Marasla#02 | HaaDi khan

سوال کیاگیا۔۔۔
بھائی مرد لکھاری اتنی کم تعداد میں کیوں ہیں؟؟؟
بڑی دیر سوچتا رہا ۔۔۔۔۔وقت زیادہ لگا۔۔۔
تین دن سوچا۔۔۔
ایک مہینہ۔۔۔۔
ایک سال۔۔۔۔۔
دوسال ہونے کو ہیں۔۔۔۔
جواب اب ملا۔۔۔۔
ایک مصنف کودوسرے مصنف کا کام ہرگز پسند نہیں آتا۔۔۔۔
اسے صرف مصنفہ کا کام ہی پسند آتا ہے۔۔۔
ایک نوجوان لکھاری اپنی تمام تر کوشش کرکے ایک تحریر (بناکسی رہنمائی کے)کو ترتیب دیتا ہے۔۔۔۔
بڑی ساری امید لے کر وہ ایک قدآور لکھاری (بونے لوگ)کو وہ تحریر رہنمائی کے لئے پیش کرتا ہے۔۔۔۔
اپنی من کی بھڑاس نکالنے کو وہ بڑا لکھاری(بونا)اپنے قد اور انا کے مطابق اس پر تنقید کے گھوڑے دوڑا دیتا ہے۔۔۔(مطلب وہ جیسے ماں کے پیٹ سے سیکھ کر آیا تھا)
اس کے برعکس ایک مصنفہ جب اپنی میک اپ زدہ تحریر کو پوسٹ کرکے مینشن کر دے تو تعریفوں کے پل باندھ دیئے جاتے ہیں۔۔۔
حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اول کوشش پر سراہا جاتا ہے(نوجوانوں کے لئے یہ آفر بالکل نہیں ان کی تحریرکسی اور نقطہ نظرسے دیکھی جاتی ہے)
اس پر ستم اور یہ کہ انباکس میں اصلاح کے نام پر اپنی انا مطمئن کرنے کے بعد ٹائم لائن پر بھی اپنی واہ واہ کروانے کے لئے وہ دوبارہ اپنے بونے ہونے کاثبوت دیتے ہیں۔۔۔
اس کے بعد کسی کوپھول کو گوارہ نہیں وہ کلی بھی بنے۔۔۔
میں بہت سے ایسے لکھاریوں کو جانتا ہوں جن کے یہی کام ہیں کسی مصنف کے اچھے خیال رد کرنے والے کی مصنفہ کی بےکار سی تخلیق کو بھی سر پر اٹھا کر گھومتے ہیں۔۔۔۔
نقاد کا تو کام ہی یہی ہے سرکار نوآموز لکھاریوں کے کپڑوں پرلگے داغ کی رونمائی کرنا خود وہ بھی تو ایسے ہی پیوندکاری سے ماہر جولاہے بنے ہیں مگر رہنے دو یہ حوس کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔۔۔۔
میں نے اگر اب کچھ سوچ وفکر تھوڑی بہت ادب کی فہم سے اگر اب تنقید کی تو میرانشانہ نوآموز نہیں یہ بونے لوگ ہوں گے بہت جلدی جلتی جلتی دیکھنے کو ملے گی۔۔۔
ان کی تحریر کردہ پر احتراز کرنے پر مریخ تک کی چیخیں سننے کے لئے تمام لوگوں کو مدعو کرتاہوں۔۔۔۔ 
یہ کہنے والے ہیں سنے والے نہیں۔۔۔
ان شاء اللہ بہت جلد
آخر میں یہی کہوں گا سوال کرنے والا اور جواب دینے والے دونوں انسان میں بذات خود ہی ہوں۔۔۔۔

خاکسار ہادی خان۔۔۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.