Tehreer#02 | Dastan-e-Ishq | Amad Riyan Khan
داستان عشق
قلم زن عماد ریان خان
وہ پچھلے دو پہروں سے وہیں ایک طرف کو نشست پر بیٹھی ہوئی تھیں..
شام تقریباً آچکی تھی..
کوّے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ قافلوں کی صورت میں اپنے درخت تلاش رہے تھے..
چڑیاں اپنے اپنے ہمسفر کے سنگ گھونسلوں کی جانب اُڑ چلیں...
کسی جانب کوئی گھریلوں پرندے کبوتر وغیرہ نہیں تھے..
کیونکہ وہ اب صرف دیواروں پر آویزاں تصوریروں میں ہی چسپاں ہوکر رہ گئے تھے۔
اس وقت سارے آسمان پر افرا تفری کا ماحول چھایا ہوا تھا..
دورِ حاضر کا سب سے سنسنا پہر شام بن چکا تھا..
اب بچے کھیلتے نہیں تھے۔
کھیتوں کے قریب اب کسان کو یہ خطرہ بھی لاحق نہیں تھا کے گیند کھیتوں میں چلی جائے گی...
وہ مکمل طور پر مطمئن ہو چکا تھا کہ اس کی کھیت اب کوئی بچہ خراب نہیں کرے گا..
شام کو وہ بڈھی عورت اپنے سامنے رکھے کلپ بورڈ میں سے کچھ کاغذات نکال رہی تھی...
ایک دو صفحات کو تہہ دے کر ڈائری میں رکھا اور باقی سب پھاڑ دیئے..
ٹکڑے ٹکڑے ہوئے کاغذ دراصل لفظوں کی جدائی تھی..
جن کا آپس میں کوئی میل نہ بنا وہ جدا ہو گئے..
جن کا ملنا کوئی مطلب نہیں رکھتا وہ جدا ہو جاتے ہیں..
وہ ایک بڑے تنے پر سے اب اٹھ گئی تھیں..
یہ شجر بھی تو زمین سے جدا ہو کر مر گیا..
مگر اس کی لاش باضد ہے اسے وہاں سے نہ اٹھایا جائے ۔
سارے جہاں میں سرخی ابھری ہوئی تھی..
کچھ ٹکڑے اس بڑھیا کی چادر کے ساتھ گھسٹتے ہوئے آگے کو چلے..
جیسے وہ اس کے پاؤں پکڑ کر روک رہے ہوں..
مگر اس نے کسی کی ایک نہ سنی..
گرے پڑے بکھرے کاغذوں کو روند کر آگے نکل گئی۔
شاید وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی ان الفاظ کو پڑھے۔
کسی اجنبی کی انگلیوں نے ان سب کاغذات کو چنا..
بہت دیر کی مشکل کے بعد بلآخر اس عبارت کو جوڑ کر پڑھنے کے قابل بنادیا..
"ناجانے تم مجھے کس نیکی کے بدلے ملی ہو..."
"یہ آپ ہی جانو.."
"میں وہ نیکی تین بار اور کرنا چاہتا ہوں ہاہاہاہاہاہاہاہا..."
"شوق سے کرنا ۔تین بار نہیں بلکہ بار بار کرنا لیکن جس نیکی کے بدلے میں ملی ہوں نا اسے پہلے بدی میں بدل لینا ۔کیوں کہ تمہاری زندگی پر مکمل حق یا تو میرا ہو سکتا ہے یا کسی اور کا ۔۔۔بٹوارہ مجھے پسند نہیں اور اگر وہ تمہارا ہو تو تو بلکل بھی نہیں "۔۔
"تمہیں پتا ہے نا میں نے وہ قہقہ اس لئے لگایا تھا کہ تم میری ہنسی دیکھ کر ہمیشہ اپنا غم بھول جاتی ہو۔ تم شاید میری نادانی میں کی غلطی کو نظرانداز کردو...
"مگر تم نے جتنا اس بات کو محسوس کیا میں نے بولنے کے بعد سلگتے انگارے اپنے لبوں پر محسوس کئے.."
"میں شرمندہ و سرنگوں ہوں تم نے مجھے اس شرارت پر معاف کردیا.."
وہ عبارت ادھر ختم ہوگئی تھی..
💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫
💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫
ایک ۲۲ سال کا نوجوان اکثر وہاں شاعری کی کتاب لے کر اس اماں کے پاس بیٹھ جاتا تھا...
وہ دونوں اکثر بحث کرتے تھے آج بھی ایک موضوع پر وہ دونوں لب کشاں تھے..
"اماں جی یہ عشق کہا تلک جاتا ہے؟؟؟" نوجوان نے ساغر کی شاعری کی کتاب کو بند کیا...
جہاں غزل ختم ہوئی اس کے دماغ میں سوال ابھرا..
وہاں اس ماحول میں اور کوئی نہیں تھا..
"اگر عشق ہو تو ،،،عشق جنت کو جاتا ہے..." وہ اس کے گال کو کھینچ کر بولی...
ان کی رنگت نہایت سفید تھی اور ان کے چہرے پر عجیب سی متاثرکُن کشش رونما تھی...
"وہ کیسے آپ یہاں ہیں اور خان صاحب جاچکے ہیں..آپ دونوں نے ساتھ جانا تھا نا..یہ تو کسی طور آپ کی بات پر نہیں اترتا..." وہ باادب بچہ تھا مگر آج اس نے کچھ جرت کرکے کہہ دیا...
"یہ کیسا عشق ہوا؟؟"
"میری بھی یہی خوائش تھی کہ ہمیں موت بھی ایک ساتھ ہی نصیب ہو پر میں بھی چلی گئی ہوتی تو ہم دونوں کی زندگی ادھوری رہ جاتی جو کام انھوں نے میرے سپرد کیا وہ کیسے چھوڑ کر جاتی ۔آخر عشق میں محبوب کے ادھورے اور بگڑے کام بھی تو سنوارنے ہوتے ہیں نا ...." وہ آہستگی سے بولیں جیسے ان کو مجبوری کے تحت کر رہی ہوں...
"البتہ ہمارے عشق کا ثبوت یہ ہےکہ ان کی قبر کے پہلو میں میں نے پتھر رکھ کر اپنے لیئے جگہ مختص کرلی ہے..."
"کون سا کام؟" اس لڑکے نے الجھن سے پوچھا..
"میں ہماری زندگی کی داستان کو مکمل کر رہی ہوں..."انھوں نے تھکے ہوئے انداز میں سانس خارج کی...
"یہ سلسلہ انھوں نے شروع کیا اور ان کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری ان کی وصیت کے مطابق میری ہے کہ میں لکھوں گی..." انھوں نے آج بہت بڑا انکشاف کیا تھا...
"زندگی تو آپ دونوں کی ادھوری لگ رہی ہے میری نظر سے..." اس نے چند ساعت سمجھنے میں لگائے اور پھر بولا....
"نہیں ادھوری تھوڑی ہے... کچھ عبارتیں میں ادھر روز پھاڑ کر پھینک دیتی ہوں جو وہ ڈائری میں شامل نہ کرسکے اور میں کرنا بھی نہیں چاہتی وہ تو تم ہی جوڑ جوڑ کر پڑھ لیتے ہو نا؟" انھوں نے مسکراتے ہوئے چہرے کا رخ اسکی جانب کیا..
"میں کب..." وہ ہچکچا سا گیا..
"میں رک کر دیکھتی رہتی ہوں..." انھوں نے شرارتی انداز اپنایا..
"اچھا چھوڑیں انھوں نے کتنی لکھی اور آپ نے کتنی؟" اس نے بات گول کردی..
"انھوں نے ۷۱ لکھی اور میری ۹ ہونے کو ہیں بس..." وہ آنکھوں کے آنسو چھپاتے ہوئے فخر سے بولی...
"یہ ہماری زندگی کی ساری داستان ہے بچے وہ عبارتیں جو میں نے پھینک دیں وہ میں شامل نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میں کسی طور تلخ یادیں اپنی داستان میں شامل نہیں کر سکتی..." انھوں نے حتمی انداز میں کہا..
"مگر یہ زندگی کا حصہ ہیں انھیں ہم چاہ کر بھی نہیں نکال سکتے..." وہ کسی اور دنیا سے ایک خیال ادھار لایا تھا...
"ہمیں عشق ملے گا ، مگر صرف دعاؤں سے جیسے ہمیں ملا عبادت سے... امید ہے اب یہی عبادت ہماری اس دعا کی قبولیت کا بھی وسیلہ بنے گی..." وہ سورج کو آخری سانسیں بھرتا دیکھ کر بولیں...
"کون سی دعا..." اس نے تجسس سے پوچھا...
"ہم دونوں ہی یہ دعا کرتے تھے کہ اے مالک جیسے ابا آدم اور اماں حوا جنت میں ساتھ تھے اور پھر زمین پر بھی ساتھ رہے ہمیں تو نے زمین پر ساتھ رکھا اور اب جنت میں ساتھ رکھ کر اپنی روایت برقرار کردے..." ان کی بات سے ان کا عزم ظاہر تھا..
"آمین ان شاءاللہ ایسا ہی ہوگا..." اس نے بے اختیار کہا..
"میں اب ڈر رہی ہوں وقت نزع قریب آگیا ہے مگر اس کا انجام کون لکھے گا..."
وہاں کافی خاموشی چھائی رہی..
ماں جی کے ہاتھ سے آج ٹکڑے نہیں بلکہ ایک تراشہ سا گرا۔
"مجھے اپنی دعاؤں پر یقین تھا جب ہی ہم اس جہاں میں ملے اور تمہیں میں نے یہ بھی کہا ہے کہ مجھے میری عبادتوں پر بھی یقین ہے وہ ہمیں جنت میں بھی ساتھ رکھیں گی ان شاءاللہ"۔
وہاں اب صرف ساغر کا کلام اور اس کلام کو پڑھنے والا موجود تھا۔
عبارت چونکہ انتی بھی طویل نہ تھی مگر عشق کا مطلب سمجھنے میں اس نوجوان کو شاید وہ عبارت کافی تھی۔
دو ہفتوں بعد ماں جی کا انتقال بھی ہو گیا...
ان کی وصیت کے مطابق ان کا گھر یتیم خانے کو دے دیا گیا..
ان کی قبر خان صاحب کے ساتھ بنائی گئی...
عشق کی اس داستان کا اختتام ساغر کے مداح نے لکھا اور اسے ""داستانِ عشق"" کا نام دیا۔
عشق نے کیا کیا پاٹ پڑھائے
انس پر طلسم ،جادو، منتر کروائے
کہیں پر جھوٹے سچ بنائے
عشق کی تختیاں ہے ساری نرالی
کہیں یہ والی تو کہیں پر والی
اٹھا کر لے چلا عشق معراج کی شب
کہیں عشق نے طور کر ہی جلا دیا۔
کہیں عشق ہے یدبیضا۔
کہیں عشق نے تن من سب جلایا ہے
کہیں عشق رب سے ملاتا ہے
کہیں یہ شرک کرواتا ہے
نہیں ہے سمجھا کوئی عشق کو اب تک
حقیقتیں اس کی پوشیدہ ہیں یکسر آج تلک۔
ہر نگرداستانِ عشق کا ہے بول بالا۔
عشق ہےبندگی، سراط مستقیم ،اور جنت کا حوالہ۔
(انوش خان)
30ستمبر2019

Leave a Comment