Microf#2 |Adwar| HaaDi Khan
ادوار
ازہادی خان
اس کی نظر فٹ پاتھ کے سامنے سڑک کے بیچوں بیچ پڑ رہی تھی۔۔۔
ازہادی خان
اس کی نظر فٹ پاتھ کے سامنے سڑک کے بیچوں بیچ پڑ رہی تھی۔۔۔
نامعلوم کس پہر کی بات تھی۔۔۔
وہ اپنی زندگی میں کس الجھن سے دوچار ہے کوئی یہ جاننے میں بھی دلچسپی نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔
اس کی نگاہوں کو کسی کے پاؤں نے کچلا۔۔
مگر اس کی سوچ پر فرق نہ پڑا۔۔
وہ کسی فرطِ کشمکش میں ابھی بھی مشغول رہا کہ وہاں سے ایک سائیکل گزری۔۔
مگر کوئی وہم اسے اس جنگ سے دست بردار نہیں کرسکا۔۔۔
شور اور مختلف پرندوں کی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرا ٹکرا کر واپس کو ہو لیں تھیں۔۔۔
اب پھٹ پھٹی نے اس کی نظروں کو روندا۔۔۔
اس نے اپنے کان کو لاشعوری طور پر کھجایا۔۔۔
اتنی دیر میں اس شخص کی نظروں سے ایک بس گزری۔۔۔
شام کے سائے سورج کو لے ڈوبے۔۔۔
وہ اس مصروف دنیا میں سرِبازار ہو کر بھی کسی ایک شخص کی نظروں کا مرکز نہیں بنا۔۔۔
وہ مٹی کے زمانے کا فقیر سیمنٹ کے دور کے کھلونوں میں متوجہ روبوٹوں میں اضافی تھا۔۔۔

Leave a Comment