Afsancha#01 | Purany Kapry| HaaDi khan
پرانے کپڑے
از قلم ہادی خان
"اماں......اماں....کہاں ہو اماں...." مزمل گھر کے باہر سے ہی آوازیں لگانے لگ گیا....
"ماں صدقے....جی آیاں نوں...."صحن میں بیٹھ کر مرچیں کوٹتی اماں نے صدقے واری جاتے اسے اپنی طرف بلایا تو وہ بھاگتا ہوا اماں سے آلگا....
"اماں آپ کو پتا ہے میں نے کل سپیچ کرنی ہے فنکشن میں..." مزمل نے بڑے جوش و خروش سے بتایا...
"اچھا سچ....؟ماشاءاللہ ماشاءاللہ میرا بچہ میں قربان جاؤں..." ان کی خوشی دیدنی تھی...
"اماں ماسٹر جی نے کہا ہے کل کوئی اچھے اور نئے سے کپڑے پہن کر آنا..." وہ ماں کی گود میں ہی جگہ بنا کر بیٹھ گیا....
"میں کون سے کپڑے پہنوں گا....؟" وہ اشتیاق کے عالم میں سوچنے لگا...
"نیلے کرتے میں بھی سامنے پیوند لگی ہے، نہیں وہ نہیں ٹھیک...."وہ خود کلامی کرنے لگا.....
"ہوووووونہہہ سفید....نہیں وہ بھی نہیں اس کے تو بٹن ہی اماں نے کسی رنگین دھاگے سے گانٹھے ہوئے ہیں....کالے میں نے استری کر کے جلا دیئے تھے...اور اب میں...اماں بتاناں کون سے پہنوں گا پھر....؟" وہ پہلے خود سے ہی سوال و جواب کرنے لگا جب خاطر خواہ جواب نہ بن پایا تو اماں سے پوچھنے لگا...
"ہاں جی ہاں تیرے لئے نیا جوڑا آئے گا...."وہ کسی خواب سے نکلیں.....
" سچی...."؟ اس نے بے یقینی سے ماں کو دیکھا....
" تیری قسم...."خدیجہ نے اس کے ماتھے پر پیار کیا..."
"کہاں سے لاتی ہیں آپ اماں....." مزمل نے دل چسپی سے پوچھا...."
"ہمیشہ رب سے لاتی ہوں آج بھی تیرے لیئے وہی دیں گے....." وہ کسی کہانی کی مانند اسے کہہ رہی تھیں...."
"اماں ہمارا رب کہاں ہوتا ہے...." اس نے ناسمجھتے ہوئے پوچھا...."
"ہاں میرے لعل فکر نہ کر اپنے مقابلے کے لیئے سپیچ تیار کر بس....اچھا باقی باتیں بعد میں میں تیرے لیئے کھانا لاتی ہوں..."خدیجہ نے دانستہ طور پر اس بات کر گول کرلیا تھا،
انھوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا....
وہ خوشی خوشی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا....
مزمل کے والد کو گزرے دس سال ہوگئے تھے جب وہ صرف چند ماہ کا تھا، اس نے باپ کو صرف تصویروں میں ہی دیکھا تھا....
گاؤں سے الگ تھلگ گھر اس ماں بیٹے کا تھا جس کے ارد گرد وسیع رقبہ میں زمین تھی جہاں دھیرے دھیرے کر کے چودھری صاحب نےقبضہ جما لیا ہوا تھا....
وہ عورت ذات ہونے کی وجہ سے ان جھمیلوں سے دور رہتی اور کبھی اس طرف دھیان بھی نہ دیا.....
بقول چوہدری صاحب کے کہ میں نے نور محمد سے زمیں لیز(ٹھیکہ) پر لی ہے جو اب سو سال تک ان کی ہی رہے گی...
خدیجہ کا ذریعہ معاش بس یہی تھا جو چوہدری صاحب ان کی ہی زمین پر اُگا کر ایک آدھ بوری گندم کی اور چند روپے بھیج دیتے جس سے بمشکل ان دونوں ماں بیٹے کا گزارہ ہورہا تھا.....
اس شام خدیجہ کو نور محمد شدت سے یاد آئے...
وہ مزمل کو کھیلنے بھیج کر خود کہیں چلی گئیں...
اگلے دن صبح انہوں نے سوئے ہوئے مزمل کو اٹھایا....
"مزمل...پتر اٹھ جا اور دیکھ میں تیرے لئے نیا سوٹ لائی ہوں..."
اتنا سننا تھا کہ اس کی نیند اڑن چھو ہوگئی...
"سچ اماں یہ میرے لئے ہے...؟" وہ ایک دم اٹھا اور سوٹ کو ہاتھ لگا کر اشتیاق سے بولا...
ایک اچھی طرز کی پینٹ شرٹ ہینگر میں لٹکی ہوئی تھی...
"ہاں تیرے لئے ہی ہے اور اب اٹھ جا کہ نہا کر کپڑے پہن آ..." خدیجہ اس کے چہرے پر چمکتی تابناکی دیکھ کر مطمئن ہوگئیں..
ایک خوشبودار مسکراہٹ مزمل کے چہرے پر درآئی...
وہ اٹھا اور پینٹ شرٹ لئے غسل خانے کی جانب چلا گیا، تھوڑی دیر بعد وہ نہا دھو کر نئے کپڑے پہنے اماں کے پاس آکر بیٹھ گیا...
انہوں نے اس کے گیلے بالوں کی مانگ نکالی پھر آنکھوں میں سرمہ لگایا وہ تو صدقے واری جاتی نہ تھک رہی تھیں اور ساتھ ساتھ دعائیں بھی دیے جارہیں تھیں....
وہ بچہ ابھی اتنا بھی سمجھدار نہیں تھا....
بس جو کہا جاتا اس کو ہی حرفِ آخر سمجھ کر مان جاتا...
وہ خوشی خوشی سکول کے لئے روانہ ہوا...
وہاں اپنی تقریر بھی کی حاضرین کی تالیوں کی اس گھن گرج نے اس کی بہت حوصلہ افزائی کی....
آخر نتیجہ آنے پر وہ اول نمبر پر آیا تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا...
وہ گھر جانے لگا تو چوہدری صاحب کا سب سے چھوٹا لڑکا عدیل اس کے پاس آکر کھڑا ہوگیا اور اس کے کپڑوں کو ہاتھ لگا کر نا جانے کس شے کا جائزہ لینے لگا...
"یہ کپڑے کہاں سے لئے تو نے؟ یہ میرے ہیں اور تو نے چوری کئے میرے کپڑے؟"" وہ مشکوک سا اس کے گریبان کو پکڑ کر بولا....
"یہ میرے نئے کپڑے میری اماں لائی ہیں میرے لئے..." وہ فخر سے سر اٹھا کر بولا
"ہاہاہاہا....یہ میرے پرانے کپڑے ہیں، ضرور کوڑے میں سے اٹھاۓ ہونگے یا مانگے ہونگے..."عدیل نے قہقہہ لگا کر اس کا تمسخر اڑایا جس کی دیکھا دیکھی باقی بچے بھی ہنسنے لگے...
"بھکارن کی اولاد..." سب گلا پھاڑ کر ہنستے جارہے تھے...
"پرانے کپڑے" وہ ان کی نظروں میں تماشا بن گیا...
اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو وہ خود کو چُھڑا کر روتا ہوا گھر کی طرف بھاگا...
اسے یوں سسکیاں بھرتے دیکھ خدیجہ کا دل تھم سا گیا....
"کیا ہوا ہے میرے لعل..." انہوں نےبے چین ہوکر پوچھا...
"کچھ نہیں ہوا اماں..."اس نے کہہ کر اپنی شرٹ اتار کر جلتے چولھےمیں پھینکی....
خدیجہ دم بخود سی رہ گئیں کہ مزمل نے اس طرح کبھی کسی چیز کی بے حرمتی نہیں کی تھی...
"کیا کررہا ہے یہ؟ نئے کپڑے خراب ہوجائیں گے..."
"چولہے میں جلا دے ان کو اماں یہ "پرانے کپڑے" ہیں..."وہ چلایا...
"یہ تیرے لئے میں لائی تھی..."خدیجہ جہاں تھیں وہیں رہ گئیں...
"کہاں سے؟ رب سے لائی تھی...؟"
"ہاں رب سے..."
"اماں اپنے رب سے کہہ دینا دے کر جتایا نہ کرے...."
ختم شدہ

Leave a Comment