Afsana#04 | Tarazu | HaaDi Khan

تَرازُو 
بقلم ہادی خان
وہاں اس وقت گھور اندھیرا تھا، تار کول کی بنی لمبی سنسان سڑک چمکتی نظر آرہی تھی..
وہاں جھیل کی مانند کھڑا پانی جس کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ پانی بارش کا ہے یا کسی نالے سے ابلتا گندا بدبودار پانی...
دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آواز آرہی تھی جو شاید کسی کے گھر کے پالتو کتے تھے...
جو صرف بھونکنے کے لیئے رکھے گئے تھے ان کو کاٹنے کا حکم چاہیئے ہوتا ہے...
دونوں اطراف میں دور تلک اونچی اونچی کوٹھیاں بنی تھیں...
کسی میں بڑی بڑی مہتابیاں جگمگا رہی تھیں تو کہیں پر رنگا رنگ چراغِ خاموشاں جلتے دکھائی دیتے تھے...
اسی قطار میں بہت دور جا کر شہر سے بالکل الگ تھلگ ایک حویلی نظر آرہی تھی...
تاریکیوں میں گھِرا وہ گھر سفید روغن کی چادر اوڑھے چاند کی ہلکی روشنی میں سراب سا محسوس ہورہا تھا.. وہ گھر بھوت بنگلے جیسا بھیانک سا منظر پیش کر رہا تھا..
ہلکی سی ایک روشنی تھی وہ بھی زمین سے قریباً پندرہ فٹ اوپر شاید کسی پردے سے چھن چھن کر آرہی تھی۔۔۔۔
جس کی وجہ سے وہ جگہ حقیقت ثابت ہورہی تھی...
دور سے دیکھنے پر وہ گھر نہیں بلکہ ہوا میں زمین کے قریب تر کوئی ماہ پارہ سا ظاہر ہوتا...شہر سے قطعاً غیر گنجان آباد سی حویلی خوفناک ظاہر ہورہی تھی...میجر صاحب کی کوٹھی آج ویران تھی..
وہ شخص دبے دبے پاؤں چلتا ہوا اس گھر کی جانب سر کو خم دیئے جُھک کر گیا...رات کے بارہ بجنے کو تھے...گھر میں آج کوئی نہیں ہے..وہ شخص وہاں اتفاق سے آیا تھا؟
یہ شاید اتفاق سے ہوا ہو مگر وہ شخص ایک گھر کو نشانے پر رکھے ہوۓ تاک لگائے ہوئےتھا...
اس کے ناقص علم کے مطابق آج میجر صاحب اور ان کے گھر والے میجر صاحب کے بھائی کے بیٹے کی شادی میں شرکت کرنے ساہیوال جاچکے اور تین دن بعد لوٹیں گے...اس جانے والے قافلے میں میجر صاحب ان کی اہلیہ اور انکے دو بیٹے تھے...میجر صاحب شیریں گفتگو کرنے والے ہنس مکھ آدمی ہیں... ان کے یہاں کوئی دکھی، حاجت مند آتا تو وہ اس کی بات تحمل سے سن کر ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اس کا دکھ درد دور کر سکیں..آرمی سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ سماجی امور میں دلچسپی لینے لگے...اس شہر میں انہوں نے اپنا ایک نام بنا رکھا تھا ان کا ہر بار انتخابات جیتنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے...کچھ لوگ تو عقیدت میں ان کو مانسہرہ کا عبدالستار ایدھی بھی کہنے لگے...خدا معلوم یہ عقیدت تھی یا خوشامد کرنے کا کوئی حربہ...بہت سی خواتین اپنی شکایتوں کا پنڈار لے کر آتی کسی کا شوہر منشیات میں خوار ہو رہا ہے تو کوئی گھر میں خرچہ نہیں دیتا تو کوئی مار کٹائی کر رہا ہے...
میجر صاحب سب کی سننے والے مسیحا بنے اور پھر ان کے مسائل حل بھی کرتے کھبی کہیں تو اپنا فوجی انداز بھی اپناتے ...بڑے بڑے کاموں میں غریبوں کی فلاح و بہبود میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے..ان کی زندگی کا ایک طویل عرصہ آرمی میں گزرا تھا پھر آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ایک بڑا سا سینٹر بنایا جہاں بہت سی عورتیں کام کرتی..اس سینٹر میں مٹی کے برتن، ٹوکریاں اور اس طرح کی بےشمار چیزیں جو ہاتھ سے بنائی جائیں وہ بنائی جاتیں..میجر صاحب کے انصاف کے قصے بھی بہت دور تک اپنا مقام بناۓ ہوۓ تھے...
عظیم شخصیات کے ساتھ ان کا اعلی مقام کسی قدر بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا...
راہ گیر بھی اگر صاحبِ استطاعت نہ ہوں تو ان کے لیئے اپنے فارم ہاؤس میں پناہ کا بندوبست کر رکھا تھا...
ساتھ والے گاؤں میں ان کا ایک سکول بھی ہے...
بہت مشہور قصہ ہے کہ صرف ایک بچی کے کہنے پر انہوں نے اس گاؤں میں وہ اسکول بنوایا اور اس سکول کا نام بھی اس بچی کے نام پر رکھا.. اس گاؤں میں وہ ایک صوبیدار کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیئے گئے...
جہاں ایک گیارہ سال کی بچی نے ان سے فرمائش کی..
"آپ سے ایک بات پوچھوں؟"اپنے دھیان میں وہ بری طرح چونکے...
دوسری طرف ایک چھوٹی بچی سانولے مگر دلکش اور اچھوتے نین نقش والی ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی..
اس نے بالکل سادہ سا لباس پہنا تھا..
"ہاں پوچھو..."وہ پنجوں کے بل اس کے پاس بیٹھ گئے...
"آپ کے پاس اتنے سارے پیسے ہیں نا؟..."اس بچی نے معصومیت سے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا...
"ہاہاہاہا...ہاں بالکل ہیں مگر اتنے نہیں صرف اتنے..." وہ بےساختہ کھلکھلا اٹھے اور اس کے کھلے ہاتھوں کے برعکس اپنے ہاتھوں کو آدھا کھول کر بتایا...
"اگر آپ کی بیٹی آپ سے کوئی ضد کرے تو آپ پوری کرو گے ناں؟" وہ کہہ کر زرا ٹھہری جیسے پکی کوئی منجھی ہوئی گفتگو کی ماہر ہو اور اسے اپنی بات منوانے کے سب ڈھنگ آتے ہوں..
"ہاں ضرور کروں گا..."وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولے....
"تو میں بھی تو آپکی بیٹی جیسی ہوں تو آپ ہمارے لئے ہمارے گاؤں میں ایک اسکول بنوادیں ناں..." معصوم سی التجا دل کو چھوگئی...
"یہاں ہمارے پاس کوئی اسکول نہیں"،،،،
"ضرور بنواؤں گا..."کہتے ہوۓ انہوں اس کے گال پر پیار کیا...
"بس آپکے اتنے پیسوں سے بن جاۓ گا اسکول آپ فکر نہ کریں میں دعا کروں گی آپکے پاس پھر اتنے پیسے آجائیں گے..."وہ اس قدر معصومیت سے کہہ رہی تھی اور اپنی بات کے دوران اپنے ہاتھوں کو بھی سمجھانے کا ذریعہ بنا رہی تھی،،
کبھی ہاتھوں کو کھولتی تو کبھی بند کرتی،
وہ اس کی ان معصوم اداؤں پر دل کھول کر مسکرائے... بس اس بچی کے کہنے پر وہ سکول بھی اس بچی کے نام پر بنوایا گیا تھا...وہ جس نے چڑیوں کو چونچ دی ہے وہی دانا بھی دیتا ہے...
قرآن اس بات کا ثبوت دیتا ہے چڑیاں خالی پوٹے لے کر نکلتی ہیں اور کھانا بھر کر واپس آتی ہیں...
پرندے ذخیرہ نہیں کرتے اور روز کھانا پاتے ہیں...اگر مصیبت یا آزمائش میں ہو تو وہ ذات نکالنے والی بھی ہے...پس امید اور اس پاک ذات پر توکل کامل ہو تو سبب بنے میں دیر نہی لگتی...
🌟🌟🌟
وہ گھر کے اندر اس طرف سے اترا جس طرف بڑے بڑے درختوں کا جھرمٹ سا بنا ہوا تھا..
کچھ پتھر جمع کر کے ایک چھوٹی سی اونچائی بنائی اور پانچ قدم پیچھے کو ہو کر پھر بھاگ کر آیا ۔ اس پتھروں کے ٹیلے کے سہارے سے ایک بڑی چھلانگ لگا کر دیوار سے لٹک گیا..
اس پہلی کوشش میں ہی اس کے ہاتھ دیوار کے اوپری حصے پر جم گئے... دونوں ہاتھوں سے گرفت مضبوط کر کے اوپر کی طرف خود کو دھکیلا اس نے آٹھ فٹ کی دیوار کو پھلانگ لیا...چاروں طرف اندھیرا اور ویرانی کا عالم تھا... کسی ماں کی اجڑی گود کی مانند وہ گھر اجڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا..
دھیمی چال چلتا وہ اندر کے دروازے کی جانب گیا گیٹ پر بڑا ساتالا آویزاں دیکھ کر اس کے ہاتھ ید بیضا ہو گئے اور اس کا اثر اس کی چمکتی انکھوں پر بھی ہوگیا..
وہ یہاں امیروں جیسا سکون حاصل کرنے آیا اے-سی میں سونے کا لطف اٹھانے،،
مزے مزے کے کھانوں اور لوازمات سے سیر ہونے وہ جیسے کسی ہوٹل میں تین دن تین رات کے پیکج پر آیا ہو...
اپنا بدبودار کوٹ اتار کر سامنے صوفے پر پھینکا بے دھیانی میں وہ کوٹ گلدان کو جالگا جو زمین پر گر کر کرچی کرچی ہو بکھرا...
اس کے اندر پڑا سارا پانی پھیل گیا...مگر پھولوں کے مظبوط بندھن نے ایک دوسرے کو آپس میں جکڑے رکھا...
وہ یہ پہلی نشانی ظاہر کر چکا تھا کہ وہ اس قسم کے گھر کے لائق قطعاً نہیں ہے...
لمبا سا لاؤنج تھا سامنے زینے سے اوپری چھت کو جاتے ہوئے مہنگے ماربل اور مہنگے آرائشی سامان سے آراستہ وہ گھر بہت عمدہ سا محل نما منظر پیش کر رہا تھا.
بے حد حسین زینے سراب کی مانند فلک رساں ظاہر ہورہے تھے...
کچن جہاں کا دروازہ کھلا ہے..
وہ اندر گھس گیا اور مزے مزے کے کھانے چکھنے میں مصروف ہوگیا...
وہ انتہائی بے تکلفی سے پورے گھر میں گھوم رہا تھا جیسے وہ اسکا اپنا گھر ہی ہو...
اپنے دھیان میں وہ بری طرح چونکا، اسے کھٹکا سا ہوا...لاشعوری طور پر اس کے دماغ میں آیا کہ اس نے جلتی بتی دیکھی تھی اوپر والی منزل میں...تصدیق کے لئے وہ زینے چڑھنے لگا..
پہلے وہ پوری تسلی کر لینا چاہتا تھا کہ گھر پوری طرح خالی ہے یا نہیں...وہ یہاں چوری کے ارادے سے ہرگز نہیں آیا وہ بس یہاں تین دن رہ کر امیری کے مزے چکھنا چاہتا تھا...
نیم دروازہ کھلا اندر سرسراہٹ تھی وہ محتاط ہوگیا اور دھیمی چال چلنے لگا...
بنا آہٹ کے بنا کسی آواز کے دبے دبے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا خدا خدا کرتے وہ دروازے تک پہنچ گیا...دروازے سے اندر جھانکا تو ایک لڑکی کھڑکی کے پاس کرسی پر بیٹھی تھی...
وہ سہم سا گیا، اس کے حلق میں کانٹے اُگنے لگے تو اس نے تھوک نگلا..آہستہ سے آگے کو بڑھا اور عین اس لڑکی کے عقب میں کھڑا ہوگیا..پہلے من میں آیا کہ اس کو جھَپَٹ لے..
مگر اپنے اس خیال کو جھٹک کہ وہ یاں کوئی جرم کرنے نہیں آیااور وہ مزید آگے بڑھا...
کانپتے ہاتھوں سے وہ لڑکی کے شانے کو چھو کر اپنی موجودگی کا احساس دلانے ہی لگا تھا کہ وہ لڑکی کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی..
"اگر تو چوری کرنے آئے ہو تو جو مرضی لے لو اور مجھے ڈسٹرب نہ کرو..." اس لڑکی نے بے نیازی سے بنا اس پر نظر ڈالےکہا اور ہاتھ میں پکڑی بک کو ریک میں سجانے لگی...
اسے جیسے کسی انجان کا ہونا نہ ہونا محسوس نہیں ہوا...
"آپ کون ہیں...؟" اتنا عجیب سا لہجہ دیکھ وہ شخص خود کو روک نہ سکا...
"میں جو بھی ہوں، یہاں تم اجنبی ہو..."اس نے "تم"پر زور ڈالتے ہوۓ سپاٹ لہجے میں کڑی نگاہ اس پر ڈالی...
"میرا نام اکبر ہے مگر میں چور نہیں ہوں..."اکبر نے خود کی طرف اشارہ کیا...
"جانتی ہوں، چور ہوتے تو حملہ کرتے یا بھاگ جاتے..." وہ ہموار لہجے میں گویا ہوئی...
"میرا نام اکبر ہے مگر اماں کہتی ہیں میں بادشاہ اکبر نہیں ہوں مگر مرنے سے پہلے بن کے دیکھاؤ... یہ گھر کسی محل سے کم نہیں اور میں کب سے اس تاک میں تھا کہ اس جگہ کا لطف اٹھاؤں..." وہ کسی غیر مرئی نقطے پر نظر جما کر بولا تھا...
"تو پھر یہاں کیا لینے آۓ ہو..."پھیکی سی ایک مسکراہٹ سجاۓ سوالیہ نظروں سے ابرو اٹھا کر کہنے لگی...
"میرا ناں نام صرف اکبر ہے مگر میں یہاں بادشاہوں کی طرح اس محل میں دو دن گزارنے... ان ڈھیروں آسائشوں اور لوازمات سے لطف اٹھانے آیا ہوں بس اور کوئی مقصد نہیں..." اکبر نے دانت نکالے...
مسکراہٹ کا تاثر دیتے خاصا خبنا سا ظاہر ہورہا تھا...
"ہممم انٹرسٹنگ، ویسے تم اتنے سیدھے صرف دکھتے ہو یا.....؟" بات کو ادھورا رہنے دیا گیا...
"میں تو اگر چور ہوتا تو ہوتا مگر ڈری آپ بھی نہیں، ایک انجان شخص آپکے گھر میں آپکے کمرے میں آپ کے عقب میں آکر کھڑا ہوگیا تو آپ کو زرا بھی خوف نہیں آیا؟"اکبر الجھن میں تھا...
"مجھے تم سے کیا خوف آۓ گا تم تو خود ڈرے ہوئے تھے اگر مرے ہوئے کو موت ڈرانے لگے تو زندہ انسانوں کا کیا بنے گا..." وہ معنی خیزی سے مسکرائی...
"آپ کم گو لگ رہی ہیں مگر....وہ بات کو گھمانے لگا...آپ کا نام کیا ہے؟ اور میں نے تو کبھی آپ کے بارے میں نہیں سنا نہ ہی آپ میجر صاحب کے ساتھ شادی پر گئیں ہیں..." اکبر کے دماغ کو ڈھیروں الجھنوں نے گھیرا ہوا تھا بنا سانس لئیے سوالوں کی بوچھاڑ کردی....
"ملائکہ ہارون نام ہے میرا، تین مہینوں سے بولی نہیں ہوں میں اس لیے دل کیا آج بولوں کچھ شائد ہی تمہارے بعد کوئی آئے اور بس یہ گھر ہی میری دنیا ہے..."ملائکہ نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا...
چہرے پرسنجیدگی کی جگہ شناسی سی در آئی، اس نے چہرے پر جھولتی واحد لمبی سی لٹ کو ہاتھ بڑھا کر کانوں کے پیچھے اڑسا جبکہ باقی بالوں کو پونی میں جھکڑ کر اونچی ٹیل پونی بنا چھوڑی تھی جو سر پر اوڑھے دوپٹے کے اوپر سے ابھری واضح ہورہی تھی...
"مگر آپ اس گھر میں اکیلی کیوں ہیں؟" اکبر ناسمجھ بچے کی طرح تہہ در تہہ سوال کررہا تھا...
"میں نہیں جاتی کسی کے ساتھ اور نہ ہی جانا چاہتی ہوں..."وہ اٹھ کر باہر کو بڑھی...
اکبر وہیں کا وہیں بیٹھا رہا، چند ثانیے بعد اس نے اٹھ کر وہ ہی کتاب دوبارہ نکالی اس میں نشانی کے طور پر کچھ رکھا تھا جس سے کتاب اپنے سائز سے کچھ موٹی نظر آرہی تھی، وہ کھولے بغیر نہ رہ سکا، تصویروں کا ایک بنڈل موجود تھا جو کتاب میں شائد چھپا کر رکھا گیا...ایک خوبرو، خوبصورت چوڑے اور کسرتی جسمامت کا نوجوان اپنی باہیں پھیلاۓ کھڑا تھا، اگلی تصویر میں اس شخص کے ساتھ ملائکہ بھی تھی۔..ایسے ہی ایک کے بعد ایک تصویر وہ اٹھاتا گیا کہ ایک تصویر پر آکر اس کے ہاتھ رک گئے جس کی پشت پر واضح طور پر خطاطی سے ایک تاریخ لکھی تھی...آہٹ پر اکبر نے ساری تصویریں جلدی سے کتاب میں واپس رکھ کر کتاب واپس ریک میں لگادی.
"یہاں کیوں کھڑے ہو..." ملائکہ پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولی...
"و..وہ..میں بس الماری دیکھ رہا تھا..." اکبر بوکھلا گیا..
اکبر کو اشاروں ہی اشاروں میں اس الماری سے دور رہنے کی تنبیہہ کر کے وہ واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گئی اور کھڑکی کے باہر چھائے گھور اندھیرے میں کچھ تلاشنے لگی.. کھڑکی کے پٹ کھلے ہوئے تھے جہاں سے آتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اس کے کان کی بالی کو جھلانے لگے
ملائیکہ نے ایک کپ اس کو تھما دیا تھا...
"آپ نے کبھی محبت کی ہے مس ملائکہ؟" اکبر نے بنا تمہید باندھے کہا تو خاموشی سی چھاگئی وہ خاموشی جس میں انسان کی روح اس کے کان میں سرگوشیاں کرتی ہے یا وہ خاموشی جس میں انسان کا وہم اس سے ہمکلام ہوتا ہے....
اکبر جواب کا منتظر تھا اور وہ تو جیسے پتھر کی مورتی بن گئی تھی..
"کہتے ہیں نہ محبت مر کر بھی نہیں مرتی اور میں اس مقام پر ہوں..." ملائکہ ہموار لہجے میں آہستگی سے گویا ہوئی...
"مطلب آپ مر چکی ہیں یا محبت آباد ہے؟" اکبر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اسے اپنی سماعتوں پر کسی طور یقین نہ آیا...
"دونوں ہی سمجھ لو..." وہ صاف گوئی سے بولی تو ایک سناٹا سا چھا گیا...
"میں اور ہارون جس کی تصویر تم دیکھ چکے ہویونیورسٹی میں ایک ساتھ پڑھتے تھے اور ایک دوسرے سے بے انتہا محبت میں گرفتار ہو چکے تھے.." اس نے ندامت سے کہا...
"پھر...؟" اکبر بےساختہ بولا..
"ہارون نے مجھے پرپوز کیا تھا..." 
اب کے اکبر خاموش رہا اس سے کوئی جواب نہ بن سکا...
"ہماری شادی بھی ہوئی تھی بہت دھوم دھام سے..." ملائکہ کے ہونٹوں پر مسکان سی آن ٹھہری اور چند لمحوں بعد مدھم ہوگئی.. "وہ وہاں پر بارات کھڑی تھی، جیسے کل کی بات ہو..."اس کی آنکھوں سے دو موتی نما آنسو ٹوٹ کر بکھرے..
"آپ دونوں کی لوو میرج ہوئی تھی کیا؟" اکبر اس کے آنسو دیکھ کر بے اختیار بولا...
"ہاں ہماری شادی ہوئی تھی پانچ سال پہلےلو میرج..."وہ کہہ کر گہری سانس اپنے اندر اتارنے لگی...
"ہماری شادی کو تین سال ہوچکے تھے..
مگر جب ہارون کے گھر والوں نے یہ بتایا کہ مجھ میں نقائص ہیں تو اس نے مجھے چھوڑنے کی ٹھان لی مگر...."
"مگر کیا؟"اکبر کا تجسس حدوں کو چھو گیا...
"مگر وہ وقتی فیصلہ تھا تصدیق کرنے پر پتا چلا کہ اصل نقص کی تشخیص ہارون میں ہوئی ہے تو میں نے اس کا ساتھ نبھانے کا فیصلہ لیا اور یہ بات ہم نے سب سے چھپا لی...
کچھ دن بعد میں سب رپورٹس لے کر پھر سے ہسپتال گئی کہ آیا کوئی حل ہے تو ہم علاج کروائیں مگر کوئی بھی آس کا سراغ ہاتھ نہ آیا اور میں ناجانے کیسے وہ اسپتال کی رپورٹس اپنے ہاتھوں میں پکڑے پکڑے یہاں آئی اور وہ رپورٹس بابا کی نظروں میں آگئیں..."وہ روانی میں سب بتارہی تھی...
"میں نے بہت کوشش کی کہ ان کو کچھ پتا نہ چلے مگر انہوں نے وہ فائل میرے ہاتھ سے چھین کر پڑھ لی اور اسی وقت حکم دیا کہ میں ہارون سے خلع‎ لوں گی، میں نے بہت انکار کیا بے حد منتیں کیں ..." وہ ماضی کی اذیتوں کو آج بھی بتاتے ہوئے محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
"ایسے نہ کریں بابا میں ہارون کے بغیر نہیں رہ سکتی ہمیں علحیدہ نہ کریں..." ملائکہ نے روتے ہوئے التجا کی....
"اور تم ایسے بھی نہیں رہ سکتی..." میجر صاحب برہم ہوئے...
"تم نیچے جاؤ میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں..." وہ گم صم بیٹھے اکبر سے بولی...
اس کی آواز بھرائی ہوئی سی لگی...
"جی اچھا جاتا ہوں..."وہ ہڑبڑا سا گیا...
زینہ اترتے وقت اس کی نظر سامنے ایک طرف رکھے پیانو پر پڑی....
وہ بھاگتا ہوا جاکر اس پیانو کی سیٹ پر بیٹھ گیا، وہ ٹھہرا پینڈو اسے بجانا کہاں آتا تھا۔
ویسے اس نے فلموں میں پیانو بجتے دیکھا تھا..
بے تکے سے ساز بجاتا، بےسری سی دھن بناتا اسے بہت لطف آرہا تھا...
وہ دھن نہیں امیروں کے باغ میں مالی کی کسی کچے پھل کے ٹوٹنے ہر غریب کی آہیں محسوس ہورہی تھیں...
بچوں کی طرح دیوانہ وار وہ اس کو بجاۓ جارہا تھا..
کافی وقت گزر چکا تھا مگر وہ ابھی تک پیانو بجانے کے شغل میں مشغول رہا، کافی کی کڑواہٹ ابھی تک اس کو ترو تازگی دے رہی تھی اور اسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا کہ وہ مسلسل ایک گھنٹے سے اپنی انگلیوں کو پیانو پر حرکت دے رہا ہے...
قدموں کی چاپ پر اسے کسی ذی روح کی موجودگی کا احساس ہوا اس نے دھنوں کا قتلِ عام روک لیا..
وہ ملائکہ کو بے نیازی سے آتا دیکھ کر با ادب ہو کر کھڑا ہوگیا...
"ہٹو میں تمھیں ایک دھن سناتی ہوں..." اکبر ایک جانب کھڑا ہوگیا تو وہ جاکر پیانو کی سیٹ پر بیٹھ گئی...
ایک بہت غمگین سا احساس ملائکہ کی انگلیوں سے سرائیت کرتے ہوۓ پیانو کے ذریعےدھن بن کے باہر نکل رہا تھا..
وہ کھو سی گئی، اکبر بغور سنتے ہوئے اس کی موندی ہوئی آنکھوں سے آنسو نکلتے اور لہراتے سر کو مبہوت ہو کردیکھ رہا تھا.. وہ خود بھی اس دھن کی لہروں میں ڈوب چکا تھا...
"اچھا چلو اب کچھ کھا لیتے ہیں..." وہ اٹھی اور باورچی خانے کی جانب چل پڑی...
چند ثانیے بعد اس نے کچھ کھانے پینے کا سامان ٹیبل پر لگا دیا اور اکبر کو بھی کھانے کی دعوت دے کر بیٹھ گئی تو وہ بھی چپ چاپ جا کر دوسری کرسی کھسکا کر براجمان ہوگیا..
"اچھا پھر کیا ہوا تھا، آپ نے بتایا ہی نہیں آگے.." اکبر بے صبرا سا ہو رہا تھا....
"کھانے کے وقت گفتگو نہیں کرتے، چپ کر کے کھانا کھاؤ..." ملائکہ کا لہجہ برہم ہوا...
اب وہاں بس پلیٹ اور چمچوں کی آواز چاروں طرف شور کرنے لگی..
ملائکہ کھانا کھا چکی تھی مگر اکبر سوچنے میں مصروف تھا...
"اب بتائیں آپ بولیں میں صرف سنوں گا، بولوں گا نہیں..." وہ کہہ کر پھر کھانے کی طرف متوجہ ہوا...
وہ اس کا چہرہ غصے سے تکنے لگی،اس کی آنکھوں میں بلا کی ویرانی تھی...
"اففف خدایا سننے سے تو منع نہیں کیا نا کسی نے آپ بولیں کیونکہ آپ غالباً کھا چکی ہیں۔۔۔" اس نے وضاحت دی...
"پھر ہم دونوں بھاگ گئے تھے اور ہمیں مار دیا گیا..."ملائکہ نے برا مان لیا...
اس کا جواب سن کر پانی پیتے اکبر کو بےاختیار اچھو لگ گیا اور چمچ گر گئی...
وہ اب خود پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ اس کے منہ سے بری طرح قہقہہ ابل پڑا...
"کیا ہوا تم دانت کیوں نکال رہے ہو..." ملائکہ کے چہرے کے تاثرات بگڑ گئے...
"مگر آپ تو زندہ ہو..." اکبر نے بمشکل اپنی ہنسی کو قابو کیا...
"ہاہاہاہاہا نہیں تو.."وہ صاف گوئی سے بولی...
"اب بس بھی کریں اتنا مذاق کافی ہے..." وہ اسے مذاق سمجھا...
اپنا گرا ہوا چمچ اٹھانے کو نیچے جھکا تو اسکی نظر ملائکہ کے پاوں پر پڑی....وہ حیرت میں غرق ہوگیا کیونکہ اس کے پاوں مڑے ہوئے تھے...
اکبر کا دل مارے خوف کے بند ہونے لگا، جیسے سانسوں کا تعلق ٹوٹنے لگا تھا اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گیئں...
وہ وہیں جھکا رہ گیا اور اٹھ نہ سکا کیونکہ ایک خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا گیا تھا..
"دنیا کا ترازو زیادہ بھاری تھا میری محبت کے پلڑے کے سامنے...جو انسان دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں، اور میجر صاحب جو بظاہر نظر آتے ہیں وہ اس کے بالکل برعکس ہیں وہ قاتل ہیں..." ملائکہ چلائی،،،
"محبت کے قاتل....اب وہ سوتے نہیں میں ان کو ہر تین ماہ بعد پریشان کرتی ہوں" ملائکہ کی عجیب سی آواز کرسی سے گرتے ہوئے اکبر کے کانوں میں پڑی...
"زندہ انسان ہوتا تو کیا برا تھا مار دیا کیسا ترازو ہے دنیا کا،،،،،"اس نے ایک سسکی بھری...
دوسرے پل وہ اٹھا اور خود کو ٹٹولنے لگا...
اگلے لمحے اس نے خود کو زمین پر مردہ پڑے دیکھا...
اس کا ظاہر اب ہلکا ہو چکا تھا...
وہ بھاری وزنی لاش بے مول تھی اسکی روح اب بھاری تھی ترازو کا جھکاؤ اس طرف تھا....
تین دن بعد ایک اور معما ایک اور پریشانی نے میجر صاحب کی نیند کا قتل کردیا تھا...
سب کے ترازو نے برابر ہونا ہے کسی کا روزِ محشر کسی کا دنیائے فانی میں ہی...مگر میجر صاحب کا ترازو دنیا میں ہی برابر ہوچکا تھا..
((ختم شد))

No comments

Powered by Blogger.