Column#05 | Haqooq Ul Ibid Aur Ham | HaaDi Khan

حقوق العباداور ہم
ازقلم ہادی خان
ہماری قوم میں ایک وافر مقدار بیمار ذہنوں کی پائی جاتی ہے..
میں نے بغور اور باریک بینی سے اس عمل کا مشاہدہ کیا ہے کہ کسی مارکیٹ میں جب کوئی شخص سج سنور کر کسی مہنگی اور مشہور کمپنی کا موبائل ہاتھ میں پکڑے آتا ہے تو تاجر حضرات اس کی جی حضوری کو اس قدر لپک پر پہنچتے ہیں کہ جلدی جلدی میں اپنی غلامانہ حلیے کی قبا کو سنوارنا بھول جاتے ہیں...
 ان سے کچھ حاصل کرنے کی امید میں آنکھوں کو سفید کئیے جاتے ہیں... 
جب کوئی بچہ   بچی یا عورت پھٹے پرانے کپڑے پہنے اسی تاجر کی روزی کے ٹھئیے پر مانگے آتے ہیں تو ان تاجروں سے نہ اٹھا جاتا ہے ' نہ ہاتھ سے کچھ دینے کی ہمت ہوتی ہے اور نہ ہی آنکھوں میں چمک باقی رہتی ہے..
جبیں پر بل ' آنکھوں میں بیزاری اور چہرے پر ان لینے والوں کے لیے حقارت کے اثرات نمودار ہونے لگتے ہیں.
کیا یہ ان کی ذمہ داری نہیں؟
ہر شخص لینے ہی بیٹھا ہے دینے کو کوئی اپنی ذمہ داریوں میں شمار نہیں کرتا اور اگر سمجھے بھی تو احسن طریقے سے پورا اترنے کے لیے تیار نہیں..
 زرا سوچنا چاہیے کہ جو سکہ ہماری جیب میں بلاوجہ چھن چھن کررہا ہے وہ اضافی سے سکہ کسی کے نو روپیوں سے مل جانے کے بعد ایک روٹی خریدنے کی حیثیت اختیار کرلے گا...
بہت سارا سوچیئے۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.