Afsancha#02 | Mai Yaha Mojood hu | HaaDi khan
میں یہاں موجود ہوں
بقلم ہادی خان
برف میں ڈھکی چھپی وادی میں فوجی بیس کی صبح ہوئی جہاں کڑکتی ٹھنڈ میں صبح صبح لہو گرمانے کو تین بار "پاکستان زندہ باد" کا نعرہ لگایا جاتا ہے اور اگر ثابت قدمی کو برقرار رکھنا ہو یا حوصلہ بلند کرنا ہو تو دو بار نعرہ تکبیر "اللہ اکبر" کا نعرہ لگادیا جاتا ہے.. یہی ان جوانوں کا ہیٹر ہے جو ملک کے ناجانے کس کس گرم علاقے سے فرض کی ادائیگی کرنے آئے اور ان کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن پر ملک کا محافظ بنا کر بھیج دیا گیا...
کوئی ماں کا لعل تو کوئی باپ کا بازو کوئی بہنوں کا اکلوتا بھائی اور کوئی بھائیوں کا محافظ سب اس پرچم کے سائے تلے ایک جان ہو کر ملک کے خادم بن کر پرجوش کھڑے ہوتے ہیں جن کا حوصلہ کسی چٹان کی مضبوطی سے کم نہیں ہوتا...یہ گرم علاقوں سے آنے والے جوانوں کو کیا معلوم کہ یہ اس جگہ کھڑے ہیں جہاں درجہ حرارت منفی 50° تک گر جانا معمول کی بات ہے... تقریباً تین ہزار سے زیادہ فوجی جوان پاکستان اور بھارت کے اس محاذ پر صرف موسم کی نذر ہوگئے...
انسان کے جسم میں "وینز" اور "آرٹریز" نامی دو قسم کی نسیں ہوتی ہیں...ان کا کام خون کو ہر ہر حصے تک پہنچانا ہوتا ہے گویا ایک کے ذریعے خون آتا ہے اور دوسری کے ذریعے جاتا ہے جبکہ ان فوجیوں اور جرنلوں کے جسموں میں "پاکستان زندہ آباد" آتا ہے اور "اللہ اکبر" جاتا ہے جن دونوں کا تعلق سیدھا دل سے برائے راست رابطے میں ہر وقت ہوتا ہے....ایک نوجوان کو بےشک اس قسم کی ٹریننگ دی جاتی ہے کہ وہ فیصلہ ہمیشہ دماغ سے کرے مگر جہاں دل کی بات آڑے آجائے وہاں صرف دل کی ہی سنی جاتی ہے اور یہی جذبہ شہادت لے کر وہ آگے بڑھتے ہیں جس جذبے کو ہرگز مات نہیں...
یہ پاکستان کے سخت ترین ٹھنڈے علاقے کا سخت ترین محاذ ہے جہاں ہر دم چاق و چوبند رہنا پڑتا ہے کہ کسی قسم کی کوتاہی سرزد نہ ہوجائے اسی وجہ سے ہمیشہ ایک خیال ذہن میں گردش کرتا ہے کہ جو دور مکین چوکیاں ہیں جہاں زمینی سفر میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں تو کیا جب کوئی جوان بیمار ہوتا ہوگا تو وہ اپنا فرض ترک کردے گا؟
کیا اسے ہمارے جیسے اچھے ہسپتال بروقت میسر ہوتے ہوں گے؟
ہمالیہ کے بلند ترین پانچ پہاڑوں میں ڈیوٹی دینے والے پائلٹس ہیں جو "فئیرلیس فائیو" کے نام سے جانے جاتے ہیں... یہ نام ہمالیہ کے پانچ بلند ترین پہاڑوں کی نسبت سے دیا گیا ہے...جوانوں کے پاس بندوقوں کی دھات موسم کی وجہ سے اس قدر ٹھنڈی ہوجاتی ہے کہ اگر جسم کا کوئی حصہ اس کو چھو لے تو مستقل ناکارہ ہوجائے....
یہ علاقہ ۱۹۸۵ سے پہلے ویران تھا...مگر اسکے بعد انڈیا نے جب سیاچن پر قبضہ کیا تو یہ بھی کشمیر کی مانند متنازعہ علاقہ بن گیا...
جب انڈیا کی فوج نے اپنے کیمپ اور مورچے اس جگہ پر بنا لیئے تو پاکستان آرمی پر بھی فرض ہوگیا اور انھوں نے آگے بڑھ کرکہ دفاع کے لیئے اپنی چوکیاں لگا دی جائیں..
اس علاقے کے اگر تین حصے کیئے جائیں تو دو حصے انڈیا جب کےاور ایک حصہ پاکستان کے قبضے میں آتا ہے...شملہ معاہدے کو توڑ کر بھارت نے بارڈر کی خلاف ورزی کر کے سیاچن پر قبضہ صرف پاکستان کے پانی کو بند کرنے کے عزم سے تھا...پاکستان پیاسا رہ جاتا اگر ہمارے فوجی وہاں ان محاذوں پر نہ کھڑے ہوتے...گرم نرم بستر سے اٹھ کر نلکے سے صاف پانی پینے والوں ایک ایک بوند کی قدر کرو..یہ ہمارے شہیدوں کے لہو سے تر ہو کر آرہا ہے..جہاں ہمارے فوجی جوان کھڑے ہیں وہاں سردی کا اندازہ ایسے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر وہاں جسم کا کوئی بھی حصہ ننگا ہوجائے تو وہ سردی کے باعث جم کر ساری عمر کے لیئے ناکارہ رہ جاتاہے...اس محاذ پر وضو'پینے کا پانی اور تمام تر استعمال کے لیئے وہیں سے برف کے ٹکڑے کر کے اسکا استعمال میں لیا جاتا ہے...اب اگر فرض کیا جائے کہ آپ نے تھوڑا سا ٹکڑا توڑا ہے اور پورا تودہ آپ پر آگرے تو؟
دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن کے سیکٹر گیارہ میں سات اپریل ۲۰۱۲ کو ایک بھیانک واقعہ پیش آیا...جس ہولناک واقعے کے زیرِ اثر آرمی کے جوان..افسران اور کچھ عام لوگ ہوئے تھے۔
دشمن سے دفاع کے لیئے وہاں مقیم جوانوں کو کیا معلوم کہ یہ رات انکی آخری رات ہے...
اس رات وہاں شمالی لائٹ انفنٹری بٹالین چھ تعینات تھی....یہاں ہر بٹالین صرف دو سال کے لیئے مورچہ سنبھالتی ہے پھر اس محاذ کو نئے بٹالین کے سپرد کردیا جاتا ہے...لگ بھگ ایک سو تین جوان ایسے تھے جو شادی شدہ تھے جن کی اولادیں یتیم، بیویاں بیوہ، ماں باپ بےسہارا ہوگئے تھے... کیونکہ اس شام برف کا ایک بڑا تودا ان سب آرمی بیس والوں پر آن گرا تھا برف کے اس پہاڑ تلے نوجوان پرسکون نیند سو چکے گئے...امدادی کاروائیوں میں چار سو جوان اپنے بھائیوں کو نکالنے کے لیئے دنیا کے بلند ترین مقام پر پہنچے اور اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانے لگے...اس رات وہاں اس مقام پر چار سندھ کے، آٹھ خیبرپختونخواہ اور سترہ پنجاب کے نوجوان گرم علاقوں کے باسی اپنے وطن کی محبت میں موجود تھے، جبکہ چونتیس آزاد کشمیر اور اکسٹھ نوجوانوں کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا...اس حادثے میں پاکستان کی بیش قیمتی جانوں کا نقصان ہوا تھا مگر کچھ اہم ان میں کرنل تنویر الحسن، میجر ذکاء الحسن اور کیپٹین ڈاکٹر حلیم اللہ خان شامل ہیں.. ان کے علاوہ پندرہ حوالدار، آٹھ نائیک، دس لانس نائیک، چھئتر سپاہی اور گیارہ عام آبادی کے لوگ بھی جان کی بازی لگا گئے تھے.. یہ سب کتنے وعدے کر کے اپنے گھروں سے نکلے ہونگے...کسی کی بہن اپنے بھائی کے آنے کا انتظار کرتی ہوگی کہ اس کے آنے پر ہی شادی کا جوڑا پہنے گی، کسی کی اولاد اپنے باپ کے احساس کو پہلی بار محسوس کرنے کی منتظر، کسی کے والدین اس کی شادی کے ارمان دل میں لیے متفکر... مگر وہ سب اسی رات منوں برف تلے دب کر ابدی نیند سوگئے تھے...اس سارے دورانیے میں کوئی ماں جائےنماز پر بیٹھی معجزے کے لیئے دعائیں مانگتی زاروقطار روتی رہی ہوگی تو کسی کی بہن سجدے میں بھائی کی زندگی کی سفارشیں کررہی ہوگی، کوئی بیٹی اپنے باپ کے ساۓ کے قائم رہنے کی فریاد کرتی ہوگی تو کوئی بیوی اپنے سہاگ کی زیست کی بھیک مانگنے لگی ہوگی...مگر پورے ایک سال کی کوشش کے بعد تمام جوانوں کی جسد خاکی ان کے لواحقین کے سپرد کردئیے گئے اور انتظار انتظار ہی رہ گیا..صدقے سے عمر بڑھتی ہے یا بلا ٹل جاتی ہے اور پاکستان آرمی کے ہر روز تین جوانوں کی شہادتیں ہمارے ملک کا صدقہ ہے اور یہ ہی صدقہ تحفظ بخشتا ہے جو ہمارا ملک آباد ہے... اس صدقے کی ادائیگی آخری دم تک ہوتی رہے گی..
گیاری پر موجود سپاہیوں کے ایمان افروز بیانات سے آج بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان شہیدوں کے آثار ابھی بھی وہاں موجود ہیں جو ان کی رہنمائی کرتے ھیں وہ شہید ہیں ﷲ نے ان کو مرے ہوئے کہنے سے منع فرمایا ہے اور ان کو زندہ تسلیم کرنے کا حکم دیا ہے وہ زندہ ہیں کیونکہ وہ وہاں موجود ہیں...
((ختم شد))

Leave a Comment