Microf#1 |Peshwa| HaaDi Khan

پیشوا
ازقلم ہادی خان
علیم صاحب کو اللہ نے آج آٹھ سال بعد اولادِ نرنیہ جیسی نعمت سے نوازا تھا...
خوشی کے مارے وہ مسجد گئے اور سجدہ ریز ہو کر زارقطار روئے...
ایک جشن سا ماحول چھا گیا تھا خاندان بھر میں...
وہ سب جو آٹھ سالوں میں کسی پیر، فقیر اور ڈاکٹر کی کرامات گنتے تھے ان سب کو چپ لگ گئی تھی..اللہ کی کرامت دیکھ کر..
وہ نہ کسی ڈاکٹر نا کسی پیر فقیر کی کرامات تھی وہ بس المتکبر کی ہی کرامت ہے..
نا جس کہ ہاں دھمال ڈالنا پڑتا ہے...نہ قطاروں میں کھڑے اپنے نمبر کا انتظار کرنا پڑتا ہے...بس رضاالہٰی کے لیئے سجدے میں پڑ کرا پنی فریاد اسے سرگوشی میں سنانی ہوتی ھے " 
نام تجویز کرنے کو مسجد کے قاری صاحب سے رجوع کیا...
عاطر نام کا مشورہ دیا گیا...
جس کا مطلب ہی عطر (خوشبو) سے نکلا ہوا ہوبھلا کس کو ناپسندہوتا..
ہوا تو آلودہ تھی مگر علیم صاحب کو سانس سانس تازگی دے کر خوشی سےتر کرتی جارہی تھی...
خوشی کی انتہا یہ تھی کہ خلافِ معمول آتے جاتے کو سلام کرتے ہوئے گھر پہنچے...
لوگ آتے بچے پر ہلا بول دیتے۔ عقیدت کی انتہا یہی ہوتی کہ اٹھاکرچومتے اور گال سہلاتے۔
پھر بچے کی شکل کو اپنی شکل سے تشبیہ دینے لگتے ہیں.. فلاں کی طرح آنکھیں ہیں فلاں کی طرح ناک۔
حبیبہ بیگم کو سب آکر بدھائیاں دیتے...
"بڑی بختاور ہو حبیبہ اللہ نے تمھارے صبر کا پھل دے دیا ہے..."پڑوس کی ایک عورت نے توصیفی انداز میں کہا...
یوں ہی سارا وقت گزر جاتا۔
"حبیبہ" علیم صاحب نے رات سونے سے پہلے حبیبہ کو مخاطب کیا...
"جی"
"تم نے مجھے بہت بڑی خوشی دی ہے..."وہ جذباتی سے ہوگئے...
"یہ آپ کے صبر کا نتیجہ ہے..."حبیبہ نے انکا ہاتھ تھاما...
"اللہ کے نزدیک جس طرح نہ تم مایوس ہوئی نہ مجھے ہونے دیا..جو پیار بانٹا ہے میں تمھارا مقروض ہوں..."علیم صاحب جذبات کی ندی میں بہتے جارہے تھے...
"یہ کیسی باتیں کررہے ہیں...میرا سہارا تو آپ تھے...اگر آپ کا ساتھ نا ہوتا تو میں یہ اکیلی کبھی نہیں کرسکتی تھی..."حبیبہ نے انکا ہاتھ زور سے دبایا...
آنے والے وقت کے لیئے کچھ منصوبے بنانے لگے اور یونہی باتیں کرتے وہ دونوں نہ جانے کب سوگئے...
اگلے دن عقیقے کے لیئے بکرے خریدے گئے اور ساتھ ہی منت بھی پوری کی گئی اور ایک گائے کا صدقہ دیا گیا..
تو وہ صدقہ بانٹنے کا مسئلہ بھی بہت حد تک پیچیدہ رہا..
اب پوری دو دیگیں بچ چکی تھیں...
علیم صاحب ایک دیگ لے کر مسجد گئے لیکن وہاں گنتی کے لوگ تھے...مسجد کے باہر تو ویرانی تھی...
فقیروں نے بھی جمعہ کا دن ہی منتخب کر رکھا تھا....
گزرتے ہوئے انکی نظر ایک مندر پر پڑی...
باہر ایک لمبی قطار فقیروں کی لگی تھی...
ایک شخص بھاگتا ہوا آیا اور دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر التجائیہ انداز میں کھانے کی بھیک مانگنے لگا...
"کھانا دے دو صاحب جی..."اس شخص کے چہرے پر فقط امید تھی...
"دو اسے.." محلے کے ایک لڑکے نے اس شخص کو گائے کے بنے گوشت کا سالن دیا جسے وہ بہت مزے لے کر کھانے میں مصروف تھا...
اسے دیکھ کر سب نے دیگ کے ارد گرد گھیرا ڈال لیا۔
باری باری سب نے اپنے ہاتھ میں پکڑے پیالے کو بھروایا اور خوب سیر ہوکر کھانا کھایا۔
"تم ہندو ہو..."اس فقیر کا لاغرجسم اس کےنیم برہنہ لباس سے نظر آرہا تھا...
"جی صاحب جی.." اس فقیر نے صاف گوئی سے کہا..."یہ گائے کا گوشت ہے..."علیم صاحب ندامت سے بولے...
تھوڑی دیرکے لیئے سناٹاچھاگا۔
"صاحب جی سائل کا پیٹ پہلےہوتا ہےایمان بعد میں ..."
ایمان سے پہلے ضمیر آتا ہے۔
انسانیت سر فہرست ہےصاحب جی۔جیسے آپ کے لیئے بھلائی پہلی ترجیح ہے۔
"پیٹ کھانا مانگتا ہے...مذہب یا فتنے کی باتیں نہیں..."یہ کہہ کر وہ کھانےلگا
وہ چونکے یا ٹھٹھکے مگر ان کےایمان کی بنیادیں ہل گئی۔

No comments

Powered by Blogger.