Afsana#06 | Manzar Harma Naseebi | HaaDi Khan

افسانہ : منظر حرماں نصیبی.
از قلم ہادی خان
وہ ہری بری لہلہاتی کھیت خلیل کی تھی   
گاؤں کا سب سے مظلوم اور محنت کش کسان ہونے کے ساتھ ساتھ وہ عاجز سا بندا تھا..
گاؤں میں ہر سال غلہ کے لحاظ سے کم زمین سے زیادہ اناج لینے والا وہ واحد کسان تھا..
یہ سب تو اس کی جان توڑ محنت کا ثمر ہوتا تھا...
مظلوم یوں تھا کہ اس کا سب کچھ چھن گیا تھا اور محنت کش کے لقب کو پانے کے پیچھے اس کی بڑی طویل جدوجہد تھی...
سارا گزر بسر اس ایک کھیت سے ہی ہوتا تھا..
خلیل اسکے دو بیٹے اور رخشندہ بی بی سب مل جُل کر رہتے تھے...
اپنے چھوٹے سے گھر نما جنت کو انھوں نے بڑے اچھے سے اُجلا رکھا ہوا تھا...
چار لوگوں کا یہ گھرانہ بہت خوشحال اور شاد رہتا اور ان کے درمیان عموماً ہنسی مذاق چلتا رہتا تھا...
فجر کی نماز کو خلیل کے رعب ودبدبے سے ہی بچے اٹھ جاتے وگرنہ وہ ان کو جگاتا اور ساتھ مسجد لے جاتا...
روز واپسی پر تن تنہا اجداد کی آخری آرام گاہوں پر فاتحہ پڑھنا لازم کار ہوتا  
پھر زمینوں کا ایک چکر لگایا کرتا اور صبح کی کرنیں آنکھوں کے مقابل آجاتی تو گھر کی جانب لوٹ آتا....
رزق تو خدا دیتا ہے جتنا زیادہ دے یا کم، وہ خود جانے مگر قدر کرنا ہمارے بس میں ہے اگر قدر نہ کرو تو چھن جاتا ہے پھر بھلے فاقوں والی موتیں ہوں وہ اپنے دیئے کی بےقدری کبھی بھی برداشت نہیں کرتا...
اس نے اپنے گزر بسر کو ایک بھینس بھی رکھی تھی جس کا دودھ شام کو آس پڑوس کے یہاں بچے دے آتے اور اپنے استعمال کو بھی نکال کر رکھ دیتے..
رخشندہ بی بی دودھ کو جلدی سے اُبالی دے کر ایک طرف کو رکھ دیتیں...
صبح کو دودھ پر  ملائی چھائی ہوتی.. رخشندہ بی بی وہی ملائی اوپر اوپر سے اتار کر ناشتے میں بچوں کے سامنے پراٹھے کے ساتھ رکھ دیتی تھی...
دونوں بچے مزے لے لے کر بہت شوق سے کھاتے..
خلیل مال منڈی کو نکل جاتا اور وہاں سارا دن پہرا دینے پر اسے کچھ اجرت ملتی..
بچے سکول جاتے اور واپسی پر باپ کا ہاتھ بٹا دیتے..
خلیل کسی دور میں زمین کے بڑے رقبے اور بے شمار بھینسوں کا مالک تھا...
ناجانے کب کی بات تھی جب سیلاب میں سب بہہ گیا اور گھر کے گرنے کے ساتھ ساری رقم بھی نظرِ آب ہو گئی..
ملک صاحب سے کچھ روپیہ ادھار لے کر ماں کے علاج میں لگا دیا ماں تو نہ بچی مگر قرضہ باقی رہا..
زمینیں بیچ کر سر ڈھانپنے کو  چھت کا بندوبست کیا...
طبعیت میں سختی عمر کے ساتھ ساتھ آگئی اور کچھ کسان کے پتھر جسم کے اندر دھڑکتا ہوا دل بھی ہل چلاتے چلاتے ٹھوس ہوتا چلا گیا...
وہ ایک مضبوط اعصاب کا مالک بن چکا تھا...
کبھی غصہ ہوتا تو سارے کے سارے ٹبر کو کڑوی کسیلی سنا دیتا اور جب محبت کی بات آتی تو اس سے زیادہ نرم دل بھی کسی کو نا پایا گیا..
تمام گھر کے افراد کی بنیادی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ خواہشات کو پورا کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش کرنے کو جی توڑ محنت کرنے میں بھی اسے کوئی عار محسوس نہ ہوتی...
ویسے تو چپ اور کم گو تھا مگر جب دل کی باتیں زبان پر لاتا تو سب بس کان دھرے اسے سنتے رہتے...
بچوں کے حوالے سے اس کے بڑے دعوے تھے، اسے بہت سے خوابوں کی تعبیریں دیکھنی تھیں...
بڑے بیٹے کو بڑا افسر اور چھوٹے کو ایک کامیاب تاجر کے روپ میں دیکھنے کو کب سے آنکھوں کو سرمہ سےصاف کرکے آس لگائے ہوئے تھا...
"میں نے سوچا ہے اس بار میں تھوڑا ادھار لے کر رہن پر زمین لے لوں.. گندم کی قیمت اچھی ہوئی ہے.. موسمی اجناس میں منافع ہوجائے تو قاسم (بڑا بیٹا)کو انگریزی سکول میں داخل کروا دوں..." وہ ہمیشہ آہستہ اور رُک رُک کے بات کرنے کا دلدادا تھا..
"یہ تو بہت اچھی خبر ہے قاسم کے ابا... ہمارا بیٹا بڑا افسر بنے گا تو کتنا اچھا ہوگا..." رخشندہ بی بی کی تو بڑے اسکول کا نام سن کر ہی روح جیسے تازہ ہو گئی..
"ہاں پھر کرتے کرتے محسن کو بھی انگریزی سکول میں ڈال دیں گے.." خلیل نے اس میں اپنی جی توڑ محنت کا ذکر نہیں کیا تھا جس کے بعد یہ ممکن ہو سکتا تھا...
باپ ہمیشہ طرح طرح کے خواب دکھاتا ہے.. اس کے زیرِ کفالت لوگ بس اپنی مرضی کا خواب پسند کرتے ہیں جس طرح کوئی دکان دار اپنے پاس سے بہتریں چیزوں کی نمائش کرتے ہیں بالکل ویسے ہی جو خواب پسند آجائیں تو اس کو پورا کرنے میں جان بھی لگتی ہے تو باپ جان  لگانے میں بھی کبھی پسپا نہیں ہوتا بالکل اس اندھے کے جذبہ  کی طرح جسے ٹٹولنے پر دیر پا ہی سہی مگر اپنی مطلوبہ شے مل جانے کا کامل یقین ہوتا ہے...
اس رات ان دونوں کو نیند ناجانے کیوں نہ آئی...
بہت دیر تک وہ دونوں ان خیالات اور خوابوں کو سوچ کر کسی پاگل کی طرح بے وجہ و بےمعنی مسکرائے اور مسکراتے رہے...
دو کمروں کا وہ مٹی کا بنا ہوا گھر برسات کے بعد خستہ حال ہوگیا اور  اس کی چھت کی مرمت کرنے کی ضرورت پڑگئی...
ہر بار کے مطابق گھر کے سارے سدسیے اس عمل میں مل جل کر کام کرتے...
خلیل گارا لیپ رہا تھا قاسم سیڑھی پر کھڑا ہوتا اور محسن اس کو گارے سے بھری کڑھائی تھماتا جب کہ رخشندہ ان کو بیلچے سے بھر بھر کر دیتی...
گھر کی مل جل کر باہمی رضامندی سے مرمت کرتے...
خلیل ہمیشہ اپنے بچوں کے لیے اچھا اچھا سوچتا...
ان سے سخت کام اسی لیے لیتا کہ اسے یہ اندیشہ ڈرائے رکھتا کہ اگر کل کو وہ مرگیا تو یہ کسی کے ہاتھوں کو نہ دیکھیں کسی کے محتاج نہ ہوں بلکہ کام کرنے کی ہمت اور صلاحیت رکھتے ہوں...
نو عمری میں ہی خلیل کے بچے سمجھ فہم سے کام لینے لگ گئے تھے...
ان میں جھوٹ بولنے جیسے عیب نہیں پائے جاتے تھے... اصل تربیت تو یہیں سے آشکار ہوتی ہے....
جیسے شام کے بعد باہر نہیں نکلتے،کسی اپنے سے بڑے سے دوستی نہیں کرتے...
کسی کے دروازے کے سامنے نہ کھڑے ہوتے.. خدا معلوم اس کے پیچھے خلیل کا رعب دار کردار تھا یا تربیت...
خلیل کو ادراک ہوگیا تھا کہ اب کسی دن پانی لگانے کی باری لے لی جائے زمین نرم کرنے کا وقت ہوا چلا ہے...
گاؤں کی فصلوں کو ایک ہی ٹیوب ویل سے پانی فراہم ہوتا تھا..
یہ ملک صاحب کا تھا جس کو خلیل اپنی تمام زمین ایک بار بیچ چکا تھا اور اب مزید اس سے قرضہ بھی لے رکھا تھا...
"خلیل تو کب کر رہا ہے میری رقم واپس.." خلیل کو دیکھتے ہی ملک وقاص نے اسے اپنے روایتی انداز میں محاطب کیا...
"السلام علیکم ملک صاحب.. جی سنا ہے اس سال گندم کی قیمت حکومت نے بڑھادی ہیں تو اسی سال.." خلیل نے مسکراتے ہوئے کہا..
"وعلیکم اسلام.." ملک نے منہ چڑہا کر کہا...
"ہاں ہاں اسی سال چاہئے مجھے... رقم کے ساتھ سود بھی اتنا ہو گیا ہے.. ویسے تیری زمین کی کیا قیمت ہے..." ملک وقاص اپنے ارادوں سے اشاروں ہی اشاروں میں اسے باخبر کرنے لگا...
"جی ان شاء اللہ مجھے بڑی امید ہے.." خلیل بات کو پی گیا...
ایک رات خلیل کی باری آئی اس نے ساری رات اپنی زمین پر پانی لگایا.. 
مگر گھر واپس آتے ہی اس کے سارے جسم پر خارش شروع ہو گئی...
اس نے خود کا کھجا کھجا کر برا حال کر دیا تھا...
اب تو اس کا جسم نیلا پڑنے لگا..
مگر نہایا تو اسے وقتی طور پر راحت محسوس ہوئی..
پھرچند ساعت ضائع کیئے بغیر خلیل ملک  صاحب سے ہی کچھ قرض لے کر شہر کو روانہ ہو گیا..
ڈاکٹر کو سارا قصہ خلیل بتا چکا تھا...
"ہاں ہو سکتا ہے گاؤں میں ذاتی دشمنی کی وجہ سے کسی نے فصلوں کو نقصان پہنچایا ہو.. مگر آپ احتیاط کریں یہ بہت زہریلا کیمیکل ہے اس سے جان جانے کا بھی خطرہ ہے.." ڈاکٹر کی باتوں پر وہ اثبات میں سر ہلاتا رہا...
وہ سمجھ گیا تھا اس میں کس کی شرارت ملوث ہے..
بڑے ڈاکٹر نے اسے دوا دی اور دو دن بعد وہ چنگا بھلا واپس آگیا..
مگر اس نے اپنی فصلوں کو ویسا نہ پایا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا...
اس کی ساری فصل سوکھ چکی تھی...
اس نے اپنی زمین کی مٹی کو دیکھا جو گاؤں کی سب سے زیادہ زرخیز زمین تھی اب سفید زہر نما کیمیکل میں تبدیل ہو چکی تھی...
اس نے جھک کر مٹی کو دیکھا اور کچھ مٹی لے کر واپس شہر لوٹ چلا...
اناج اور فصلوں کے ماہر سے رابطہ کرکے اس نے مٹی انہیں جانچنے کے لئے دکھائی..
کچھ دیر کے انتظار کے بعد معلوم پڑا وہ زمین پوری طرح خطرناک طرح کے زہریلے عنصر میں مبتلا ہو گئی ہے..
اب وہاں کچھ برسوں تک اناج اُگانا ممکن نہیں...
خلیل نے رہتی رقم میں سے مہنگی لیب کی فیس ادا کی..
وہ سمن بکمن عمین ہو گیا..
اس نے اپنی جیب سے ڈائری نکال کر ادائیگیوں کا حساب لگایا..
وہ بہت کثیر رقم تھی جو اس نے ادھار میں واپس دینی تھی...
وہ سمجھ گیا تھا یہ کام ملک وقاص کا ہے جس سے اس نے قرضہ لیا تھا..
یہ وہی شخص تھا جس نے خلیل سے اپنی زمین کے بیچنے پر اسرار کیا تھا...
اسی بات پر جس میں تنازعہ بھی پایا گیا...
وہ واپس لوٹا اور بازار چلا گیا..
اور شام کو اندھیرے اندھیرے لوٹا..
وہ سب کے لیئے کچھ نہ کچھ لے کر آیا تھا.. سب خوش باش تھے...
اس نے جیب سے ایک شیشی نکالی اور سب کو دکھائی..
"یہ وہ دوا ہے جس سے انسان کو ہر دکھ تکلیف سے آرام آجاتا ہے.. شہر میں لوگ اسے سکون کی نیند کے لئے استعمال کرتے ہیں.." خلیل کے لبوں کی مسکراہٹ پھیکی تھی مگر وہ پھیلتی ہوئی اس کے گالوں تک کو چھو گئی...
سب نے حسرت سے اس چھوٹی شیشی کو بغور دیکھا..
خلیل نے سب کی تھالی میں وہ سفید پاؤڈر تھوڑا تھوڑا اُنڈیلا...
رات کھانے کے بعد سب سو گئے اور اس  نیند کے بعد ان چاروں کی کبھی آنکھ نہ کھلی..
ایک خوددار شخص اگر ذلت سے باقی رہ بھی جائے تو وہ اس زندگی پر موت کو فوقیت دے گا..
محنت کش اگر ایک دن کھائے دوسرے دن ناغہ کرے اس پر وہ گزر بسر کر لے گا مگر اس کے ہاتھ کاٹ کر اس پر سوال کرنا مسلط کریں گے تو  یقیناً اس کا ضمیر اس سے پہلے ہی اس کا پیٹ چاک کردے گا...

No comments

Powered by Blogger.