Afsana#03 | Des be Lagy Pardes sa | HaaDi Khan
دیس بھی لاگے پردیس سا
بقلم ہادی خان
عبدالرشید ماں باپ کا اکلوتا سپوت اور گھر کی زمہ داری کا اب اہل ہوچکا تھا...
معاشی حالات سے تنگ آکر گھر پر کچھ بن کر آنے کا وعدہ کر کے وہ دہلیز پار کرگیا...اس کی منزل کس جانب تھی لاعلم تھابس باپ سے کہ کراس بھاری رقم بصور قرض لے کر ملک سے چلاگیا۔
عبدالرشید اس عمر میں ہی پردیس چل دیا جب بہت سے بچے ایف اے کی موج مستیوں میں ڈوبے ہوتے ہیں...والد کا بڑا سا نام اسے میسر نہ تھابلکہ اس کا باپ ورثے میں ملنے والی زمین کو ہی کاشت میں لاکر اپنا بیوی اور اکلوتے بچے کا پیٹ بالتا تھا۔
وہ اسی رزق پر قناعت سے کام لیتےاور اسی کو تین لوگوں کے لیئے کافی سمجھتے۔
بنا کسی ہنر کے وہ اب پردیس آتو گیا مگر کام ملنا اور اچھا کام ملنا اس کے لیئے دردِسربن گیا۔
سرتوڑ محنت اور بےجامشقت سے وہ دھاڑیاں لگانے والے مزدور کو ماہانہ کام کی پیشکش ہوئی اس نے فوراً ہامی بھری۔
جوانی کا جنون اورگھر کے حالات نے اس میں کام کی لگن کو اور بڑھا دیا تھا۔
جو جوانی کا جوش انسان مستیوں میں لگا کر بجائے کام میں لگایا اور
گنتی کے کچھ مہینے گزرے اور اسی دورانیے میں کچھ رقم گھر آنے لگی اور حالات سنورنے لگے..غریب گھرانوں میں بچے قربان کر کے ماں اپنے لخت جگر صرف کرتی ہے تو قرضے اترتے ہیں بہنوں کی شادیاں ہوتی ہیں چار لوگ اناج کھانے کے قابل بن جاتے ہیں...یہ پنجاب کے ایک وسعی خاندان کا حصہ تھا لیکن غربت کی وجہ سے خاندان کے کافی لوگوں سے کٹ چکا تھا امیروں کو بس ایک بیماری لگ جاتی ہے پیسے کو اپنا خدا بنا لیتے ہیں انھیں پیسے والے مراثی بھی اچھے لگنے لگتے ہیں... بس جس ڈگر پیسہ ہو جہاں پیسے کی گاڑی جاتی ہو وہاں پیسے کے پجاری بھی تشریف لے جاتےہیں...بگڑے حالات سنبھلنے لگے اور ایک مرتبہ پھر وہ گھر سب کے آنے جانے کا در بن گیا...اب سب عورتیں مائی حلیمہ کے محور میں گھومتیں...اور اس کی وجہ بھی صاف ظاہر تھی کہ انکا ایک جوان بیٹا تھا اور وہ بھی کنوارا...دن پھرتے ہی جیسے انکی قسمت پھر گئی ہو...عبدالرشید ہر تیسرے دن ماں باپ سے رابطہ کرتا...حال احوال اور مزاج پرسی کرتا..
"سر چٹا ہوندا جاریا پترپھرالالےتو کہہ تے کسی نال گل کراں تیرے ویاہ دی" (سر سفید ہوتا جارہا ہے بیٹاایک چکر لگالو..تم بولو تو کسی سے بات کروں)
حلیمہ ماں تھی اور اب بیٹے کی واپسی اور عمر دیکھ کر پریشان ہونے لگی تھیں...مگر وہ ہمیشہ ٹال دیتا تھا...
"نا بےبے میرے نال ویاہ دی گل نا کریا کرمیں حجے نی کروانا ویاہ"
(نہیں امی مجھ سے شادی کی بات مت کیا کرو...مجھے ابھی شادی نہیں کرنی)
عبدالرشید ہمیشہ ماں کو ٹال دیتا...وقت اور قسمت نے ایسا کھیل کھیلا کہ اس دن سے پورےچھ سال بعد عبدالرشید کو باپ کے جنازے کو کندھا دینے آنا ہی پڑا۔
اس کے کندھے اچانک سے بوجھل ہو گئے یوں جیسے کوئی وزن اٹھا لیا ہو...
چالیسوے کے بعد ماں نے اپنی فکر بحال رکھی پھر اسی بات پر زور دینا شروع کردیا۔
کیونکہ عبدالرشید پھر باہر جانے کا سوچ رہا تھا...
"پتر مینو کلاں تے نا چھڈ کے جامینوں بوٹی لادے.."
(بیٹا مجھے اکیلا چھوڑ کر تو مت جاؤمجھے بہولادو)
حلیمہ مائی نے اجڑے چمن کی طرح بکھرے بالوں کو سمیٹا اور دشت کی سی صورت پر نہروکی مانند انکی آنکھیں بہہ پڑے...
"میں عدت چے آں میں اتھے کلیاں مرجانا وے..."(میں عدت میں ہوں میں نے یہاں اکیلے مرجاؤ گی)
"بےبے کام تے کرنا ہے نالے کار وی تے چلانا پوئے گا"
(اماں کام بھی تو کرنا ہے نہ...گھر بھی تو چلانا پڑے گا)
عبدالرشید نے جھوٹی تسلیوں میں ماں کو گھیرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا...
پھر سے حلیمہ کی آنکھیں برسیں...بیٹا ماں کے آنسوؤں کے سامنے کسی موم بتی کی طرح دھیرےدھیرےپگھل ہی گیا....شادی نہایت سادگی سے ہوئی...
کچھ چھٹیاں مزید کرنے کے بعد عبدالرشید ایک مرتبہ پھر پردیس چلا گیا...
بیوی کو ماں اورماں کوبیوی کے سہارے چھوڑ دیا۔زمینیں جو خریدی تھیں ان سب کو ٹھیکلے پر دے کراس مسئلے کا حل بھی نکال لیا...
اب ہر چھ ماہ بعدموسمی اناج اور کچھ رقم ان کے گھر آجایا کرتی۔
پردیس اتر کر ہی دیس کی مٹی کی میٹھی میٹھی خوشبو اس کے قُل وجود میں لہر در لہر سرایت کر نےلگی....
شائد اس بار وہ اپنی زمینیں کسی کے حوالےکرکے آیا تھا اس وجہ سے اس کو جابجا مٹی کی خوشبوآنے لگی تھی۔
دیس میں بیٹھے اپنے بھی سوچتے ہیں کہ باہر جا کر انسان بےوفا ہوجاتا ہے مگر یہ وہ پردیسی ہی جانتا ہے کہ وہ کس اذیت میں جیتا ہے اور اسے جینا پڑتا ہے...کبھی اجنبوں کے درمیان کوئی اپنی بولی بولنے والے مل جائے تو چاند رات سے کم خوشی نہیں ہوتے۔
وقت کا چرخہ چلتا گیا...
تقدیر انسان کو کچھ سمجھانے کو کبھی کبھی ایک ہی کیسٹ کی ریل بنی چلتی جاتی ہے...
اب شادی ہوئی تو مسلسل چکر لگالیا کرتا مگراپنی ماں کو کندھا دینے اس مرتبہ پھر طویل چھٹی لے کرآیا..
اس بار کی بات ہی کچھ اور تھی اس کے بچوں کی اس سےلگن نے اس کا دل یہی لگانے پر مجبور کردیا۔
وہ تیس سال پردیس میں رہا اور اپنوں کے دکھ'سکھ'ہرعید شب را ت اپنوں سے دورگزارتا...
پھر جب اسکے بچے جوان ہونے لگے اسے خیال آیا تو وہ مستقل واپس آنے کا سوچنے لگا....
اسکا سب سے بڑا بیٹا امین اب دسویں جماعت کا طالب علم تھا...اس سے چھوٹا بیٹا ثاقب آٹھویں جماعت میں ترکی در ترکی پہنچ گیا...ایک چھوٹا بیٹا چھٹی جماعت میں بھی تھا...عبدالرشید خود کوخوش بخت تصور کرتا تھا
ساری عمر باہر گزارنےکے بعد اب گھر آنے پر اسے عجیب سا اطمینان سا محسوس ہونے لگا...
واپسی پر ٹیکسی سے سر باہر نکال کر وہ اپنے ہرے بھرے پنجاب کا جائزہ لینا چاہتا تھا جو اب تیزی سے عمارتوں کی شکل میں تبدیل ہورہاتھا ...
اب آخر وہ تنہائی دور ہو ہی جائے گی جو پردیس میں اس کے ساتھ رہی تھی..
پردیس میں بس نفسا نفسی کا ہی دور ہے کسی کے پاس کسی کے لیئے وقت نہیں کسی کے لیئے تو دور خود کی ذات لیئے بھی اتنا وقت میسر نہیں ہوتا۔
وہ اپنے یہاں گزارے ہوئے حسین بچپن کی کچھ یادیں یاد کر رہاتھا...وہ بچپن جو عمر میں کم تھا مگر تھا لازوال...
وہ گھر آکر اپنے بچوں سے ملا اور کئی گھنٹے انھیں دیکھ
تا اور خوش ہوتا رہا..
ماں باپ کی وہ تصویر جس میں عبدالرشید بہت کم سن تھا گھر کے بڑے سےہال میں آویزاں تھی۔
وہ اس تصویر کے سامنے کھڑا مبہوت سا ہوکر دکھتا رہا اسکی پلکیں بھگنے لگیں۔
وہ اپنے بچوں کے لیئے بہت سے تحفےلایا....
بڑے بیٹے کے لیئے لیپ ٹاپ اور ایک مہنگا سمارٹ فون...چھوٹے بیٹے کے لیئے سمارٹ فون اور سب سے چھوٹے بیٹے کے لیئے پی-ایس-پی لایا ۔
وہ سب کو تحفے دینے کے بعداپنے پنجاب کی تازہ ہوا کھانے اخبار لے کر صحن میں بیٹھ گیا.......ایک طویل مسافت طے کرنے کے بعد اب وہ آرام کرنے اپنے دیس آبیٹھا تھا...دن گزرتے گئے..چارمہینے گزرانےکا ایک ایک لمحہ اسے گزرتا محسوس ہوا۔
وہ ان لمحات کو جی رہا تھا فرمانبرداراولاد وفا پرست شریک حیات اور پر سکون ماحول وہ اب بالکل بھی اکیلا نہ تھا۔
تنہائی جب پردیس میں ہو تو وقت کس رفتار سے گزرتا ہے پل پل کا پتا چلتا ہے...
اور پردیس کی بھاگ دوڑمیں جب انسان سوچنے بیٹھتا ہے تو اندازہ نہیں کر پاتا کہ اتنی جلدی یہ سال کیسے گزر گیا...
فصلیں کاشت کے لیئے جودی تھیں وہ اب واپس لے لی اور اب خود اس پر کاشت کاری شروع کردی۔
وہ چاہے جتنا بھی امیر ہوجائے اسے وہ سکون وہ لذت کہئ میسر نہیں ہوسکتی وہ کھیتی باڑی میں تھی۔وہ بہت چھوٹاتھا جب باپ کوکھیتوں میں کھانا دینے جاتا کرتا اور باپ کےآرام کےدورانیئے میں وہ کچھ دیر ہل چلاتا۔
اب وہ یہاں بھی تنہائی محسوس کرنے لگا تھا۔
بڑا بیٹا اپنے موبائل پر اور چھوٹا بیٹا اپنے موبائل پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کرچکے تھے۔
وہ پردیس کی تنہائی سے بھاگ کرواپس آیا تو اس تنہائی نےاس کا یہاں تک پیچھا کیا۔
یہاں تک کہ بچےکبھی کبھی عبدالرشید کی آواز سننے سے بھی قاصر ہوتے.باپ کےکھانسنے کی آواز سن کر ان سنی کردیتے۔
پھر اس موبائل نے ان رشتوں کے درمیان ایک قدر بلند دیوار بنادی...
ایک دن عبدالرشید اپنے کمرے میں بستر پر پڑا تھا کہ اچانک اسکے سینے میں درد کا احساس ہونے لگا....اس نے چیخ کر اپنے بیٹوں کو آواز دی مگر وہ دونوں بچے اپنے اپنے ہیڈ فونز لگا کر کسی اور ہی دنیا کے سفر پر نکلےتھے..پاکیزہ نے اس درد بھری آواز کو سنااوردوڑتی ہوئی کمرے میں آئی۔
اسنے بذاتِ خود ہی اپنے میاں کو سہارا دیا۔
اور ایمبولینس کو فون کردیا...
کچھ وقت بعد ایمبولینس آئی تو اسکے اونچے سائرن کی وجہ سے ان بچوں کو اپنے باپ کی حالت کا علم ہوا...
جیسے تیسے کر کے عبدالرشید کو ہسپتال پہنچایا گیا۔
خراب حالت ہونے کے باوجود اسکی جان بچ گئی۔
حالت سمبھلتے ہی پاکیزہ نے صدقے بانٹنے شروع کر دیئے جس سلسلے میں وہ گھر جا چکی تھی۔
عبدالرشید ہوش میں آیا تو پھر اپنے ارد گرد تنہائی محسوس کی وہی تنہائی تھی جسے وہ پردیس میں چھوڑ آیا تھا۔
لیکن وہ بلی کے بچے کی مانند اس کا پیچھا کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گئی ۔
"اب کیسی طبیعت ہے آپ کی ؟"ڈاکٹر نے پوچھا...
"بس ڈاکٹر صاحب ٹھیک ہوں"وہ یہ کہہ کر منہ دوسری جانب پھیر کر لیٹ گیا۔
آپ دل پر کوئی بات نہ لیں اور تنہا بھی نہ رہیں۔ڈاکڑنے اس کو تاکید کی اور آرام کرنے کا مشورہ دے کروہاں سے چلا کیا۔
کمرہ خالی ہوچکا تھا ڈاکٹر کے جانے کے بعد انکے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز سنائی دی تھی۔
اسکی آنکھوں سے بےاختیار آنسو بہنے لگے۔
پردیس میں رہ کراس نے جو تنہائی کمائی تھی وہ اس کا پیچھا کرتے ہوئے دیس تک
آگئی۔
(ختم شد)

Leave a Comment