Sawalaat-O-Jawabaat#02 | HaaDi Khan
حرا قریشی بہنا سے ایک نشست میں پوچھے گئے میرے سوالات اور ان کے جوابات۔۔۔
جوابات میرے لئے تسلی بخش نہیں تھے میں نے شاید مصنفہ کے قد سے بڑے سوال پوچھ لئے تھے۔
سوال:1
اگر کوئی شخص ہمارے احباب میں شامل ہونے کی کوشش کرے تو کیا ہمیں اپنی حفاظت کے لئے اس کے جیب میں چاکو ،چھری پستول چیک کرنے چایئے (تحقیق کرنی چاہئے)کہ آیا وہ مار آستین نہ ہواور ڈس نہ لے یا اعتبار کرنا چاہئے؟
جواب:
کبھی ایسا سوچا ہی نہیں۔۔۔۔۔نہ ابھی تک واسطہ پڑا۔۔۔۔۔اور دعا ہے کہ واسطہ پڑے بھی نا۔۔۔۔۔
سوال:2
ہم روز سنتے ہیں فلاں جگہ خودکش دھماکہ ہو گیا ہے۔۔۔ دس لوگ جان بحق ہو گئے۔۔۔ کبھی کوئی بس کھائی میں گر گئی اور تیس لوگ جان بحق ہو گئے۔۔۔ ہم آئے دن انسانوں کو مرتا دیکھتے ہیں۔۔۔۔ کیا اس شور کو سنتے سنتے ہم اس کے عادی ہو گے ہیں؟ کیا ہمارے آس پاس چیخیں انتی بلند ہیں کہ اب ہمیں آواز ہی نہیں آتی کسی سمت سے ظلم کی؟
جواب:
ہر فرد کو اپنی جگہ اپنا فرض اسلامی اصولوں کے مطابق بہترین انداز میں ادا کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔
گر ایسا ہو جائے بہتتتتت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں۔۔۔۔
سوال:3
ایک دیرینہ قصہ مجھے یاد آیا ۔۔۔۔
ایک بار ایک خاندان امریکہ سے پاکستان آئے اور ائیر پورٹ پر ہی ایک ضعیف العمر شخص ہاتھ میں لاٹھی کا سہارا لئے سب کے پاسپورٹ جمع کر رہے تھے۔۔۔
اور سب پاسپورٹ وہی پھاڑ دیئے۔۔۔
اور جوتا اتار کر ان سب کو مارنے لگے۔۔۔
اور ساتھ گویا ہوئےبلاؤ اب کون سی پولیس مجھے ورکتی ہے۔۔۔۔
میں سوچتاہوں یہ ہمارا ایک خوبصورت ترین نظام تھا۔۔۔۔
مگراب باپ اپنے بچے کو کسی کام سے روکتے ہوئے کتراتا ہے ۔۔۔
ماں بچے کو مارتے ہوئے ڈرتی ہے۔۔۔
کہاہم نے احترام تہذیب کا قتل کیا؟؟
جواب:
تہذیب کے بگاڑ میں پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔
جب باپ خود غلط کاموں میں ملوث ہوگا۔۔۔۔تو کیسے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ اولاد فرشتہ صفت بنیں۔۔۔۔۔۔
علم کے ساتھ عمل بناء بیج کے شجر سا ہے۔۔۔۔
سوال:4
میں سمجھتا ہوں کردار لکھتے وقت اسے بےلگام چھوڑنا چاہئے،
وہ جس سمت جائے جو اپنے لئے انجام چنے اپنا مزاج خود بنائے۔۔۔
اس میں اپنی ذات کا عنصربالکل بھی نہ ہو۔۔۔
مگر یہ مجھ سے نہیں ہو پاتا میں ہر کردار میں اپنی ذات سے شرم و حیا ڈال دیتا ہوں۔۔۔
جس سے کہانی میری ذات سے جڑ کر ایک محدود سے دائرے کی اسیر بن کر رہ جاتی ہے۔۔۔
آپ کا کیا ماننا ہے ایک کردار کو پتنگ کی طرح ڈھیل دینی چاہیے یا اس کو کھینچ کر اپنے قابو میں رکھنا بہتر ہے؟
جواب:
چونکہ کردار منطق کی بنیاد پر تخلیق کرتی ہوں۔۔۔۔تو ایسے عناصر کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑے۔۔۔۔۔۔۔
میرے کردار کہیں نہ کہیں سے میری شخصیت کا عکاس ہوتے ہیں۔۔۔۔

Leave a Comment