Tehreer#01 | Sajda-e-Qalb | Amad Riyan Khan
سجدہ قلب
قلم زن: عماد ریان خان
ایک طویل سجدہ کرنے کے بعد وہ تشہد میں بیٹھا تھا.. ایک صف چھوڑ کر ستون کے ساتھ کمر ٹکائے ہوئے بابا جی اس نیم رخ منظر کو استغراق سے دیکھ رہے تھے.. عشاء کی نماز کے بعد مسجد تقریباً خالی ہو چکی تھی. بابا جی مؤذن اور مسجد کے خادم دونوں ہی تھے.. مسجد کی دیکھ بھال اور باقی کے دیگر امور دیکھنا ان کی ذمہ داری تھی..
وقت کافی ہو چکا تھا آخری پنکھا اور آخری بلب صرف اس آخری نمازی کے لئے چل رہے تھے.
اس ایک روشن بلب کی روشنی بہت محدود سی تھی.مگر اس کم لو میں بھی اس نمازی کا چہرہ تابندہ ظاہر ہو رہا تھا۔
وہ بھی اپنی تسبیحات میں مگن فرداً فرداً اس نمازی پر بھی نظریں ڈالتے رہے..
اس وقت اس اجنبی نوجوان کے طویل سجدے ان کو اضطراب میں ڈالے ہوئے تھے.
بادل نخواستہ وہ اس کی نفل نماز کے سلام پھیرنے پر اس کے پاس آکر بیٹھ گئے.
"کیا ضد ہے بچے جو آج رب سے پوری کروا کر ہی چھوڑوگے..."
انھوں نے اس کے شانے پر تھپکی دی.
"ضد یہی ہے کہ رب مان جائے..."
لڑکے نے سنجیدگی سے کہا..
"کتنا عرصہ ہوا ہے رب کو ناراض کیئے ہوئے ؟"
وہ شیریں سخن تھے.
"تمام عمر تو میں نے نافرمانی ہی کی ہے مگر تین برس تو میں شرک میں مبتلا رہا...."
وہ شرم سے سرنگوں بولا.
"کس کو پوجتے رہے ہو حضرتِ انسان؟
وہ ساتھ ساتھ تسبیح کے دانوں پر ورد کر رہے تھے.
"لاحاصل کو...بشر کو..."
وہ شرمندہ تھا.
"اوہ بشر...اس لفظ اور ذات سے "ب" نکال دو تو شر ہی رہ جاتا ہے یہ بشر کا "ب" ہی ہے جو بندگی کو ظاہر کرتا ہے..."
وہ سوچوں کے پنچھیوں کے سنگ کہیں دور نکل گئے.
خاموشی چھا گئی.
چھت کے ساتھ آویزاں پنکھا گھرر گھرر کی آواز سے ماحول کے سکوت میں ایک ارتعاش پیدا کررہا تھا..ساتھ ہی گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز سے ساری خاموشی متاثر ہو رہی تھی.
اس نے پھر سے کھڑے ہو کر نیت باندھی اور نوافل ادا کرنے لگا...
وہ ضعیف العمر بابا جی وہیں پھٹی پرانی چٹائی پر نیم دراز ہو گئے.
کچھ دیر بعد ان کی آنکھ کھلی.
وہ لڑکا نماز سے فارغ ہو کر اب ذکر و اذکار میں مشغول ہو گیا تھا.
"کیوں خود کو ہلکان کرتے ہو بھولے بادشاہ !
اگر صدقِ دل سے معافی مانگو تو وہ مان جائے گا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے...."
انھوں نے بلند آواز میں خالی مسجد میں اس کو مخاطب کیا...
"ہاں مگر جس کثرت سے جس مدت تک بد دیانتی کی ہے اسی طرح اسی مدت تک منانے پر سکونِ قلب میسر ہوگا ورنہ یہ بد مِزاجیاں ، یہ بے قاعدگیاں عمر بھر دل میں باقی رہ جاتی ہیں اور نیندیں چھینے رکھتی ہیں.."
اس نے اپنی ابتری کے زوال کا خوف عیاں کیا.
"تم...تم صرف فرض پڑھ کر بھاگ جانے والے تھے اب یہ نوافل اور اذکار بھی ادا کرتے ہو حادثہ کیسے پیش آیا؟"
انھوں نے نظریں چُرا کر کہا...
"مٹی کی مورت سے سر ٹکرا ٹکرا کر مجھ پر حقیقت کھلی..."
اس نے اقبالِ جرم کیا..
وہ لڑکا اٹھا..بالکل ان کے مقابل آکر کھڑا ہوا..
"میں نے اپنی عبادت کے لیے اس مسجد کا انتخاب کیوں کیا معلوم ہے آپ کو..."
وہ لڑکا ان کی طرف دیکھ کر بولا..
"کیو..کیوں..."وہ ہکلائے..
"کیونکہ باقی کسی مسجد میں مؤذن دیر رات تک نہیں جاگتے...جان چکا ہوں کہ یہ روگ عمر بھر کا ہے رب کو منالیں کیا پتا رہتی عمر میں مان جائے..."
"فجر میں ملاقات ہوتی ہے ان شاءاللہ...اللہ نگہبان...." وہ لڑکا جاتے جاتے وہ آخری بتی بھی بجھا گیا.اب صرف پنکھے کی گڑگڑاہٹ تھی اور گھڑی کی ٹک ٹک..
9جولائی 2019

Leave a Comment