Sawalaat-O-Jawabaat#01 | HaaDi Khan
چند سوالات اور ان کے جوابات ایک نشست میں موناشہزاد آپی سے ۔
سوال:1
زندگی خواہشات کا مجموعہ ہے جیسے جیسے انسان بڑھوتری کی طرف جاتا جاتا ہے خواہشات بھی اپنا قد بڑھاتی جاتی ہیں۔۔۔
کیا انسان خواہشات پرقابوکر سکتا ہے؟
ہم نوجوان کیسےاپنی خواہشات کو اپنے ہاتھوں میں جھکڑے رکھیں؟؟؟
جواب:
خواہش اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ خواہشات کے پودے لگانا جرم نہیں مگر خواہشات حقیقت پسندانہ ہونی چاہئیے ایسی خواہش مت کیجئے جس کے لئے کسی کے کاندھوں کو زینے کے طور پر استعمال کرنا پڑے یا مکر فریب کرنا پڑے۔ خواہشات کا بے ہنگم پھیلاو نہیں ہونا چاہیے ۔
نوجوانوں کو ایک نصیحت کروں گی کہ قرآن ترجمے سے پڑھیں ۔ خواہشات خود بخود جائز دائرے میں آجائیں گی۔
سوال:2
ہم ساری عمر ہی شکوے شکایات کرتے ہوئے ہمیں یہ یہ ملا نہیں یہ میسر نہیں ہوااور جب اپنے ہی زوربازو میں کمزور پڑجائیں تو شکر کی پہاڑی چڑھنے لگتے ہیں۔۔۔
وہ تھکا دیتا ہے ہماری چاہت کے پیچھے لگا کر۔۔۔
کیوں ہم نو عمری میں اپنے آپ کو اس کے سپرد نہیں کرتے اور ہم کیوں بڑھاپے میں ہی اس کے در پر جاتے ہیں؟
والدین کی عدم توجہ یا رویت ہی یہ بن گئی ہے؟
جواب:
اصل میں ہم اس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں پر والدین بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر بچپن سے بنانا چاہتے ہیں مگر مذہب کی الف ب بھی نہیں پڑھائی جاتی۔ صرف عربی زبان میں قرآن پاک کی تعلیم کافی نہیں ہے ۔ قرآن ضابطہ حیات ہے مگر افسوس ہم اس کے احکامات کو سمجھ ہی نہیں پاتے۔ تمام عمر حالانکہ اللہ کی اطاعت میں بسر ہونی چاہئے ۔
سوال:3
ہم لوگوں کے پیوند زدہ کپڑوں پر ان کی تب تک ملامت کرتے ہیں جب تک وہ اس قبا کر اتار کر کفن نہ پہن لیں ۔ہمارے اپنے کرتے میں بڑے بڑے شگافوں کو چھپانے کے لئے کب تک دوسروں کے گریبان پھاڑتے رہیں گے؟؟
جواب:
یہ معاشرتی المیہ ہے ۔ جس ملک میں میں رہتی ہوں اس نے مجھے بہتر انسان بنایا ۔ یہاں انسان کی کیا جانور کی بھی قدر کی جاتی ہے ۔
ملک عزیز میں یہ بدلاو تب آئے گا جب لوگ خود کو بدلیں گے ۔
سوال:4
ایک وقت ہوا کرتا تھاجب ہمارے شہر میں گدھ ہوا کرتے تھے جو کہ مردار کھاتے ہیں مطلب آج سے 10 سے پندرہ سال پہلے مگر اب ایسا نہیں وہ ناپید ہو گئے ہیں۔۔۔۔
کیا ہم مسلمان اب حرام حلال کا بھی فرق نہیں کرتے پہلے لوگ حلال اپنے لئے اور حرام کر پھینک دیتے تھے جس پر وہ پرندے بسر کرتے مگر ہماری اپنی بھوک کیوں اتنی بڑھ گئی کہ ہم اب ان کے حصے کابھی کھانےلگ گئے؟؟؟؟؟
جواب:
واہ! ہادی بڑے ہی خوبصورت سوال۔
اصل میں اب آبادیوں کا بے ہنگم پھیلاو ہے۔ حلال حرام میں تمیز ختم ہوکر رہ گئی ہے۔انسان ہی گدھ بن کر اپنے جیسے انسان کو زندہ نوچ رہا ہے تو اب اصل گدھوں کی ضرورت کہاں رہی۔
سوال:5
ہمیں باری تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کہا ہے ہمیں فرشتوں سے سجدہ کروایا مگر میں اکثر سوچتا ہوں میں جب ہاتھ میں دانہ رکھ کر چڑیا کر بلاؤتو وہ بالکل بھی نہیں آتی ہم نے پرندوں تک کو ڈرا کر رکھا ہوا ہے اور جب مغرب کے لوگوں کو ہم کافر کہتے ہیں ان کے یہاں پرندوں جانوروں کے حقوق پر بھی قانون ہے بلکہ ان کے یہاں پرندے سڑکوں کے کنارے کھلے عام چلتے پھرتے اس ماحول کا حصہ لگتے ہیں۔۔۔
مگر ہم جوخود کو اشرف المخلوقات کہتے ہیں ہم سے باقی مخلوقات کیوں خوف زدہ ہیں ہم کہا پر غلط ہیں؟؟؟
جواب:
یہاں ہم بھیڑئیے، ریچھ، پرندے، ہرن، بارہ سنگھے عام پھرتے دیکھتے ہیں ۔ ہم سے کوئی خوفزدہ نہیں ہوتا کیونکہ ہم نے ان کا حق تسلیم کرلیا ہے ۔
ملک عزیز میں افسوس اس بات کا ہے کہ حق دار کو حق نہیں ملتا۔چڑیاں تک شکار کرلی جاتی ہیں ۔جس دن ہم نرم دل ہوگئے اس روز سب ٹھیک ہوجائے گا ۔

Leave a Comment