Qalamkar | Khayalaat#2 | Dervesh log

خیالات
ازقلم ۔۔۔درویش لوگ۔۔۔
مجھے ایک مہ جبیں نظر آئی۔۔۔
سراپا حجاب ،نازک و ملائم ،دودھیا سی رنگت وساخت والی خندہ پیشانی کسی حور پری سے کم نہ تھی۔۔۔۔
کس سحر میں اس کی پاکیزگی نے مجھے جکڑا؟
اس نے میرے معصوم دل کو کس طرح گرفت میں لیا؟ خداجانے !
وہ جذبے میرے لئے بہت نئے تھے۔۔۔۔
میں ادھورے کپڑوں میں عورتوں کو دیکھنے کا عادی تھا مگر خدا معلوم کب اس کا ڈھکا ہوا ،چھپا ہوا،پردہ زدہ حسن مجھے بھاگیا۔۔۔
ناجانے ان انکھوں نے ایسا کیا دیکھا کہ مجھے اپنے گناہ اس کی پاکی کے درمیاں حائل نظر آنے لگے۔۔۔
میں خود کو کمتر سمجھنے لگا۔۔۔
خود کے گناہوں کو حقیر اور اس کے حاصل کو گراں سمجھنے لگا۔۔۔
افففف وہ کتنی پاک ہے اور میں ۔۔۔گناہوں میں لتاپتا سا۔۔۔میں اس کے سفید کپڑوں پر داغ نہیں بننا چاہتا ۔۔۔
مگر بادل نا خواستہ میں اس کی جانب بڑتا ہی چلا گیا۔۔۔جیسے کسی کو خود پر اپنا کنٹرول مشکوک لگنے لگتا ہے۔۔۔
تمام تر اندھیرے میں وہی راہ روشن اور تسکین معلوم ہوتی تھی۔۔۔
میری شدت و تڑپ نے اس کے تقوی پر کوئی اثر نہ کیا۔۔۔
وہ میرے جملوں اور جذبوں کو کسی نوجوان کے وقتی احساسات و محسوسات سے تشبیہہ دے رہی تھی،،،،
مگر جب روز ہی اس نے میرے جنون کو بڑھتا دیکھا۔۔۔
اس نے خود کے لئےمیری دیوانگی دیکھی ۔۔۔
فورأ حلق سے ایک چیخ ابھری۔۔۔
عمومأ صنف نازک دل کے معاملات میں بہت کمزور پڑجاتی ہیں ۔۔۔
قلیل مدت میں طور کو سر کرنے کی سی ہمت ملی۔۔۔
میں دنیا میں دیوانہ و بیگانہ کے نام سے پہچانے جانے لگا۔۔۔
"ہم آپ کے جذبوں کی قدر کرتے ہیں مگر آپ کو ہم وہاں ملیں گے۔۔۔اس قلندی اڑان کوضائع نہ کریں۔ اسے اس رب کی راہ کی جانب موڑ لیجئے"۔۔۔ 
اس مہہ جبیں نے مجھے اس جانب اشارہ کیا جو سراط مستقیم کی طرف جانے کی تھی۔۔۔
وہ چند الفاظ میری امید اور ڈھارس بندھانے کو کافی تھے۔۔۔
میں اس کے لبوں سے یہ الفاظ سن کر بے اختیار اپنی فتح کے ڈھول بجتے محسوس کرنے لگا تھا۔۔۔
صراط مستقیم پر چلتے چلتے وقت کی چکّی چلتی گئی کسی قدر میں اتنا پاک ہو گیا کہ اسے مجھے میری تمام تر عبادات کا حاصل کردیا گیا۔۔۔۔
کوئی شدت سے دعا کرکے صبر کرے۔بس پھر دل تھام کر دعا کی تاثیر کو دیکھے۔۔۔
وہ کرم کردے گا۔۔۔
وہ بھرم رکھ دے گا۔۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.