Afsancha#03 | Mustaqbil | HaaDi khan

 مستقبل
بقلم ہادی خان
شام کا وقت تھا جب سورج خماری میں مغرب سے جا ملا اور ڈوبنے لگا.عموماً اس وقت سارے بچے کھیلنے میں مصروف ہوتے ہیں.عصر کی نماز کے بعد وہ وہیں مسجد کی ہی سیڑھیوں کے پٹ پر بیٹھ کر باقی بچوں کو مختلف کھیلوں میں مست دیکھ رہا تھا.اس کے گال نمکین پانی سے بھیگے ہوئے تھےنیا وارڈن مسجد میں بعد نماز مولانا صاحب کا بیان سن کر نکلا
"کیا ہوا بچے..." وارڈن نے متعجب ہو کر پوچھا.
وہ بچہ ٹھٹھک گیا.
"کچھ نہیں...."وہ اٹھا اپنے آنسو کو بڑی مشکل سے چھپا کے اپنے کمرے کی جانب چل پڑا.
اس بچے کے رونے پر اس کو بہت فکر ہونے لگی،وہ مسلسل اس بچے پر نظریں رکھے ہوئے تھا....آس پاس کے بچوں اور اس کے کلاس فیلو سے پوچھ گچھ کر کے معلوم ہوا، اس کی والدہ کا انتقال ہوچکا ہے اور اس کے والد نے دوسری شادی کرلی.اس پر حیرانی کے پہاڑ تب ٹوٹے جب پتا لگا کہ علی یہاں زبردستی نہیں بھیجا گیا بلکہ خود اس قید نما ہاسٹل میں آیا ہے.
"علی اتنا پریشان کیوں رہتا ہے،میں نے اس کو اکثر روتا دیکھا ہے..."
"سر اس کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے ریاضی نہیں آتی اور علی روز مار کھاتا ہے، دن کا پہلا لیکچر ہی ایسا ہو تو آگے وہ کیا پڑھے گا...." وہ طالبِ علم علی کی کلاس کا سی آر تھا.
"ریاضی کا پیریڈ کب ہوتا ہے؟" وہ بس یہ ہی پوچھ سکا.
"دوسرا والا..." وہ کہہ کر چلا گیا.
ایک دن یہ سب دیکھنے کے لیئے وہ اس کلاس کے دروازے پر آکر کھڑا ہوگیا.
"تم ہو ہی جاہل گنوار کہیں کے..."
ساری کلاس اس پر قہقے لگائے جارہی تھی.
"جواب دو اس کا ایل سی ایم کیا آئے گا...."
وہ سر اور اونچا چلائے...جس سے علی سہم گیا.
ایک جھماکے سے ایک زبردست تھپڑ کی آواز آئی،اور پھر یکے بعد دیگرے وہ اس پر تھپڑ برساتے رہے.
"وہاں پیچھے ایک ٹانگ پر کھڑے ہوجاؤ اور دونوں ہاتھ بھی اوپر کرو ،خبردار جو دیوار کے ساتھ ٹیک لگایا تو..."وہ برہم آواز میں بھڑک کر کہہ رہے تھے،دروازے پر دستک ہوئی.
وہ وارڈن اب اندر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا...
"اوووو سعد تم، آجاؤ اندر آؤ..."سر سہیل کی نظر اس پر پڑی اور وہ حیران ہوگئے.
ایک ہی اسکول میں ہونے کے باوجود ان کی براہِ راست ملاقات آج پہلی بار ہو رہی تھی،
"کلاس یہ میرا سٹوڈنٹ ہے...."سر سہیل سعد سے دوگنی عمر کے لگ رہے تھے...
"کیا اتفاق ہے سر آج ملاقات ہورہی ہے..."ان دونوں کو خوش گپیوں میں مصروف پاکر کچھ بچے گردن موڑ کر اس سزا یافتہ لڑکے کو تمسخر کی نظر سے دیکھ رہے تھے...
"سر میں چلتا ہوں مگر یہ ایک بچہ کھڑا کیوں ہے...."اس نے رک کر پوچھا....
"یہ گدھا ہے...مار کھائے بغیر اس کو سمجھ نہیں آتی...."سر سہیل نے علی کو حقارت کی نظروں کا نشانہ بنایا،
"میری طرح..."سعد نے مسکرا کربے اختیار کہا...
"آج کچھ بن تو گئے ہو نا...."انھوں نے فخر سے کہا....
"سر میں نے اسی وجہ سے ریاضی چھوڑ دی تھی..."
((ختم شد))

No comments

Powered by Blogger.