Column#04 | Talafi | HaaDi Khan
تلافی
ازقلم ہادی خان
اسرائیل کے وزیر اعظم کا وادی اردن کواسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان۔۔۔
محمد بن سلمان نے او آئی سی کا فوری اجلاس بلالیا۔
تبصرہ:-
سب سے پہلے ترکی اور سعودی عرب نے مذمت کی۔
چونکہ اسلامی ممالک کی تنظیم کے ۵۷ ارکان میں ترکی اور پاکستان کےعلاوہ کوئی اتنی خاص فوجی صلاحیت نہیں رکھتا جو اسرائیل جیسے ملک کا سامنا کرسکے۔
یہ منصوبہ بہت پہلے سے اسرائیل نے بنارکھا تھا۔
جس میں ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش۔
انڈیاکا کشمیر میں کرفیو۔
عربوں کو انڈیا کی حمایت کرنے پر مجبور کرنا۔
پاکستان اگر اب کشمیر کی جانب مصروف ہے تو ترکی اکیلا بھی اسرائیل کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا اسرائیل کے کمال مہارت رکھنے والے پائیلٹس اور طیارے صرف جے ایف ۱۷ کے پاکستانی شاہینوں کے سامنے گرتے ہیں۔
اب پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر توجہ دینی چاہئیے ہمیں کب تک دوسروں کی لڑائی لڑنی ہوگی؟
کیا ہم بھی مداری کے بندر کی طرح ان کے ڈمرو پر ناچیں گے؟
بس بھئی بس اب عربوں کو خود ہتھیار اٹھانے چاہئیں کب تک ہمارےکندھے پہ بندوق رکھ کر چلائیں گے۔
اسرائیل نے اپنا کام کردیا پاکستان کو اپنے راستے سے ہٹا کر۔
حکام بالا سے درخواست ہے جب میرا کشمیر جل رہا تھا تو انہی عربوں نے مودی(قصائی )کو بلا کر ہار پہنائے تھے۔
اعزاز دیئے تھے۔
مت بھولیں کہ یہی لوگ ہماری پسپائی کا سبب بنے ہیں۔
مسلمانوں کے قاتل ہیں۔
ہم نے اس طرح بھارت کو جواب نہ دیا کیونکہ امت مسلمہ (کھوکھلی)کا کہنا تھا ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔
ارشاد باری ہے:'' اے نبی، اپنی بیویوں سے کہہ دو، اگر تم دنیا اور اس کی زینتوں کی طالب ہو تو پھر آؤ، میں تمھیں دے دلا کر خوب صورتی کے ساتھ رخصت کردوں اور اگر تم اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو اطمینان رکھو کہ اللہ نے تم میں سے خوبی کے ساتھ نباہ کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کوئی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہو گی تو اس کے لیے دوگنا عذاب ہو گا، اوریہ بات اللہ کے لیےآسان ہے۔ اور جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار بنی رہیں گی اور نیک عمل کریں گی تو اسے ہم دُوہرا اجر دیں گے۔ اور ہم نے ان کے لیے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو،چنانچہ( اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو) تو لہجے میں نرمی اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں خرابی ہو ، وہ تمھارے بارے میں کسی طمع خام میں مبتلا ہو جائے اور صاف سیدھی بات کیا کرو۔ اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح سج دھج نہ دکھاتی پھرو، اورنماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ و رسول کی فرماں برداری کرو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے ، اِس گھرکی بیبیو کہ تم سے وہ ( گندگی دور کرے )جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں( اور تمھیں پوری طرح پاک کر دے۔ اورتمھارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور اُس کی نازل کردہ حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے، )اپنے ملنے والوں سے( اُس کا چرچا کرو۔ بے شک ،اللہ بڑا ہی دقیقہ شناس ہے، وہ پوری طرح خبر رکھنے والا ہے۔'' ) سورۃ الاحزاب 28۔34
مقام جتنا زیادہ ہوگا سزا بھی اسی حساب سے ملے گی۔
شاید احادیث کی تکمیل کا وقت آچکا ہے۔
یہ عرب اپنی عیاشیوں میں ڈوب کر ساری امت مسلمہ کے قتل کے ذمہ دار بنیں گے۔

Leave a Comment