Afsancha#04 | Ehsaas| HaaDi khan

احساس
از قلم ہادی خان
وسیع و عریض اور بلند دیواروں کا سلسلہ بہت بڑی عمارت کا احاطہ کیے ہوا تھا..
باہر چاروں اور چھوٹے بڑے دواخانے بنے ہوئے تھے...
اپنے ۱۰ سال کے بچے کو لیئے وہ اس عمارت میں داخل ہوئی..
لوگوں کی بھیڑ کو دیکھ کر اس نے اپنا گھونگٹ نکالا...
اس نے لوگوں کے اس جمِ غفیر سے منہ سر چھپا کر مطلوبہ جگہ کی طرف رُخ کیا..ایک طرف کو اپنے بچے کو بیٹھایا جو کہ نیم غنودگی کی حالت میں زرد آنکھوں سے بلک رہا تھا..
ماں نے ۱۰ روپے کی پرچی لی اور بنا وقت کے ضیاع کے وہ واپس پلٹی..کسی رٹی رٹائی فلم سکرپٹ کی طرح وہ یک کے بعد ایک کام کرتی گئی .وہ شہر کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال تھا..سویرے سویرے ہسپتال پوری طرح بھرا نہیں تھا..ہماری قومی انتظار گاہ ہمیشہ سے دروازہ ہی رہا ہے..اس لیئے ڈاکٹرز کے منتظر سب نے باہر کا راستہ بند کر رکھا تھا..
اس عورت کے مُرجھائے مرے چہرے سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ گزشتہ شب سوئی نہیں..پہلے آکر اس عورت نے مطلوبہ ڈاکٹر کے روم کے باہر بینچ پر ڈیرا لگالیا تھا..کچھ دیر آنکھیں موندلی وہ نہیں جانتی تھی کب اس کی آنکھ لگ گئی..یہ دیہاتیوں کے لوگ انتہائی سادہ ہوتے ہیں نہ ان میں مغروری ہوتی ہے نہ انا اور نہ ہی ان میں دنیاداری کو ایک خاص زاویے سے دیکھنے کی نظر...یہ سب تو صاحبِ عقل شہری پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے.. یہ دیہاتی تو کسی شے میں بے سوادی نہیں محسوس کرتے مگر بڑے لوگوں کو تو انسانوں سے بھی بے سوادی سی محسوس ہوتی ہے...وہ غریب انسان کو بھی حقیر اور کم تر سمجھتے ہیں...چند لمحے ہی گزرے ہوں گے..لوگوں کی چہ مگوئیاں اور سرگوشیوں کا شور بڑھتا چلا گیا...اس عورت نے آنکھ کھولی..وہ ڈاکٹر کی شکل سے ناآشنا تھی..مگر ایک شخص سفید کورٹ پہنے بڑی شانِ بے نیازے سے چلتا ہوا آیا..
جس کے عقب میں لوگوں کا مجمع چلا آرہا تھا..
وہ عورت اس سب میں ڈاکٹر کے معاونِ خصوصی سے اپنی پرچی پر نمبر لگوانا بھول گئی...اسے معلوم نہیں تھا..کیونکہ اس کو ہدایت دیتے وقت محلے کے اسلم چاچا یہ بتانا ہی بھول گئے تھے...وہ کہاں جانتی تھی بڑے ہسپتالوں میں کیا ہوتا ہے..وہ لپک کر ڈاکٹر صاحب تک پہنچی..
"ڈاکٹر صاحب! میرا بچہ بیمار ہے خدا کے واسطے آپ اس کو دیکھ لیں...." وہ عورت گڑگڑائی...
"رات بھر بیمار رہا ہے نہ سو پارہا ہے نہ اٹھ پارہا ہے...."اس نے ہاتھ جوڑ دیئے،،،
اسے بات کرنے کا بھی طریقہ نہیں آتا تھا...
"آپ اسے میرے روم میں شفٹ کریں میں ۱۰ منٹ میں دیکھتا ہوں..." بیزار سے کہا..
ڈاکٹر نے ایک نظر اسے دیکھا اور آگے بڑھ گیا جس سے اس عورت کو قدرے تسلی ہوئی تو وہ مطمئن سی ہوگئی اور آس لگا کر اپنے تڑپتے ہوئے بچے کی جانب پلٹی....
اس نے ان ہدایات پر عمل کیا..
مگر اب ۱۵ منٹ گزر چکے تھے..
انتظار طویل ہوتا جارہا تھا..
دس سالہ منیب کے منہ سے آہ نہ نکلی تھی کہ ماں کی آنکھ چھلک اٹھی...ماں کے آنسوؤں کا براہ راست رابطہ ہوتا ہے اس میں اگر واسطہ یا بلا واسطہ ایک تعلق ضرور ہوتا ہے..
ڈاکٹر پتا نہیں کہاں غائب ہوگیا تھا وہ بچے کے سر میں کنگھی کی مانند ہاتھ گھمانے لگی....
"ابھی ڈاکٹر آجائے گا، اور تو جلدی ٹھیک ہوجائے گا منا...."وہ بینچ پر درد سے کراہتے بچے کو پاس ہی زمین پر بیٹھ کر طرح طرح کے دلاسے دینے لگی.....
صبح کا وقت تھا اور صفائی کا کام ابھی شروع نہیں ہوا تھا...ہسپتال کی حالت انتہائی ناقابلِ برداشت، صفائی کا ناقص نظام اور کلبلاتے مریض جن کے بیٹھنے کیلئے جگہ بھی میسر نہ تھی...بس پہلے آؤ پہلے پاؤ والا ماحول تھا...
سٹیچر کا نام و نشان نہیں تھا...مریض بینچ کو پاکر ہی غنیمت جانتے تھے..آخر کو وہ شہر کا سب سے بڑا اور مشہور سرکاری ہسپتال تھا... ان ہسپتالوں میں تو ازل سے یہی حال ہے....مگر ہمارے حکمران اسی پر ہم سے ووٹ لے جاتے ہیں...ہمارا پالا پڑنے کے باوجود ہم نے کبھی آواز نہیں اٹھائی...کیونکہ ہم خود اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں..
ڈی-ایچ-کیو میں سے سب ڈاکٹرز نکل کر باہر جانے لگے ان سب کے چہرے اترے ہوئے تھے جیسے کوئی بہت بڑا حادثہ پیش آگیا ہو....
بہت سے مریضوں کے لواحقین آس لئے ڈاکٹرز سے پوچھنے لگے تو ان کا ایک ہی جواب تھا بس....
"ہمارا مسئلہ آپ لوگوں سے زیادہ سنگین ہے..." 
اب خدا معلوم ان کا ایسا کیا مسئلہ تھا مریض اور لواحقین ایک دوسرے کی شکلیں تکنے لگے....خیر وہ ڈاکٹر پندرہ منٹ بعد پھر اس عورت کو دکھائی دیا جس کا منہ ابھی تک لٹکا ہوا تھا.. پھر سے اس کی جانب لپکی استدعا کرنے لگی کہ "میرے بچے کو دیکھ لیں" مگر وہ چہرے پر بیزاری سجائے ٹالتا آگے بڑھ گیا تو وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی....اس کی نگاہ بے ساختہ آسمان کی جانب اٹھی اور وہ مدد کی درخواست لئیے آنسو بہانے لگی....
تھوڑی دیر بعد جب بچے کے درد میں اضافہ ہونے لگا تو اس کی ماں باہر جاتے ڈاکٹرز کے ہی پیچھے بھاگی....
باہر بھی بہت سے ڈاکٹر اسی ایک جانب کو جا رہے تھے جیسے (پائیڈ پائپر) کی دھن کے پیچھے چوہے گئے تھے...
بالکل اسی طرح کچھ مریض اور ان کے عزیز بھی ان کے پیچھے پیچھے جارہے تھے....وہ سب ساتھ ہی بنی ایک بڑی سی عمارت میں چلے گئے جو ایمرجنسی کی تھی...
وہاں ایک ہجوم تھا ڈاکٹرز کا اور ان میں سے کچھ کو شاید ابھی ابھی گھر سے بلایا گیا تھا جو بڑی بڑی گاڑیوں میں وہاں پہنچے تھے...بہت سے مریض بہت سے اندیشوں میں گِھر چکے تھے...
"کیا ہوا ہے یہاں اور سب ڈاکٹر کیوں چلے گئے ہیں..."ایک عورت نے سٹاف کے ایک شخص سے پوچھا...
"یہ ہڑتال کریں گے تاکہ ان کی تنخواہیں بڑھائی جائیں..."پان چباتے وہ آدمی بولا....
"تو کیا آج مریض نہیں دیکھیں گے؟" اس کی متلاشی نظریں اس کی جانب اٹھیں...
"نہیں شاید...اب دیکھتے ہیں کیا ہوگا...."
وہ عورت اپنے بیٹے کے سرہانے دوبارہ آئی جو درد سے تڑپ رہا تھا....
"ہماری مانگیں پوری کرو...."بڑے بڑے ڈاکٹرز سڑکوں پر نکل آئے....
"یہ مسیحا صفت قوم غرور اور تکبر سے کیوں اکڑ جاتی ہے..
کیا ان میں احساس کا عنصر نکال کر ڈاکٹر کا رتبہ دیا جاتا ہے؟" وہ بے بسی سے سوچنے لگی اس کا بیٹا بار بار تلملا کر آہیں بھر رہا تھا...
"ہماری تنخواہیں بڑھاؤ" وہ اونچی اونچی آواز میں صدائیں دے رہے تھے....شعور اور احساس دونوں بیک وقت ایک انسان میں موجود ہوں تو وہ انسان کندن سا ہوجاتا ہے...
لیکن یہاں کسی کے پاس شعور ہے تو کسی کے پاس احساس...اگر احساس ہے تو شعور نہیں اور شعور ہے تو احساس نہیں.. بس ان ڈاکٹرز کے پاس شعور تو تھا مگر احساس کا فقدان تھا جبکہ مریض کی ماں ،بہن ،باپ بھائی کے پاس احساس تھا مگر شعور نہیں....
شعور بِنا احساس کے ایسے ہی ہے کہ ایک کرکٹ پلئیر کو باسکٹ بال پکڑا دیا جائے...
شعور باہر بھکاری بن گیا تھا جبکہ احساس اندر سانس سانس مر رہا تھا.....
یوں اس دن کوئی مریض نہ چیک ہوا...
لوگ پورے شہر سے ایک آس لے کر وہاں آئے تھے مگر مفاد پرست لوگوں کو اس سے کیا...
وہ بچہ وہی ایڑیاں رگڑتا رگڑتا تکلیف سے آنسو بہاتا رہا...
کاش اس کی ماں کے پاس اسے ٹھیک کرنے کا شعور ہوتا...
کاش ان ڈاکٹرز کے پاس تھوڑا سا احساس ہوتا...

((ختم شد))

No comments

Powered by Blogger.