دیکھ کر مجھ پر لرزش طاری ہوگئی...
"رکو...سنو ثوبیہ..." اس نے آستین کو تہوں میں موڑتے ہوئے کہا...
اپنا نام اس کے منہ سے سن کر میں ڈگمگا گئی اور اس لمحے مجھے اپنا نام اس کے منہ سے سن کر اپنے نام سے بھی شدید نفرت سی محسوس ہوئی...
طرح طرح کے بریسلیٹ اسکے ہاتھوں کی زینت بنے ہوئے تھے اور اس کے ہاتھ میں بلیڈ پکڑا ہوا تھا جس کی تیز دھار چمک رہی تھی،میں پیچھے کو ہٹتے ہوئے دیوار کے ساتھ جالگی...
" میرا نام ساجد ہے..." وہ بڑھتے بڑھتے میرے انتہائی نزدیک آگیا، میں اس وقت خود کو بہت بے بس لاچار اور غیر محفوظ محسوس کر رہی تھی...
"یہ لو اس کو فرصت سے گھر جا کر پڑھنا.." اس نے جیب سے ایک رقعہ نکال کر زبردستی میرے ہاتھ میں تھما دیا اور واپس پلٹ گیا...اس کے جانے کی دیر تھی کہ میری ساکن سانسیں بحال ہوئیں...
""کل مجھے اس کا جواب چاہئیے..." ابھی دل کی دھڑکن بھی نہ تھمی تھی کہ اس کی آواز پھر کہیں سے بلند ہوئی تو میں اپنے دھیان میں بری طرح چونکی...
اس کی معنی خیز مسکراہٹ میری ذات پر کسی تیز دھار کی طرح لگی اور مجھے لگا جیسے میرے اندر بے شمار آئینے ٹوٹے ہوں اور کرچی کرچی ہو کر میرا اندر چھیل کر رکھ دیا، میری روح گھائل کر دی اس کی غلیظ نظروں نے،میں نے ٹخنوں سے تھوڑا اوپر تک اپنے پورے بدن کو عبایے سے ڈھکا ہوا تھا جس کے نیچے میں نے ٹائیٹس(تنگ پاجامہ) پہنا ہوا تھا...
ویسے یہ قابلِ اعتراض المیہ ہے بظاہر ہم نے اسلام کو اوپر اوپر سے قبول کر رکھا ہے اندر سے ہم آج بھی آزاد ہونا چاہتے ہیں،، لاج رکھنے کو ابھی تو جیسے کا تیسہ نظام چل رہا ہے مگر جب یہ اوپر والا اسلام بھی اٹھ جائے گا تو سرِعام بے حیائی پھیل جائے گی...جس کے لیئے ہم اندر سے پوری طرح تیار کردیئے گئے ہیں..
🌟🌟🌟
گھر آکر میں اپنے کمرے میں چلی گئی، میرا پورا بدن کانپ رہا تھا کیونکہ میں آج پہلی بار کسی غیر محرم کے اس قدر نزدیک ہوئی تھی کہ میں اپنی حیا سے بھی آنکھیں ملانے کے قابل نہ رہی میری روح میرا ضمیر مجھے بری طرح ملامت کر رہا تھا...
کسی کے لفظ تاریخ کا حصہ بن گئے جن کا مفہوم کچھ یوں ہے...
"انسان جب گناہ کرتا ہے تو دورانِ گناہ ہمیں ضمیر نے کبھی نہیں روکا مگر جب ہم گناہ کر لیتے ہیں تو ہماری لذّت کا مزہ کرکرا کرنے ضمیر آن ٹپکتا ہے..."
مگر میرے ضمیر نے اس وقت بھی میرا ہی ساتھ دیا پھر بھی اب مجھء مختلف وسوسے آرہے تھے ایک خیال یوں آیا کہ میں نے ساجد کے منہ پر تھپڑ دے مارا ہے، اس خیال کے آتے ہی میں نے اپنی مٹھیاں زور سے بھینچ لیں...
پھر ایک خیال آیا کہ میں نے چلا کر بہت سے لوگوں سے ساجد کو پٹوادیا ہے مگر ایسا ممکن ہی نہ ہوسکا...
میں نے اس کا منہ کیوں نہیں نوچا،،،، مجھے شدت سے احساس ہوا..
میں دانت پیسنے لگی...
آنکھیں اٹھا کر دیکھا تو آئینے نے مجھ پر قہقہہ لگا کر یہ ثابت کیا کہ میں کمزور ہوں، میری زور سے بند مٹھی اب کھلتی گئی بے بسی نے میرے غصے میں اٹھتے ہاتھ کو روکا دھیرے دھیرے میں نے ہاتھ میں پکڑے اس چرمر ہوئے کاغذ کو بغیر کھولے پھاڑدیا اور پانی کے بہاؤ کے ساتھ بیت الخلاء میں اس کا پیغام بھی بہتا چلا گیا...
میری الجھن بڑھتی گئی، ناجانے کن منصوبوں کی تعمیر میرے اندر توڑ پھوڑ کر رہی تھی...
میرے ہاتھ میں چھری تھی جو آپی سبزیاں کاٹنے کیلئے دے گئیں تھیں...
"ثوبیہ....کیا ہوا ہے؟ تم پریشان دکھائی دے رہی ہو..." حلیمہ آپی نے مجھے چھری سے کھیلتے دیکھا تو مشکوک نگاہوں سے پوچھنے لگیں...
"ہاں....نہیں کچھ نہیں بس ان سبزیوں پر غور کر رہی تھی..."
"تو کیا غور کیا...؟"حلیمہ آپی نے دلچسپی ظاہر کی...
"یہی کہ یہ کتنی نازک ہوتی ہیں، ایک پودا جسے ہم اتنی محنت سے لگاتے ہیں اللہ کا حکم اور کرم ہوتا ہے تو پھل دیتا ہے ، پھر کتنی بےدردی سے ہم اس پودے کے خلوص کو جڑوں تک کاٹ دیتے ہیں...." میں نے بات بدلنے میں ماسٹرز کیا ہوا تھا...
"واہ ثوبی...اتنی فلسفی باتیں...؟"حلیمہ آپی نے حیرت اور تعریف کے ملے جلے جذبات سے کہا...
میں گھر میں اگر کسی سے زیادہ قریب تھی تو وہ حلیمہ آپی ہی تھیں...
ہم بھی اپنی فضول باتوں کو لوگوں کے تبصرے کیلئے صرف کردیتے ہیں، اس کے سامنے راز فاش نہیں کرتے جسے واقعی سننے کی چاہ ہوتی ہے... اسے بتانے میں ہمیں عار کیوں محسوس ہوتی ہے...
اپنے راز دنیا جہاں کے رشتوں میں بانٹ دیتے ہیں خود کو انکے سامنے ننگا کر دیتے ہیں جن سے ہماری کسی قسم کی نسبت نہیں ہوتی بس اپنے خون کے رشتوں پر کبھی بھروسہ نہیں رکھتے...وہ شرم جو خونی رشتوں میں آجاتی ہے بس وہ ہی سوچ ان رشتوں کے اعتماد کی مقتول ہے...
اسکول کالج کی فیس مانگتے باپ سے شرم کیوں نہیں آتی۔
بہن سے اس کی کوئی شے مانگتے شرم نہی آتی۔
ماں سے کھانا مانگتے شرم نہیں آتی۔
اپنے اندر ہونے والی تبدیلیاں اور نئے جذبات کے پیدا ہونے پر ہمیں شرم محسوس کیوں ہونے لگتی ہے۔
"اچھا اب جلدی سے کچھ بنا دیں بہت بھوک لگی ہے..." میں نے ان کا دھیان ہٹانے کو بات بدل دی...
"اچھا بابا بنا رہی ہوں..."آپی نے میرے سامنے سے کٹی سبزیاں اٹھائیں اور اندر کچن میں چلی گئیں،،،
بہت دیر تک میںں سوچتی رہی اور آخر ایک نتیجے پر پہنچی...
🌟🌟🌟
کالج جاتے ہوئے ساجد آج پھر میرے راستے کا کانٹا بنا کھڑا تھا،میں نے اسے نظرانداز کرنے کی پوری کوشش کی مگر اس نے میرا راستہ روک لیا...
"تو کیا جواب ہے جناب کا...؟" ساجد نے معنی خیزی سے میرے چہرے پر اپنی نگاہ جمائی، اس کی نگاہوں کی گرمی مجھے اس قدر چھبی کہ میں نے طیش میں آکر اس کو دھکا دینے کی ہمت کر لی تو وہ میری اس جرات پر مجھے حیرت سے دیکھنے لگا...میرا چہرا بے تاثر تھا، 
"میں نے وہ خط پھاڑ دیا تھا مجھے نہیں پتا اس میں کیا لکھا تھا..." میں نے اس کو جھڑک دیا...
"میں تم سے پیار کرتا ہوں، تمھارے لئے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں..." وہ دیوانہ وار کہنے لگا...
"پر میں تم سے پیار نہیں کرتی خدارا میرا راستہ چھوڑدو...." میں نے دونوں ہاتھ جوڑتے تقریباً چیخ کر کہا...
"میں اپنی جان دے دوں گا..." ساجد ناجانے کیا کچھ کہہ کر دھمکاتا رہا مگر میں جان بوجھ کر بہری بنی رہی...
میری ایک ایک قدم کی مسافت اسے دور کیے جارہی تھی کہ اس کی درد بھری آہ پر میں واپس پلٹی...
اس کے ہاتھ میں موجود تیز دھار بلیڈ خون سے تر تھا جس سے وہ اپنی کلائی پر اندھا دھند کٹ لگا رہا تھا، وہ خود کو اس قدر تکلیف دینے میں مگن تھا کہ دور سے دیکھتا شخص یہی قیافہ لگاتا کہ وہ اپنی کلائی پر لگا کچھ صاف کر رہا ہو...
میں واپس دوڑی اور بے اختیاری میں اس کا ہاتھ پکڑ لیا، بلیڈ چھین کر دور پھینکا...
چھینتے ہوئے میں نے اپنی انگلی بھی متاثر کردی مگر اس کا زخم دیکھ کر مجھے اپنا درد محسوس نہی ہوا۔
اس کی آنکھیں دھیرے دھیرے بند ہو رہی تھیں میں نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اس کی کلائی پر کس کے باندھا...
مرد محبت کو حاصل نہیں کرتا خریدتا ہے کبھی قیمت لگا کر تو کبھی احساس کے سکے مار کر، چھین بھی لیتا ہے اور پانے کے لئے ہر حد سے گزر جاتا ہے، بس ایک اظہار سننے کیلئے ناٹک کا لمبا سفر بھی کر سکتا ہے اور جب محبوب قائل ہوجائے گرفتار ہوجائے بس پھر پل میں محبت کی قسمیں دے کر اپنی اجرت حاصل کرلیتا ہے.اس کے مقابل عورت محبت کرتی ہے مگر خاموشی سے.اظہار نہیں کرتی مگر جب صنف نازک دیکھے کہ کوئی اس کی وجہ سے خود کو تکلیف دے رہا ہے تو پھر چاہے وہ لوہے کا دل رکھتی ہو اس پاگل پن کی بھٹی میں پگھل ہی جاتی ہے...
میں نے ایک رکشہ روک کر اسے سہارا دیا اور بٹھا کر اسپتال لےگئی، میں اتنی متفکر تھی کہ یہ بھی بھول گئی تھی آج پہلی بار میں کالج بنک کر رہی ہوں...
میرے لباس پر جگہ جگہ خون کے دھبے لگ گئےتھے...
مرد محبت میں صرف دل کا سودا کرتا ہے جب کہ عورت کا عشق سراپا ہوتا ہے اسے خود کو دینا پڑتا ہے...
🌟🌟🌟
میں اس الجھن میں گھر اطلاع دینا بھول گئی کب شام ہوئی مجھے کوئی خبر نہیں تھی...
ساجد کو ہوش آیا تو اسکے سرہانے میں بیٹھی تھی... میں نے خود کو محبت کی خاطر پامال کر دیا تھا.. میں نے اپنی شرم و حیا نامحرم کیلئے وقف کر دی تھی...
"میں جانتی ہوں آپ اپنی محبت کا احساس دلا رہے تھے مگر آپکا یہ طریقہ غلط تھا. ہاں مجھے آپکی محبت پر یقین آچکا ہے لیکن ایسے کرنے سے میری بدنامی ہوگی، آپ سے گذارش ہے کہ آپ آئندہ ایسا مت کیجیئے گا، چلتی ہوں اپنا خیال رکھیئے گا..." میں وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی...
ساجد نے کچھ بھی کہنے کے بجائے خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت جانی مگر اس کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی...
لڑکوں کو کیوں لگتا ہے کہ لڑکی کے دل کو فتح کرلینا دنیا کا سب سے بڑا کارنامہ ہے...
یہ مسلسل حماقت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ایک عورت بے رحم نہیں ہوسکتی، تکلیف میں دیکھنا اور چپ رہنا عورت کی فطرت نہیں اور یہ محبت نامی امتحان یہاں عورت کا صبر آزماتا ہے...
دو ہی کام ممکن ہوسکتے ہیں یا وہ رہ جائے گی یا بہہ جائے گی...ننانوے فیصد بہہ جانے کا امکان ہوتا ہے....
🌟🌟🌟
گھر پہنچ کر میں نے دیکھا کہ سب گھر والے سخت پریشانی اور بے صبری سے میرے منتظر ہیں..
"کہاں تھی تم...؟" امی نے میرا ہاتھ پکڑا اور تقریباً گھسیٹتے ہوۓ اندر کر گئیں...
حلیمہ آپی کی لال ہوتی آنکھیں بتارہی تھیں کہ وہ روتی رہی ہیں..
"کہاں سے آئی ہو...؟" ابو نے بھی مشکوک نگاہوں سے میری طرف دیکھ کر سخت لہجے میں کہا...
"و..وہ...اک...اک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اور اسی مریض کو اسپتال تک پہنچانے میں دیر لگ گئی میں وہیں رک گئی تھی تھوڑی دیر..."میں نے خوفزدہ سی ہوکر یقین دہانی کروانی چاہی..
میری کمزور اور لاغر سی آواز کو دیکھ کر سب کے دل نرم ہوگئے اور سب کے جیسے رکے ہوئے اوسان بحال ہوئے تھے...
"بیٹا بتانا تو چاہئیے تھا نا اور یہ خون...؟" تحمل سے کہتے امی کی نظر میرے کپڑوں پر لگے خون کے دھبوں پر پڑی....
"امی یہ اسی مریض کا خون ہے..." میں نےصاف گوئی سے کہا..
وہ خون ان کے لئے کسی نیکی کا ثبوت تھا اور میرے لئے محبت کی مہریں تھیں، وہ میرے لباس پر پیوست چھینٹے کسی کا خلوص تھا...
میرے لفظوں سے زیادہ لہجے سے میری سچائی سگریٹ کی راکھ کی طرح جڑ گئی تھی..
"اچھا اندر جاکر چینج کر لو اور آئندہ اس طرح بغیر مطلع کئے کہیں مت جانا..." ابو ہموار لہجے میں بولے...
میرا دل بیٹھا جا رہا تھا نہ جانے وہ کیوں ایسا کر رہا ہے، کیا اتنی ہی محبت کرتا ہے وہ مجھ سے؟ 
مرد کی محبت کی مثال یوں ہے کہ جیسے کہ سمندر میں بھٹکتی ہوئی کشتی ہو جسے جہاں کنارہ نظر آئے وہیں اپنی ساری توجہ گاڑ لیتا ہے۔۔
اور کنارہ جو بھی ہو مرد کو کنارے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے برعکس عورت جس کی محبت کنارے جیسی ہوتی ہے وہ ساکن ہو جاتی ہے، اپنے دل کی زمین پر آنے کی اجازت دے دیتی ہے مگر کشتی کے ساتھ آگے نہیں جاسکتی...
مرد جانے کتنے کنارے چھوڑ کر آیا ہوتا ہے...
میرے جسم میں عجیب سے جذبات ابھرنے لگے، بےچینی سےنیند نہیں آتی تھی، کھانا بھی کم کھایا جاتا، شاید میں ہر ہر پل ساجد کو سوچتی تھی اور رفتہ رفتہ میں اس کی جانب مائل ہونے لگی...
ایک ہفتے بعد وہ پھر وہاں کھڑا نظر آیا، اب مجھے اس کی نظروں نہ ہی اس کے حلیے سے کوئی مسئلہ تھا...
🌟🌟🌟
وہ چودہ فروری کا دن تھا....
یہ دوسری بار تھا..میں نے کالج سے چھٹی کی تھی...میں ایک عالیشان ریسٹورنٹ میں بیٹھی تھی اور میرے مقابل ساجد بیٹھا ہوا تھا...
اسنے میرا ہاتھ چاہت سے تھاما...
میری حیا نے ایک آخری بار سانس بھری تھی...
وہ میری حیا کی آخری ہچکی تھی...جب ساجد نے میرا ہاتھ چوما تھا...اسنے ناجانے کتنی قسمیں میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھائیں تھیں...اور مجھے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا وعدہ کرلیا تھا...
مجھے ساجد کے بنا دنیا اب بےمعنی لگنے لگی تھی...
ساجد کے بنا میں سب سے چڑچڑی سی ہوکر بات کرتی تھی...
🌟🌟🌟
"ثوبیہ آکر کھانا کھالو.."حلیمہ آپی پیار سے بولیں...
"میرا من نہیں ہے..."میں نے بیزاری سے کہا...
"من کیوں نہیں ہے..آج کل تم کھانا کم کھارہی ہو...کوئی بات ہے کیا..."حلیمہ آپی نے فکرمند ہوکر کہا...
"آپی بھوک نہیں ہے کہہ دیا ہے جب..."میرے وہ لفظ زخمی کردینے والے تھے...
وہ مزید بحث کرنے کے بجائے مجھے اکیلا چھوڑ کر باہر چلی گئیں...
جب میں نے محبت کر ہی لی تھی...
آگ کو چھونے ہی لگی تھی میں...
تو اپنوں کو ہی اس جلن کا احساس دلانا تھا نا...
مہنگے مہنگے تحائف میں چھپا کر گھر لے آتی اور اپنے وارڈروب میں جمع کرتی رہتی...
ہمارا خط و کتابت کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری تھا..
میرے کہنے پر اسے اپنا حلیہ بھی کافی حد تک بدل لیا تھا...
میرے بدلے تیور دیکھ کر میری ہم جماعت دوستوں سے بھی میری کافی بحث ہوچکی تھی...
میں کالج میں بھی اسکے خط کھول کر پڑھ لیا کرتی تھی...
جو وہ مجھے صبح دیتا تھا...اور ایک خط لکھ بھی لیتی جو جاتے ہوئے اسے دے جاتی...
ہماری محبت میں اس قدر قرار تھا کہ اب ہم ایک دوسرے کے بنا جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے...
میرے لیئے اب وہ کالج نہیں بلکہ جیسے محبت کرنے کا ٹکٹ تھا...آتے جاتے ہم خط کا تبادلہ کرتے تھے...ہم ہاتھوں میں ہاتھ پکڑ کر چلا کرتے تھے...
🌟🌟🌟
ایک دن گھر آکر مجھے معلوم ہوا کہ حلیمہ آپی (جو کہ خالا کے بیٹے کے ساتھ منسوب تھیں) کی شادی سب اس ہی ہفتے کرنے کے خواہشمند تھے....
یوں اچانک شادی کی خبر سن کر میں زیادہ چونکی نہیں تھی...
نا ہی میں نے کوئی خاص توجہ دی تھی...
میں تو آج کل اپنے ہی خمار میں جھومنے لگی تھی...
پھر وہ وقت بھی آیا جب میں نے ساجد کو بھی حلیمہ آپی کی رخصتی میں بلایا...
آپی رخصتی کے بعد اب اپنے گھر کی ہوگئی....اور گھر میں جو کمرہ میرا اور حلیمہ آپی کا تھا اب صرف میرا ہو کر رہ گیا تھا...
پڑھائی کرنے کے لیئے تو مجھے بیٹھک دی گئی تھی لیکن سونا مجھے حلیمہ آپی کے کمرے میں پڑتا تھا...اب ابو دن بھر کام پر گئے ہوتے اور امی گھر کے کاموں میں مصروف رہتیں...مجھے ساجد نے بضد ایک موبائل فون تحفے میں دے دیا ...ہم دونوں رات رات بھر جاگ کر باتیں کیا کرتے تھے...زندگی میں محبت ہمیشہ گپ شپ سے شروع ہوتی ہے اور پھر اس محبت کو عادت بنتے وقت نہیں لگتا ہے اور پھر اس عادت کو علت بنتے....
اور علت بھی لاعلاج علت...
حلیمہ آپی جب گھر رکنے کے لیئے آئیں تو میں نے اپنا موبائل چھپا کر رکھ دیا...
گھر میں کسی کو بھی اس بات کا علم نہیں تھا کہ میں نے ایک موبائل چھپا کر رکھا ہوا ہے....
ہفتے میں کئی بار ایسا ہوتا کہ میں کالج جانے کے بجائے ساجد کے ساتھ گھومنے نکل جاتی تھی...تعلیم میں دھیرے دھیرے کر کے ایک طویل خلیج دھڑلے سے آن پڑا تھا...اب میں مکمل آزادی سے ساجد سے ملا کرتی تھی...جب دل کرتا کالج بنا کسی خوف و خطر کے بنک کردیا کرتی تھی...
ایک بار تو میری جان پر بنی تھی جب ابو کالج میں میری ماہانہ کارکردگی دیکھنے آئے اور میں کالج میں نہیں تھی...
"کالج کے وقت کہاں تھی تم..."ابو کی گرجدار آواز سن کر میرے رونگھٹتے کھڑے ہوگئے...
"وہ سمیرا کی طبیعت خراب ہوگئی تھی تو میں اسے گھر چھوڑنے گئی تھی...پھر ادھر ہی تھی..."میں نے بہت صاف گوئی سے امی ابو کی آنکھوں میں دیکھ کر سفید جھوٹ بولا تھا...
وہ پریشان تھے یا مجھ پر اتنا بھروسہ تھا کہ کھلی آنکھوں سے میرے بے کار سے جھوٹ پر بھی مجھ پر اندھا اعتبار کرلیا گیا....
🌟🌟🌟
ہمارا آپس میں ہنسی مذاق نا جانے کب بے تکلفی میں تبدیل ہوا معلوم نہیں ہوا...
محبت کی بے موسم بارش میں ہم دونوں ہی لطف لے رہے تھے....
حسن کا وہ مندر ہو تم جہاں کا مکین ہوں میں...
حیرت ہے اس راہ پر خدا کے نقشِ پا دیکھے ہیں...
ساجد مجھ سے محبت نہیں کرتا تھا بلکہ جیسے میری عبادت کرتا تھا اور اس طرح کے خود سے تحریر کیئے گئے شعر کے ذریعے بھی میری تعریف کرنے میں لگا رہتا تھا...
یہ شعوری طور پر ایک ہوش و حواس والے انسان کے لیئے کھلم کھلا شرک ہے...
شرک ہی کیا توہینِ خدا بھی ہے...
خدانخواستہ وہ اس قدر گمراہ تھا جو خداوند کو میرا محبوب تصور کرنے لگا تھا...
میں نے کتنی بار ہی اسے ٹوکا کہ شرک نہ کرو میری ذات کو اس قدر بھی انمول نہ بتاؤ میں گناہ گار ہوں مگر اس کا جواب نہایت توصیفی اور عاشقانہ ہوتا کہ مجھے ہمیشہ لاجواب کر دینے کے لیئے کافی تھا...
وہ میرے اس قدر جھجک کا موقع پا کر مزید میری تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملانے لگتا...انہیں تعریفوں نے مجھے پر لگادیئے اور پھر سب رشتے میں نے کب فراموش کیئے پتہ ہی نہ چلا...میں اس کی محبت میں اتنا آگے بڑھ چکی تھی کہ مجھ پر چھائی گمراہی کا رنگ مہندی کے رنگ سے زیادہ شوخ تھا...
مجھے شادی سے کوئی سروکار نہ رہا نہ ہی ایسی کوئی ضمانت مانگی...
میں نے دہلیز پار کی...
🌟🌟🌟
مسلسل نقطوں کی لمبی قطار ایک حد پر ختم ہوگئی...
جیسے ادھورا کچھ رہ گیا ہو...
اس نے ڈائیری بند کردی...
آنکھوں پہ جمی نمکین پانی کی تہہ کو ہتھیلی سے صاف کر کے وہ باہر چلا گیا...
بے اختیار بدبداتے ہوئے وہ جیپ خلافِ معمول دوڑارہا تھا...
بے صرفہ وہ قیافے اور آگے کی کہانی کو اپنی سمجھ کے مطابق سمت دے رہا تھا..
گھر آکر وہ پر سوچ گہرائیوں میں غرق تھا...اسےمعلوم نہ ہوا کب اس کے ہاتھ میں پکڑے سگریٹ نے اس کا ہاتھ جلا دیا...
جلن کی شدت سے وہ سوچوں کی دنیا سے ہوش کی نگری کی جانب لوٹا....
رات بھر کرسی پر بیٹھے بیٹھے وقت بھاگتا دوڑتا گزرا...
اندھیروں نے اجالوں سے سلام دعا کر کے رات بھر کی ڈیوٹی کا چارج اب اجالوں کے حوالے کر دیا۔
اور ۱۲ گھنٹوں کی نائیٹ ڈیوٹی کے بعد اندھیرے نے آرام کے لیئے اپنی منزل پکڑ لی۔
🌟🌟🌟
صبح اسی بیزار سی حالت میں وہ اٹھا...منہ دھوئے بغیر ہی باہر چلا گیا...اپنی جیپ کو اُڑاتے ہوئے وہ سینٹر جیل کی جانب گیا...
"لاسٹ کیس میں جس لڑکی سے بحث ہوئی تھی میری کیا نام تھا اسکا...وہ قینہ۔۔۔۔"خاکی وردی میں ملبوس اسنے سوچتے ہوئے اپنی پیشانی مسلی جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہا ہو...سامنے بیٹھے کونسٹیبل نے جلدی سے فائل پر انگلی دوڑائی...وہ ابھی تک سوچ رہا تھا....
"سر مل گیا...گلناز خانم.."
"ہاں مجھے اس سے ملنا ہے...لاؤ اسے"وہ بےتاثر سا چہرا لیئے کھڑا تھا...
تھوڑی دیر بعد وہ ایک وسیع کمرے میں ایک کرسی پر بیٹھا تھا...
اسکے سامنے گلناز کو لاکر بٹھا دیا گیا...
"تم جاؤ..."
اس کانسٹیبل کو حکم ملتے ہی وہ باہر کی جانب چلا گیا....
"میں نے آپ کی ڈائری پڑھی ہے ثوبیہ...میں اس میں رہی آدھی ادھوری کہانی کو سننا چاہتا ہوں..."اسنے التجا کی...ہمدردی سے اس نےسرجھکائے رکھا۔
وہ چپ بیٹھی رہی...
"میں نے جب سے وہ ڈائری پڑھی ہے میں سو نہیں سکا..."اسنے ثوبیہ کی ڈائری اسکے سامنے میز پر کھول کر رکھ دی...
"میں ادھوری کہانی نہیں چھوڑسکتا۔"
اس سے ابھی بھی بولا نا گیا...
وہ کافی دیر خاموش رہی اور پھر...
"رنڈی بنا کر رکھ دیا ہے اس عشق نے تو...میں جو کبھی معشوق تھی..کسی کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی...اسی مرد نے میرا تماشہ بنا کر رکھ دیا...مجھے خدا کے برابر سمجھنے والا میرے جسم کا پجاری نکلا.." وہ بہت ہموار لہجے میں بولی۔
"مطلب ساجد نے..."اسنے سوالیہ نظروں سے ثوبیہ سے تصدیق چاہی....
اسکے بےبس سے تاثر بتارہے تھے کہ وہ اس ہی کی بات کررہی ہے...
"عشق قربانی مانگتا ہے صاحب.."یک دم ہی اسنے سر اٹھا کر ثوبیہ کو دیکھا....
"عشق بذات خود بےوفا ہے...ہم عاشقوں سے قربانی مانگتا ہے اور پھر خود...خود بےوفائی کردیتا ہے..."ثوبیہ کے لہجے میں صدیوں کی تھکاوٹ تھی...
"مجھ سے میرے گھر والے..میری عزت...میرا سب کچھ مانگ کر...جب دہلیز پار کروائی...کسی دور مقام پر جا کر عشق نے جسم بھی مانگ لیا..."اسکی آواز بھر آئی تھی...
"مطلب...اسنے دھوکہ دیا تھا..."حنان چونکا...
"نہیں میں نے دھوکا دیا...خود کو...اپنے گھر والوں کو...اس دنیا کو...اپنے ضمیر کو...اور...اور اپنے رب کو..."اس نے یہ الفاظ چبا چبا کر ادا کیئے تھے...
ساتھ ہی اسکی آنکھوں سے ندامت کے آنسو چھلک پڑے...
"پھر کیا ہوا تھا..."
"میری عصمت کو پامال کر کے وہ مجھے چھوڑ گیا..."
"میں نے کبھی غور وفکر نہیں کی تھی...مگر اس دن شدت سے ایک بات پر غور و فکر کر کے ایک خیال کو تخلیق کیا کہ جب کسی راستے پر کامیابی کی جانب جائے تو جاتے وقت کسی شخص کے ساتھ دھوکا یا فریب نا کرے...کسی کا دل نی دکھائےکسی کو نقصان نا پہنچائے...کیا پتہ اسے اس راستے سےناکام لوٹنا پڑ جائےان ہی سب کو دوبارہ منہ دیکھانا پڑجائے"وہ کھوئے کھوئے انداز میں کہہ رہی تھی...
حنان سے کوئی خاطر خواہ جواب نا بن پایا تو وہ چپ رہا...
"میں نے اس راستے پر جاتے جاتے اپنی ماں باپ بہن کو اس قدر دکھ دیئے تھے...کہ جب میں اسی راستے سے لوٹ کر آئی تو سارے راستے بند ہوچکے تھے..."ثوبیہ نے جیسے ہی کسی کو اپنی کہانی سننے کے لیئے متوجہ پایا وہ روانی سے کہتی چلی گئی...حنان بغور اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا....
"بس پھر جہاں پناہ ملی وہاں مفتا نہیں چلتا تھا صاحب بلکہ اپنا جسم بیچنا پڑتا تھا ناچنا پڑتا تھا...اور پھر وہاں سے بھی آپ لوگ یہاں لے آئے..."ثوبیہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی...
"ناجانے اب زندگی کس موڑ کی جانب چل پڑی ہے...کہاں منزل ہوگی اگلی..."اسنے شاعرانہ انداز میں کہا...
"تم دارالامان میں بھی تو جاسکتی تھی...یہ کرنا لازم تھا..."
"صاحب میں تو عشق سے ناواقف تھی...ساجد کا عشق دیکھا تھا بس...یہ جو عشق جسموں کا ہے اگر یہی عشق ہے تو میں بے وفا نہیں ہونا چاہتی...اسی عشق کی عبادت کرتی ہوں اب..."اسکا لہجہ اب بیزاری سا ہوگیا تھا...
"کہاں جارہی ہو رکو..."حنان نے اسے جاتے دیکھا تو روکا...
"صاحب آپ کی کہانی پوری ہوگئی..."ثوبیہ نے کہا اور اس کمرے سے نکل گئی..
پنکھے کی ہوا سے اس ڈائیری کے پنے پلٹتے گئے..
پہلے صفحے پر لکھا تھا..
"عشق جسموں کا..."
ازقلم گلناز خانم
(ختم شدہ)

No comments

Powered by Blogger.