Afsana#02 | Dhalti sham | HaaDi Khan

ڈھلتی شام
ازقلم ہادی خان
شام کا وقت تھا،
آسمان کے کناروں پر سرخی پھیلی تھی،،،
سورج سر سے پھسلتے پھسلتے عقب کی جانب جھک رہا تھا...
گاڑیاں اپنی اپنی منزل کی طرف گامزن تھیں...
کچھ تیز تو کچھ مدہم رفتار میں من موجی سی،،،،
ایک کامل تمکنت ماحول میں چاروں اور پھیلی تھی...
آج ہفتے کا دن تھا،
کوئی قرابت داروں سے ملنے تو کوئی پورے ہفتے کی تھکن لیئے گھر جا رہا تھا...
پرندوں نے اپنے اپنے گھروں کی طرف منہ کر لیا...
دو لڑکیاں چپکی ہوئی پینٹ اور لمبا کُرتا جو کہ گُھٹنوں سے بھی نیچے تک لٹکا ہوا تھا دو کتابیں سینے پر ہاتھوں کے حصار میں لیئے یونیورسٹی کا بیگ کندھے پر پہنے بڑی بے نیازی سے کھڑی تھیں...
گلے میں پڑا ڈوپٹہ باقاعدہ نکھر کر تربیت ظاہر کر رہا تھا...
غالباً وہ دونوں انتظار کر رہیں تھیں...
ایک نے اپنی عینک درست کی جو پہلے سے درست تھی اور دوسری لڑکی نے اپنی گھڑی دیکھی تھی...
ایک جھلک میں اس نے یہ منظر دیکھا تھا...
کیا ان کے بھائی نہیں ہوں گے؟
والد؟
والدہ؟
کوئی پوچھنے والا؟
ان خیالات کے آتے ہی اس کی نظر دوبارہ اسی جانب گئی...
خیر ان سب کو کیا پتا ہوگا...
یہ تو ان کے بھروسے کا نتیجہ ہے...
اس نے سر جھٹکا اور افسوس کیا...
دل میں ہمدردی کے جذبات پیدا ہوئے کہ ان کا کیا بنے گا مگر وہ غلطی پر تھا...
اس نے دیکھا ہی کیوں؟
اسے برا لگا تو اس نے دیکھا کیوں؟
اچانک ایک چوڑا چکلا خوش شکل شخص ورزش والے کپڑوں میں ملبوس پاس سے بھاگا...
اس کا پیچھا کرتی ہوا منہ کو چھو گئی....
وہ ہوا کوئی قفیہ سنا گئی جیسے...
ان کے اوسان خطا ہو گئے...
ِحداثت سن لڑکا مڑا...
خاصا حسنیٰ ظاہر ہو رہا تھا...
"امی میرا ہاتھ پکڑ لیں،،،" تیز اور بڑھتی رش دیکھ کر اس نے ہاتھ آگے کو بڑھایا...
بدتمیز عوام عیدالاضحیٰ کے بے لگام جانور کی مانند رسا تڑا کر بگڑ چکی تھی،
اب فٹ پاتھ بھر چکا تھا...
آتے جاتے خبنا لوگوں کو کیا معلوم دوسری جانب فٹ پاتھ بھی انسانوں کے لیئے تعمیر کیا گیا ہے..
ایک طرف آنے اور دوسری طرف جانے کے لیئے ہے...
دونوں اطراف قابلِ استعمال ہوتے ہیں...
مگر یہ کسی کے لیئے واک ٹریک ہے تو کسی کے لیئے آنے جانے کا رستہ...
بعض آدم ذات تو مبادرت میں کسی کا خیال نہیں کرتے اور دوسروں کو دھکے دیتے آگے بڑھتے ہیں...
انکی سانس پھولنے لگی تھی....
جب سے ان کو سانس کی بیماری نے جھکڑا تھا وہ بس کچھ دیر ہی چل پاتی تھیں...
آرام کرنے کے لیئے سڑک کے ایک کنارے پر انتظار گاہ بھی بنائی گئی تھی....
عموماً مسافر ہی وہاں قیام کرتے تھے...
وہ انھیں وہاں لے گیا...
شام کی سرخیاں چاروں طرف چھا چکی تھیں....
نظروں کی حد کے آخری کونے پر ایک بہت بڑی عدالت تھی....
ایک نظر دیکھا تو اب وہ دو لڑکیاں بالکل اسکے سامنے سڑک کے اس پار کھڑی تھیں....
ایک جھلک دیکھنے کے بعد اگلے لمحے نظر پھر اس عورت کی جانب گئی جن کا سانس پھول گیا تھا...
"امی میں پانی لے کر آتا ہوں.."
وہ اٹھا اور پاس کی ایک دکان سے پانی لینے کے لیئے چلا گیا...
اسنے کہا اور جواب سنے بغیر ہی اس چھپڑے سے باہر نکل آیا تھا...
وہ ایک غیر مرئی نقطے کو دیکھنے لگی تھیں...
جہاں پر نا کوئی چیونٹی تھی نا کچھ اور...
ہاں پاکستانی عوام کے اثرات وہاں پائے گئے تھے..یعنی کے "کچرا"...
یہ وہ ثبوت تھا جو پاکستان میں ہونے کا یقین دلاتا رہتا تھا...
اب اس چھپڑے نما آرام گاہ میں صرف ایک عورت رہ گئی تھی اکیلی...جو منتظر تھی...
چند ایک سانیوں کے بعد چاپ سنائی دی تھی...
تین طرف سے بند وہ کمرہ نما آرام گاہ جس کی ایک طرف کھلی تھی جس سے روشنی باآسانی اندر آرہی تھی...روشنی کے اندر آنے میں مداخلت ہوئی..کچھ اندھیرا سا چہرے پر پڑا...جب وہ اندر آگیا تو روشنی کو راستہ میسر ہو گیا..بس اسکے آنے سے دو پل کے لیئے زرا سی سیاہی چھائی تھی...
ابرو اٹھا کر دیکھا...
وہ لڑکا برق رفتاری سے اندر کی جانب آیا...
"یہ لیں امی پانی پئیں..."
وہ لڑکا بہت تابعداری کے ساتھ سامنے گُھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا...
پانی تھامتے ہوئے انھوں نے اسکے گال کو سہلایا تھا...
"ادھر اوپر بیٹھو حمزہ..."
انکی سانسیں اب نارمل تھیں...
"تم ہمیشہ پوچھتے تھی کہ تمھارے ابّا کی موت کیسے ہوئی تھی..."
وہ ہمیشہ جس بات کو ٹال دیتی تھیں...آج بہت عرصے بعد اسی بات کا تذکرہ کرنے لگی تھیں...
"ہاں امی آپ نے کبھی بھی نہیں بتایا..آج بتا دیں.."
حمزہ تجسس سے بولا...
"یہی وہ سڑک تھی..جہاں ہم ایک ہوئے تھے..."
وہ رکی پھر جملا مکمل کیا...
حمزہ بہت دھیان سے انکی بات سن رہا تھا...
جیسے کوئی راز کی بات آج کھل رہی ہو...
"یہاں بلکل ایسے ہی شام کا منظر تھا...جب وہ وہاں میری رخصتی ہورہی تھی..."انکا اشارہ نظروں کی حد کہ آخری کونے پر تھا... جہاں پر ایک بہت بڑی دو منزلہ عدالت تھی...
"وہاں سے..."وہ حیران ہوا...
"ہاں وہاں سے.."ایک بار پھر سے انھوں نے یقین دہانی کروائی...
"وہ تو.."وہ کہتے ہوئے رکا...
اسکی توجہ کا مرکز وہ بڑی عدالت تھی....
مگر اسے حسِ وہمہ سے محسوس ہوا..
"اوہ امی رکیں..."
"ہاں کیا ہوا.."وہ چونکی...کیونکہ یہ وہ جوابات تھے جن کو انھوں نے حمزہ کے بچپن سے اپنے اندر دفن کر کے رکھا ہوا تھا...
"میں یہ گلاس دے آؤں.."
انھوں نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ دکاندار بہت غصے میں نظر آرہا تھا...
اور مسلسل اشارہ کر رہا تھا...
خدا معلوم گالیاں بھی دی ہوں گی...
دورِ حاضر میں مدد تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن اسے جتایا بھی جاتا ہے...
رہتے دو گھونٹ بھی انھوں نے ایک سانس میں پی لیئے تھے...
"الحمداللہ"زیرِ لب وہ بڑبڑائی...
وہ اٹھا اور گلاس لے کر گیا...
وہ لڑکیاں ابھی بھی اسی جگہ پر کھڑی تھیں...
لیکن اب وہ گاڑی کا انتظار نہیں کررہیں تھیں..وہ تو ایسے کھڑی تھیں جیسے کسی نے مجسمہ بنا کر رکھ دیا ہو...
اور دونوں اب گردن جھکا کر اپنے موبائل فون میں مدہوش تھیں....
وہ انکو نفرت کی نگاہ سے ہی دیکھ رہا تھا...
سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر جسم کی نمائش کی جارہی تھی...
اب رہتا حصہ سورج کا بادلوں کی چادر میں چھپ چکا تھا...
وہ واپس آیا تو حسبِ معمول ماں کو کھویا پایا...
ساتھ آکر بیٹھا تو وہ ایک جھٹکے سے خیالوں کی دنیا سے نکلی...
انھیں نہیں پتہ چلا تھا کے وہ کب گیا اور کب آیا...
"ہاں امی اب بتائیں.."بیٹھتے ہوئے اس نے نہایت فرمانبرداری سے پوچھا...
"ہاں...کیا.."وہ ہڑبڑا گئیں..
"امی عدالت میں کیسے ہوئی آپکی رخصتی..."
"جب تمھارے ابّا سے میری شادی ہوئی تھی تو یہاں پر ایک عالیشان محل جیسا شادی ہال تھا..."وہ دوبارہ سے بتانے لگیں تھیں...
"اوہہہ...اچھاااا...تبھی میں سوچوں عدالت میں کیسے...سمجھ گیا..سمجھ گیا.."وہ بےخیالی میں بول پڑا...
"ہاں ہال میں میری رخصتی تھی..بہت خوبصورت دن تھا..."
"میری زندگی کا سب سے بہترین دن تھا..."
اب اسکا تجسس بڑھتا گیا...
اسکی نظر پڑی تو سامنے کھڑی دونوں لڑکیاں اب کِھل کِھلا کر ہنس رہی تھیں...
اس نے پھر سرجھٹکا اور خود کو وہاں دیکھنے سے منع کردیا...
"میری زندگی میں ہر چیز صحیح تھی...سب اچھے سے جارہا تھا..تمھارے ابّا نے مجھے بہت محبت دی..اور بہت عزت بھی لیکن.."وہ مسکرا کر بتارہی تھیں..لیکن اچانک سے رک گئیں...
"لیکن کیا امی.."اسکا تجسس اور بڑھا تو اسکے منہ سے بےاختیار نکلا...
"میری شادی کے ایک مہینے بعد تمھاری پھوپھو کی منگنی ٹوٹ گئی تھی..."وہ افسوس سے مسکرائی...
"تو اسکا آپ سے کیا تعلق.."حمزہ بچوں کی طرح پوچھنے لگا...
"اسکا ذمہ میرے سر آیا..تمھاری دادو نے وہ الزام مجھ پر لگا دیا اور مجھے منحوس کا لقب دے دیا..."وہ اس بات کو دہرا کر اداس ہوگئی تھیں...
"یہ تو غلط بات ہے اس میں آپکا تو کوئی قصور نہیں..."حمزہ حمایتی بن کر افسوس کر رہا تھا....
"کسی کو دلیل دینی پڑتی ہے..کسی کو بس قصہ صاف گوئی سے بتانا پڑھتا ہے....نایقین کرنے والا تمھارے آنسو بھی جھٹلا دے گا...یقین کرنے والا تمھارے لہجے کو محسوس کرلے گا اور تمھارا طرز بھی پڑھ لے گا...یہی تو میری زندگی تھی جو بد سے بدتر ہوتی گئی تھی..."وہ کسی سے گلا نہیں کررہی تھیں بلکے اپنی قسمت پر بین کررہیں تھیں...
"امی ابّا کی موت کیسے ہوئی..آپ بات کسی اور طرف لے کر جارہی ہیں..."حمزہ سے اب رہا نہیں گیا تو بول پڑا...
"بتاتی ہوں..بتاتی ہوں.."انھوں نے دونوں ہاتھوں سے مکّے بنا کر اپنی آنکھوں کو مسلا...
اب ایک اور خاتون ان دونوں کے ساتھ والے بینچ پر آکر بیٹھ گئیں..
امی کے مقابلے وہ کافی بڑی تھیں..
شاید حمزہ اور اسکی امی کی عمر ملا کر ان خاتون کی عمر بنتی ہو..
جن کے آنے کی وجہ سے انکی بات میں رکاوٹ آگئی تھی...
انھوں نے ہاتھ میں بہت سارے دس دس کے نوٹ پکڑے ہوئے تھے...
دوسرے ہاتھ میں چھڑی تھی..
وہاں مکمل خاموشی تھی..لیکن وقتاًفوقتاً سامنے سے آتی جاتی گاڑیوں کی آوازیں آرہی تھیں...
خاموشی وہاں موجود تمام لوگوں کے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئی تھی...
"بیٹا بات سنو.."اس عورت نے اپنا چشمہ درست کیا..
"جی ماں جی.."حمزہ آواز کی جانب پلٹا..
"میں نے دن بھر سے کچھ نہیں کھایا..پاس ہی تندور ہے میرے لیئے ایک روٹی لے آؤ.."وہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ میں سے نوٹوں کی ترتیب بدلنے لگیں..
"اور ان میں سے ایک دس کا نوٹ اٹھا کر سامنے کو کیا.."
"نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے میں لے آتا ہوں.."حمزہ نے صاف انکار کردیا...
وہ اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی جانب نکل پڑا..
حمزہ کے جانے کے بعد وہاں خاموشی ہی رہی تھی..
"میرا بیٹا ہے..حمزہ نام ہے اسکا.."وہ انکو متوجہ کررہیں تھیں..
"ماشاللہ بہت اچھا بچہ ہے.."انھوں نے بھی مسکرا کر کہا..
اب دونوں اطراف سے مقابل کی طرف سے بات کیئے جانے کا انتظار تھا..
انتظار مشکل ہوتا ہے اس لیے وہ بات کرنا چاہ رہی تھیں...
وہ انتظار بڑھ کر سناٹے کی شکل اختیار کر گیا...
انھوں نے آگے کو جھک کر دیکھا..
پھر کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی میں دیکھا..
دس منٹ گزر چکے تھے..
"آپ کہاں سے آرہی ہیں.."بات بڑھانے کے لیئے کلثوم خاتون نے دوبارہ موضوع چھیڑا...
"بھیک مانگ کر.."وہ ندامت سے بولیں..
کلثوم خاتون بہت حیران تھیں..اتنا سپاٹ جواب..بہت ہموار مگر دل چیر دینے والا..
ان ماں جی کو موٹی سی عینک لگی ہوئی تھی...
پھر سے ان کے درمیان خاموشی حائل ہوگئی تھی..
کلثوم خاتون انکی باتوں سے بہت زیادہ پریشان تھیں...
"کوئی اس عمر میں اس قابل کہاں ہوتا ہے..کیا انکی کوئی اولاد نہیں ہوگی.."کلثوم خاتون خود سے تصور کرنے لگیں تھیں...
اب اس انتظار گاہ میں ایک بچہ آیا تھا کچرا چننے والا..اس بچے نے جھک کر کچرا اٹھایا تھا...اور کوئی چیز اٹھا کر اپنے جیب میں بھی رکھی تھی....
"ادھر دو.."ماں جی فوراً بول اٹھیں..
وہ بچہ محتاط ہوگیا..
"کیا دے دوں.."وہ بچہ بھی تقریباً چلایا...
شاید بوڑھی عمر کی ماں جی کو دیکھ کر رعب جمانا چاہتا تھا...
"میرے ساتھ زیادہ سیان پنتی نا کرو..اور میرے پیسے واپس کرو.."ماں جی اسکے قریب آ کھڑی ہوئیں..وہ کچھ کہتا اس سے پہلے ہی ماں جی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا..
"جتنی تمہاری عمر ہے اتنے سالوں سے صرف میں نے چشمے پہنے ہیں.."انھوں نے اسکی جیب میں سے پیسے نکال لیئے تھے..
وہ بچہ دم بخود سا ہو کر کھڑا تھا...
اسکی چوری پکڑی گئی تھی..
"ایک چوری کی..دوسرا میرا حق مارا..تیسرا..تیسرا جھوٹ بولا...تین گناھ شوق سے کر لیئے یہی تمھارا کام تھا..ایک نیکی کر لیتے پیسے اٹھا کر مجھے دے دیتے..تین گناھ بہتر ہیں یا ایک ثواب..کب سمجھے گی یہ نوجوان نسل..."وہ اپنا روایتی سا غصہ کر کے نوجوان نسل کو کوسنے لگی تھیں...
وہ کیا کہتا..وہاں سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا بھاگ کھڑا ہوا..
وہ ماں جی اپنی نشست پر واپس بیٹھ گئی تھیں..
کلثوم خاتون کو ایک پل کو لگا وہ عورت اتنی بڑی نہیں ہے..جتنی ماں جی نظر آرہی تھی..
"کیا کوئی اپنے حق کی خاطر اتنا مضبوط ہوسکتا ہے.."کلثوم خاتون اپنے دل سے ہمکلام ہوئیں..
وہ سوچ ہی رہی تھیں،،،،
"یہ لیں ماں جی.."حمزہ نے ایک شاپر ماں جی کی طرف بڑھایا..
وہ اسے لے کر وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئیں تھیں...
اور چل پڑی تھی 
حمزہ نے دل ہی دل میں سوچا کی ماں جی نے شکریہ بھی ادا نہیں کیا...
"میں نے تمھیں بیٹا بولا ہے..اس لیئے تمھارا شکریہ ادا نہیں کیا..."ماں جی پلٹی اور مسکرا کر کہہ گئیں تھیں..
اس نے تو بڑبڑایا بھی نہیں تھا...
وہ سن ہوگیا....
"مگر میں نے تو دل میں کہا تھا..."
اب وہ ہونٹوں کو جنبش دیئے بغیر خود سے بات کررہا تھا...آواز انکے اندر کہیں سے آئی تھی..وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا تھا...مگر اس نے زیادہ توجہ نہیں دی تھی...دوبارہ آکر اپنی ماں کی دائیں طرف بیٹھ گیا..
"امی اب بتائیں آگے کیا ہوا تھا.."حمزہ بیٹھتے ہی دلچسپی سے بولا تھا...
"ہاں بیٹھو تو.."وہ بول کر رکیں..
"پھر تمھاری جو بڑی پھپھو ہیں ان کا بڑا بیٹا.."وہ بولتے ہوئے کچھ سوچ بھی رہیں تھیں...
"کاشان بھائی کا کہہ رہی ہیں امی.."حمزہ نے اپنے پھوپھا زاد بھائی کا نام لیا..
"نہیں انکا بڑا بیٹا بھی تھا..تم اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے..وہاب کا نام سنا ہوگا..."کلثوم خاتون کا لہجہ بہت ہموار تھا..جیسے کوئی اپنے گناہ کا اعتراف کررہا ہو..یا بہت مایوس ہوگیا ہو...
"اوہہہ..ہاں چھوٹی پھپھو سے سنا تھا..انکو کیا ہوا.."حمزہ بہت یقین سے کہہ رہا تھا...
"ہاں وہاب کی بات کر رہی ہوں...مجھے بچے بہت اچھے لگتے تھے..مجھ سے کافی پیار کرتا تھا..میں بھی اسے بڑا پیار کرتی تھی..مگر.."انکے جملے آدھے آدھے کٹے ہوئے اس لیئے تھے کہ انکا سانس پھول جاتا تھا...
"مگر..."وہ سوالیہ نگاہوں سے جواب کا منتظر تھا...
"اسے بیماری تھی...تھیلیسیمیا (Thalassemia) کا مریض تھا...جھولے میں سویا ہوا تھا..گھر میں کوئی بھی نہیں تھا..میں تھی جو کہ صفائی میں لگی ہوئی تھی..مجھے کچھ گرنے کی آواز آئی..میں دوڑ کر گئی..سامنے فرش پر وہاب پڑا ہوا تھا...اسکا سر پھٹ گیا تھا اود خون رس رہا تھا...میں نے بےاختیار چیخ ماری..."وہ سانس در سانس کہہ رہیں تھیں...ایک سانس میں ایک جملہ آدھا ادھورا...
"چوں..چوں..چوں..چوں..."چاروں پاؤں کو ہیساتا ہوا وہ درد سے کراہ اٹھا...چاروں پاؤں تیزی سے ہل رہے تھے...پھر مدہم ہوئے..پھر بلکل رک گئے...تڑپ تڑپ کر ایک چھوٹا سا کتا تیز رفتار گاڑی کے پہیےکے نیچے آگیا تھا...
موت کیا ہے..سانس کیسے نکلتی ہے..درد کس قدر ہوتا ہے...سانسیں کیسے تھمتی ہیں...
وہ ہولناک دل دہلا دینے والا منظر حمزہ اور کلثوم بغور دیکھ رہے تھے...
گاڑی بہت آگے جا کر رکی تھی...
مڈبھیڑ کی وجہ سے وہ شخص فقط دروازہ کھول کر اس جانور کے مرنے کی تصدیق کے لیئے کھڑا ہوا تھا...
کتے کی سانس کو ساکن دیکھا..
اسکے منہ سے تازہ خون رس رہا تھا...
وہ شخص دروازہ بند کر کے دوبارہ سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگیا تھا...
یہ تو جانوروں کو سوچنا چاہیئے..کہ سڑک جانوروں کے لیئے نہیں انسانوں کے لیئے بنائی گئی ہے...جب جانور انسانوں کی دنیا میں مداخلت کریں گے تو مریں گے...اسی لیئے تو جانور مرا تھا..لیکن انسانوں نے بھی اسے انسانیت کے ناطے روڈ سے ہٹانا گوارا نہیں کیا تھا...
وہاں سڑک پر جانور ہی نہیں بلکہ اس ہی سڑک پر انسانیت بھی مر گئی تھی...جہاں اس جانور کے قاتل کو کوئی ندامت نہیں تھی..اسکا قاتل بےخوفی سے اسے نظرانداز کر کے چلا گیا تھا...
حمزہ سے رہا نا گیا..
وہ اٹھا اور سڑک کے بیچوں بیچ پڑی انسانیت کی میت کو پاؤں مارتا ہوا سڑک کے کنارے لے گیا...
اسے کچرا دان میں پھینک کر اسنے فوراً چاروں طرف نظریں گھمائیں...
اسنے ریا کرلیا...
وہ اپنی نیکی کسی شخص کی داد کی محتاج سمجھ رہا تھا...
کہ کوئی اسے دیکھے اور اسے اس کام پر سراہے..
وہ دونوں لڑکیاں ابھی تک وہیں کھڑی تھیں..
ایک جاندار سا قہقہ لگا کر دونوں نے ہوا میں ایک دوسرے کے ہاتھوں سے ہاتھ ٹکرائے...
اسنے پھر سے سر جھٹکا اور جا کر اپنی ماں کے دائیں طرف بیٹھ گیا تھا...
"امی اب بتائیں کہ آخر ابّا کی موت ہوئی کیسے..."وہاں سناٹا چھایا ہوا تھا...
ابھی ابھی ایک موت ہوئی تھی...
"پھر تمھاری دادو نے مجھے منحوس کا لقب دے دیا تھا..."وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں بولیں...
"اوہہہ...یہ تو غلط ہے نا امی..اس میں آپ کی تو کوئی غلطی نہیں ہے..."وہ تاسف بھری نظروں سے انکی جانب دیکھ رہا تھا...
"اور تمھاری دادو نے مطالبہ کیا کہ تمھارے ابّا مجھے طلاق دے دیں.."وہ رنج سے کہہ کر چپ سی ہوگئی...
دونوں کے منہ پر چپ سی لگ گئی ہو..
دونوں کے ہونٹ سل گئے تھے...
"اللہ نے ایک حد بنائی ہے..جب انسان اس حد سے تجاوز کرتا ہے تو اللہ ذلت دیتا ہے...میں نے بہت منت کی..بہت معافیاں مانگیں...پاؤں پڑ کر روئی تھی ..ابھی میری شادی کو تین مہینے بھی نہیں ہوئے تھے...دو مہینے اور تیرہ دن ہوئے تھے بس...."
نم آنکھوں سے جیسے وہ کوئی داستان کوئی افسانہ سنارہی تھیں...
مگر وہ سب ان پر سچ میں گزر چکی تھی...سننے والے کو شاید ہی اس کیفیت کا اندازہ ہوتا...
"وہ مجھے طلاق نہیں دینا چاہتے تھے...مگر ماں کی فرمانبرداری پر وہ اُف تک نہیں کرتے تھے...میں پہلے بہت زیادہ روتی رہی...وہ بھی روتے تھے..کہتے تھے کلثوم میں بہت بےبس ہوں..پلِ صراط سے گر جاؤں گا اگر ماں کی نافرمانی کی تو..میں بہت بےبس ہوں..."
کلثوم خاتون کی آنکھوں سے مسلسل آنسو نکل رہے تھے...
"انھوں نے مجھے پہلی طلاق دی..."انکے یہ لفظ کہتے ہی حمزہ پر لرزش طاری ہوگئی...
بہت زوردار آندھی آئی تھی...
بہت تیز ہوا کا جھونکا آیا تھا...
حمزہ نے نظریں اٹھا کر دیکھا وہ دونوں لڑکیاں اس ہوا کے جھونکے سے متاثر ہوئیں تھیں...
لمبے کھلے کُرتے جس میں انکی عزت چھپانے کو لپٹی ہوئی تھی..اب انکا ساتھ نہیں دے رہا تھا..کُرتا اگے پیچھے سے کھلا ہونے کی وجہ سے توازن نا رکھ سکا..نیم برہنہ وہ دونوں لڑکیاں اپنا سراپا چھپانے کی کوشش میں ناکام تھیں...
یہ مغربی ثقافت سے متاثر کن لباس ہے جو عزت نہیں ڈھاپ سکتا ہے البتہ جسمانی نمائش کرنے میں عورت کی مدد بخوبی کرتا ہے....
کتابیں'موبائل اور خود کو سنبھالنا بہت مشکل ہورہا تھا..
ایک اور زبردست ہوا کا جھونکا آیا تو پچھلا پہلو سر تک ہی اچھل اڑا...
بارش کے قطرے بہت تیزی سے برسے تھے...
اور جیسے ان دونوں کو نشانہ بنا کر برسے تھے...
وہ دونوں لڑکیاں بھاگ کر اب ایک آرام گاہ میں کھڑی ہوگئیں تھیں...
جب تک آس پاس کے سب لوگ انکی عزت کا جنازہ نکلتے دیکھ رہے تھے....
کچھ اس منظر کو موبائل میں محفوظ کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے تھے...
اور کچھ نے غلیظ نظروں سے اپنے دماغ کی میموری کارڈ میں سیو کرلیا تھا...
سب لوگ گمراہی کی طرف جارہے تھے...
سب کے سب گمراہ تھے... سب کو سوچنا چاہیئے تھا کہ اُنکے گھر میں بھی ماں بہن ہیں...
کیا سچ میں سب کو سوچنا چاہیئے تھا!!
خیر حمزہ بہت تمیزدار تھا اور ایک عورت سے پرورش پارہا تھا..لیکن وہ بھی گمراہ ہوگیا تھا...
وہ سب گمراہ تھے...
"پھر جب پہلی طلاق ہوئی تھی..ہم دونوں نے اس فیصلے کو خوشی سے تسلیم کرلیا تھا کہ ہم جدا ہورہے ہیں.."سامنے زمین پر کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھتے ہوئے کلثوم بولی...
"ہاں.."وہ جیسے کسی خیالوں کی نگری سے باہر نکلا تھا...
"تیسری طلاق کے دن ہم کورٹ میں کھڑے تھے..ابھی انھوں نے مجھے طلاق نہیں دی تھی..وہاں کچھھ ڈاکیومینٹس تھے..میرے حق مہر کے.،،وہ وہاں کچھ میرے نام کرنے گئے تھے،،.وہ میرے سامنے کھڑے تھے..وہ اور میں دونوں ہی رو رہے تھے...اس دن عدالت میں ایک قتل کا کیس چل رہا تھا..ایک سیاسی شخصیت کا..میں نے ابھی انکو نہیں بتایا تھا کہ میں امید سے ہوں...وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے تھے..میں بھی روئی..وہ مجھے گلے لگانے ہی والے تھے..کہ.."
کلثوم خاتون کہتے ہوئے رک گئی تھیں..
سب کچھ رک گیا تھا...
دونوں کے جذبات آنکھوں سے بہتے پانی سے واضح ظاہر ہورہے تھے..
"ایک گولی انکے سر کہ آرپار ہوگئی تھی.."ایک زوردار بجلی کڑکی...
وہ دونوں لرز کر رہ گئے...
"میری آنکھوں کے سامنے وہ سب ہوگیا..میں کچھ سمجھ ہی نہیں سکی تھی...جہاں سے میری رخصتی ہوئی تھی..وہاں سے انکی میت اٹھی تھی.."
اب وہاں صرف بارش کی ٹپ ٹپ رہ گئی تھی..
دو انسان تھے جو شاید اس پانی کے ساتھ ہی بہہ رہے تھے...
باہر بہتا پانی آسمان کا تھا،،، ٹھنڈا،،،بہت ٹھنڈا۔۔۔۔
اندر آنسو کسی عورت کہ بہائے ہوئے تھے،،،گرم۔۔۔بےحد گرم۔۔۔
آنسؤں کو جیسے آگ پر جلا کر گرم کیا ہو...اس عورت کی بربادی کی آگ پر.... 
جو شریعت کے قوانین کو اپنے لیئے پھندا سمجھتے ہیں انہیں ان قوانین کو تجاوز کرنے پر ذلت ملتی ہے...
اندر بیٹھے دو انسانوں کہ گرم نمکین آنسو بہہ رہے تھے..
ان دونوں میں ایک کی آنکھوں میں حسرت تھی ایک کی آنکھوں میں ملال،،
مشترک جو جذبہ تھا وہ غم تھا،،،
زندگی نے الجھا کر رکھا ہوا ہے..میں عظیم احمد کی بیوہ ہوں طلاق یافتہ...
وہ آخری بار بجلی گرجی تھی..
یہاں کہانی کا اختتام ہونا تھا...
شام ڈھل گئی تھی..سورج اندھیرے کی لپیٹ میں آگیا تھا...
سب پردے اٹھ گئے تھے...
اس بارش میں سب دھل گیا تھا...
دیمک سی تھی وہ بارش...جس نے کھالیا تھا.... کسی کا ایمان..تو کسی کا ضمیر اور کسی کی الجھنوں کو..
سب دھل گیا تھا..
اب سب نظر آرہا تھا..
سب کچھ بلکل صاف صاف نظر آرہا تھا...
(ختم شدہ)

No comments

Powered by Blogger.