Afsana#05 | Zaaf | HaaDi Khan
ذاف
ازہادی خان
ایک چمکدار صبح علینہ کے باغیچے میں اتری...
سبزیوں پر پڑی شبنم چمک دھمک اٹھی...
وہ کچن سے پلاسٹک کی چھکیر اور ایک پیالی لیئے عقبی کمرے میں چلی گئی...
ایک طرف ناشتے کے لوازمات رکھ کر اس نے اپنی اماں کو اٹھایا...
"اماں اٹھیں ناشتہ کرواؤں آپ کو..." علینہ نے ماں کو سہارا دے کر اٹھایا....
پاس رکھی تپائی پر سے چائے کی پیالی اٹھا کر ماں کے ہاتھوں میں تھمائی...
"یہ لیں اماں...ڈبل روٹی کو چائے سے تر کر کے ماں کے روکھے سے ہونٹوں کے قریب کیا اور کھلانے لگی... احتیاطاً اس کے نیچے ہاتھ بھی رکھا ہوا تھا کہ کہیں کوئی چائے کا قطرہ اماں کی سفید چارد پر مٹیالا سا داغ نہ چھوڑ دے..."
بغیر چینی والی ڈبل روٹی اور پھیکی چائے اماں شمس الحرم کی صبح کی غذا تھی...
سکردو کی بلند چٹانیں جیسے برف کے حصار میں منفرد و خوبصورتی میں یکتائی کا مظہر ہوتی ہیں ہوبہو ویسے ہی سفید لباس اور چادر میں اماں کا حسن دلکش و نفیس ظاہر ہو رہا تھا...
اماں کے چہرے کا نور خندہ پیشانی تپاکِ قلب کو بہت آہستہ عقیدت و سکوت کے عالم میں کھینچتا چلا جاتا ہے...
اماں نے ٹھہر ٹھہر کر ناشتے کے لقموں کو اچھے سے چبا چبا کر کھائے...
انھیں اپنی بچی پر بہت چاہ آیا...
اتنی نیک سیرت اور دیدہ زیب لڑکی بےشک ان کی تربیت کا ثمر ہی تھی...
علینہ جب رومال سے ان کا منہ صاف کر رہی تھی تو چند ساعت تک وہ اسے الفت سے تکتی رہیں اور اپنے بچپن کو یاد کرتی رہیں...
وہ بھی اپنی ماں کی ایسے ہی خدمت کیا کرتی تھیں...
بڑے بوڑھے بزرگوں کو بیچارگی اور دردماندگی کا احساس ہونے سے پہلے پہلے ان کا سہارا بن جانا چاہیے۔ کبھی کبھار انسان اکیلے پن کی وجہ سے موت سے پہلے ہی مرجاتا ہے اور وہ اس وقت اپنی موت آپ نہیں مرتا بلکہ اسے مارا جاتا ہے...
علینہ سب اولادوں میں اماں کی آخری بیٹی تھی...
جس سے پہلے تین بڑے بیٹے تھے...
اکرام ،اظہر اور ظفر تینوں کی شادیاں دھوم دھام سے ہوگئی تھیں..
دس مرلے کا وہ گھر چھ لوگوں کے رہنے کے لئے کافی تھا... یہ گھر اسلم صاحب کی افاضل اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت تھا...
تین کمرے باورچی خانہ اور تھوڑا سا کچا برآمدہ بھی موجود تھا...
بڑے دونوں بیٹوں کی شادی کے بعد اماں کو اپنا بڑا کمرہ چھوڑنا پڑا چونکہ جہیز کا سامان مکمل کسی اور کمرے میں پورا نہ آرہا تھا...
پھر تیسرے بیٹے کی شادی کے ساتھ ہی اماں اور علینہ سٹور روم میں منتقل ہو گئے جہاں بیت الخلاء تک کی سہولت موجود نہ تھی... اماں کو عمر کے اس زمانے میں باہر کا چکر لگانا پڑتا تھا...
انھوں نے خوشی خوشی اپنا آپ قربان کر دیا نہ کوئی احتجاج کیا نہ اپنے حق پر ڈٹی،چپ ہو کر اپنے بیٹوں کی خوشی میں خوش ہو لیں ...
عورت قربانی دے دیتی ہے محرم رشتوں کے لئے.... اتنا کچھ کرنے ' ہاتھ پاؤں مارنے پر بھی اسے ایک ہی جملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے..
"تم کرتی ہی کیا ہو.."
خدائی کے جنون میں پیسے کو کل ذمہ داری جاننے والے کہاں سمجھیں گے کہ اس ایک جملے کا جواب بھی ان کو کبھی کیوں نہیں ملتا کیونکہ وہ تب تلک بکھر چکی ہوتی ہیں ...
اسلم صاحب کی وفات کے بعد اماں کی طبیعت بھی ابتر ہوگئی.... ان کو بے شمار بیماریاں لاحق ہو گئیں...
شوگر ، فشار ، خون کا غیر معمولی دباؤ ، سانس کی تکلیف جیسی بیماریوں میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا...
جب ہی علینہ نے اپنی تعلیم عین بارھویں جماعت کے امتحانات کے قریب ترک کردی..
وہ بادل ناخواستہ گھر کے کاموں میں دلچسپی لینے لگی..
گھر کے کاموں میں ماشاءاللہ سے اتنی برکت تھی کے صبح فجر سے لے کر عشاء تک کاموں کو سمیٹنا کسی طور ایک انس کے لئے ممکن نہ ہو پاتا...
اسلم صدیقی کا شہر کے مرکز میں ایک بڑا سپر سٹور تھا...
جس کا ساماں تو مانو دیمک کی طرح لوگ چاٹتے جارہے تھے...
مہنگائی اور لوگوں کی بھوک میں ایک ساتھ اضافہ ہونے لگا...
جہاں طلب بڑھتی وہاں مہینہ وار رسد کو بھی بڑھادیا جاتا...
مگر پھر ایک بہت تیز بارش ہوئی تھی اور شہر کا نقشہ ہی بدل گیا...
اسلم صاحب پیدل چلنے کے عادی تھے جگہ جگہ پانی جمع ہوچکا تھا ایک جگہ سے گزرتے بجلی کی کشش نے انھیں اپنی جانب کھینچا اور تب ہی چھوڑا جب ان میں ایک سانس بھی باقی نہ رہی...
اس ملاپ سے نتیجاً اسلم صاحب جان سے گئے ..
بدلتے حالات میں اس افسوس ناک خبر نے ماں بیٹی پر بہت اثر کیا...
جیسے کسی بڑے تناول شجر کے کٹ جانے سے سائے میں پلنے والے بھولے درخت نئے آسمان کو بڑا پاکر اپنے قد کو حالات اور نئی دنیا کی مطابقت سے بڑھوتری دیتے ہیں یوں علینہ نے بھی اپنے اوپر بڑا سا آسمان دیکھ کر خود کا قد اور ذمہ داریاں بڑھا دیں...
اماں کی طبیعت جوں ہی خراب ہوئی پھر سنبھلنے کا نام نہ لیتی...
اسلم صاحب کے چوتھے پر ہی بچوں نے دانائی کی مثال قائم کرتے ہوئے وصیت کے کاغذات کھنگالنا شروع کردیے...
علینہ نے ان حالات میں اپنا حق بھائیوں کو بخش دیا اسے کچھ بھی نہیں چاہیئے تھا اس کا کُل اثاثہ ہی اس کارِفانی سے چل بسا تھا...
مگر ظفر نے اس پر بیانِ خلفی لے کر رکھ لیا کہ شاید وہ غیر متوقع سے کسی بےسروپا خوف کا ادراک کر چکا تھا...
ظفر کی بیوی چونکہ صرف انٹر تک پڑھی تھی اور شادی کی وجہ سے ایک سال ضائع کر چکی تھی..اب دوبارہ سے اس نے اپنی تعلیم کو جاری کر دیا...
ظفر نے ہی اسے بی اے میں داخلہ دلادیا....
وہی ساتھ لے کر جاتا اور لے کر آتا...
علینہ اسے دیکھ کر حسرت ہی کرتی کہ وہ بھی آج اگر تعلیم جاری رکھتی تو اسی کی ہم جماعت ہوتی...
اظہر کی بیوی ہر روز شوہر کے کام کو جاتے ہی اپنے میکے چلی جاتی اور رات کو اسی کے ساتھ واپس آتی...
ساجد اور اس کی بیوی ایک ہی دفتر میں کام کرتے تھے...
گھر سارا دن خالی پڑا رہتا...
تینوں بیٹے اپنی اپنی آمدن سے ماں اور بہن کو چند روپے دے دیا کرتے اور اسی موقع پر ماں کی مزاج پرسی کر لیا کرتے...
ماں کو شوگر اور بلڈپریشر کے امراض لاحق تھے...
ہسپتال بھی علینہ کے ساتھ جاتی اور آتی، بیٹے کما کر دیتے تھے اور مزید ہر قسم کی ذمہ داری سے خارج تھے...
کچے صحن میں علینہ نے کچھ سبزیاں اُگا رکھی تھیں..
باسی سڑی سبزیوں میں سے بیج نکال کر ان کو چھت پر سکھا کر استعمال میں لاتی تھی...
اماں کے لئے سبزیاں اچھی تھیں...
لیکن اس کی سن کر کون روز روز جا کر اسے شے لادیتا اور وہ خود بھی اکیلے بازار نہیں جا سکتی تھی...
علینہ کے پاساس گھر میں بس چند ماہ ہی باقی تھے۔ اس کی نسبت اسلم صاحب کی حیات میں طے ہو چکی تھی...
بڑی عید کے بعد اسے اپنے گھر کا ہوجانا تھا...
وہ اپنے رہے سہے وقت کو یہاں گزار رہی تھی..
مگر اسے ایک خدشہ ستائے جا رہا تھا...
🌟🌟🌟
علینہ کی رخصتی یہاں سے سادگی میں مختصر سے جہیز کے ساتھ ہوئی تھی...
وہ اپنے شوہر کے ہمراہ بیرونی ملک کام کے سلسلے میں جا چکی تھی...
ماں سے صرف فون پر چند ساعت کو حال احوال سننے سنانے کو فون کردیتی...
اماں نے ایک دن تینوں بہوؤں کو بلالیا...
ساتھ ان کے شوہر بھی جی حضوری کے لئے بیویوں کی خدمت کو حاضر ہوئے...
"دیکھو بیٹا اب علینہ اپنے گھر کی ہو چکی ہے... اب یہ گھر پوری طرح تم سب کی ذمہ داری ہے... اب سب کام تم سب نے ہی سنبھالنا ہے اور آپس میں سب کام بانٹ لینا... یہ تم سب کا گھر ہے... اسے جنت بنانا تم تینوں کا کام ہے..." انھوں نے غیر مرئی نقطے پر نظریں مرکوز کر کے علینہ کی خدمات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ان کو نصیحت کی...
"ہاں ہاں بالکل یہی سننے تو بیٹھے ہیں آپ کی بیٹی کے قصے قصیدے اور کس لئے بلایا ہوگا آپ نے..." ظفر کی بیوی نے منہ چڑھا کر کسی کا لحاظ کیے بغیر جواب دیا ...
"وہ بات نہیں میرا مطلب ہے سب بوجھ کسی ایک پر نہ آجائے میں نے تو سب کو کام بانٹ لینے کی تلقین کرنے بلایا تھا..." انھوں نےصفائی پیش کی..
کچھ مزید سنے یا جواب دیئے بنا وہ سب ایک ایک کرکے اٹھیں اور وہاں سے چل دیں..
🌟🌟🌟
سات مہینے بعد
دروازے پر دستک ہوئی...
اسلم صاحب کا بیس سال پہلے لگایا ہوا لکڑی کا وہ دروازہ تقریباً ختم ہو چکا تھا...
وہ بوسیدہ دروازہ اب اپنی اصلی حالت میں نہیں تھا... طوفان سے زور آزمائی میں اس کے بدن سے لکڑی اکھڑتی گئی اور اب اس میں جگہ جگہ شگاف پڑچکے تھے...
مگر بچوں کو اس کی مرمت کروانے کی توفیق نہیں ہوئی...
نہ ہی اتنا رحم کیا گیا تھا اس گھر پر...
تینوں ایک دوسرے کے جیب سے نکلنے والے غیر متوقع پیسوں سے امید لگائے ہوئے تھے...
جس کی وجہ سے کام وہی کا وہی رہ گیا تھا...
پہل کی طاب میں کام دیرینہ مسئلہ بن گیا...
سب کو اپنی جیب میں رکھی رقم پیاری تھی..
لمبی سی گاڑی سے رنگین ملبوسات زیب تن کیئے علینہ اتری...
وہ ماں کے سادہ سفید کپڑوں میں پچھلی عمر کی پکی عورت لگتی تھی مگر آج نکھری تراشی ہوئی آئی تو سب نے اسے پہچاننے میں بڑی دیر لگادی...
اس کا شوہر بھی اس کے ہمراہ تھا...
اماں سے اور بھائیوں سے ملی،اسے ان کے ملنے میں صرف مثبت تبدیلیوں کا مظاہرہ ملا...
علینہ کی خوش بختی ہی تھی کہ اسے اپنے ساتھ چلتا دیکھنے والا اپنے رنگ میں ڈھالنے والا زمانے کی پہچان دینے والا لڑکا ملا...
صابر شاکر ہونے کے ساتھ محنتی اور کام سے لگن رکھنے والا شوہر ملا...
علینہ اپنا سارا وقت اماں کے ساتھ رہی...
اعزاز عصر پڑھنے گیا تو اس کی غیر موجودگی میں علینہ نے اپنی بلند قسمت اور اعزاز کی بے لوث محبت کے قصوں کا پٹارہ کھولا...
شام کے ڈوبتے سورج کے ساتھ وہ پیا سنگ لوٹ چلی...
🌟🌟🌟
صبح کے دس بج چکے تھے...
اماں نے ہمت جوڑ کر خود کو کسی نا کسی طرح رسوئی گھر پہنچایا...
بچی کچی چائے پیالی میں ڈال کر رات کی بچی روٹی اپنے پوپلے سے منہ میں چبانے لگیں مگر کسی طور وہ اتنی نہیں چبائی جاسکتی تھی کے حلق سے نکلنے کے قابل بنتی..
چائے کا گھونٹ پیتے ہی ان کا سر انتہائی تیزی سے درد کرنے لگا...
"انیلہ بیٹا چائے بناتے ہوئے میٹھا آخر میں ڈال دیا کرو قبل از میری چائے نکال دیا کرو..." انھوں نے بزرگانہ شفیق سا لہجہ اپنایا..
"کیوں اب اس میں بھی نقص مل گیا آپ کو.." اس کا چھری کی دھار جیسا تیز انداز ان پر اثر کر گیا تھا..
"نہیں وہ میرے لئے اچھا نہیں..."
"ہاں ہاں نوکرانی ہوں نا.. سب کے لئے ایک ایک کرکے چائے بناؤں گی اب میں.." وہ ناک چڑا کر بولی اور پاؤں پٹختی ہوئی اپنے کمرے میں جا گھسی...
ان کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو برسنے لگے..
انھیں بے اختیار علینہ کی خدمات یاد آئیں...
🌟🌟🌟
"اگر یہ چائے نہیں پینی ہوتی تو بتا دیا کرو میرا میاں حرام نہیں کماتا جو یہ حق حلال کی کمائی کو یوں ضائع ہوتا دیکھوں میں...نخرے ہی نہیں ختم ہوتے اس عمر میں بھی..." اماں کی سب سے بڑی بہو غصے سے لال ہوئی تھی...
"اس میں بہت میٹھا تھا مجھ سے پیا نہ گیا..." آج وہ بہو کے سامنے ہی رودیں..
"ناجانے اتنا میٹھا پینے کے بعد بھی آپ کڑوا کیسے بول لیتی ہو،اللہ انتقام لینے والا ہے... بیٹی سے سب حساب پورے ہونگے... میرے شوہر کے سامنے میری شکایت لگانے کی جسارت کیسے ہوئی..." وہ پوری طرح تیار ہو کر ان پر برس پڑی...
"میں نے تو صرف اتنا کہا تھا..."
"بس میں سارے مکر و فریب سمجھ گئی تمہارے... میرے سامنے مگر مچھ کے آنسو بہانے کی کوئی ضرورت نہیں.." وہ سنا کر چلی گئی..
وہ آئندہ سے اسی چائے کی عادی ہو چکی تھیں جو میسر ہو جاتی تھی...
کچھ دن بعد...
سر میں شدید درد کی لہریں اٹھنے کی وجہ سے اماں کی آنکھیں لال ہوچکی تھیں..
انھیں منظر سیاہی میں ڈوبتا نظر آنے لگا...
حرکتِ قلب ایک جھٹکے کے ساتھ درد کی شدت پکڑتی گئی...
چند لمحوں کی تڑپ اور بس جسم نے تپش چھوڑ کر ٹھنڈا ہونا شروع کردیا...
جسم بےجان ہو گیا تھا...
دم نکالنے کے لئے اگر احساس کو بطورِ اوزار استعمال کیا جائے تو ثبوت اور شکوہ دونوں باقی نہیں رہتے... نہ ہاتھ پاؤں چلتے ہیں.. نہ ضد ہوتی ہے... بدن سفید لٹھے کو خود پر سجوا لینے کی بات کو مان لیتا ہے...
موت سے پہلے اگر موت ہوجائے تو وہ قتل میں شمار ہوتا ہے...
((ختم شد))

Leave a Comment