Tehreer#04 | Sawal | HaaDi khan

سوال؟
ازقلم ہادی خان
تم کیا ہو
سوال کاغذ پر لکھا اور مارکر کو کچھ انگلیوں میں گھمانے لگا۔۔۔
دماغ مفلوج سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
پہلے سر کا کرسی کے ساتھ ٹیک لگایا۔۔۔
جواب کو کھوجنے کے واسطے آنکھوں کو سکیڑ کر تصور میں سادہ سا کینوس بنایا۔۔۔
بند آنکھیں چھت کی جانب تھیں اور آنکھوں میں اچانک روشنی اترنے لگی۔۔۔۔
کسی نے کمرے کی بتی جلائ تھی ۔۔۔
اعزاز تھا وہ ۔۔۔ناجانے کس شے کی تلاش میں آیا تھا۔۔۔۔
مجھے کسی سوچ میں گم  دیکھ کر تھوڑا محفوظ ہوا اور چپ چاپ واپس چلا گیا۔۔۔
میں تمہارا کینوس پر بنا دھندلایا ہوا چہرا نہیں دیکھ سکا۔۔۔
سوچوں کے پرندے پھر سے آزاد کئے۔۔۔
سر کو اب سامنے ٹیبل پر ٹکا دیا۔۔۔اور نیند کی خیالی دنیا میں چلتے چلتےسچ مچ کا سوگیا۔ ۔۔۔
ناجانے رات کے کتنے ہی پہر گزرے۔۔۔
وہ مارکر اپنی ساری سیاہی شب بھر اس کاغذ میں چسپاتا گیا۔۔۔
صبح کو اٹھا تو سارا ورق سیاہی سے بھرا تھا میرا ہاتھ بھی اسی کی نذر ہو چکا تھا۔۔۔۔
تم زندگی کا سیاہ باب تھی نئے کاغذ پر لکھ کر اپنی الجھن کو ختم کردیا۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.