Sawalaat-O-Jawabaat#08 | HaaDi Khan

سوال : ایک شخص کے پاس دو آپشن ہیں.. بدنامی اور سمجھوتہ.. اب نا تو وہ بدنامی چاہتا ہے اور نا ہی سمجھوتہ.. کوئی ایسی تیسری راہ ہو جس سے اس کی بدنامی بھی نہ ہو , اور وہ مطمئن بھی ہوجائے..یعنی آگے کنواں پیچھے کھائی.. کوئی درمیانی راستہ کیسے نکلے گا جس سے وہ بھی خوش ہوجائے اور باقی سب بھی..
جواب : میں زیادہ تر مثال دے کر سمجھاتا ہوں اس لیے کچھ تاریخ سے مثالیوں کا ذکر کروں گا... ممکن ہے آپ کو اپنا جواب مل جائے..
حجر بن ادیی ایک صحابی تھے...
جب ان کو معاویہ ابن سفیان کی فوج نے گھیر لیا تو ان کو بھی دو راستے دئیے گئے..
ایک راستہ تو موت کا تھا اور دوسرا یہ کہ مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر لعنت کرو..
اب موت سے بچنے کی راہ صرف یہی تھی.. 
حجر بن ادی نے فرمایا ساری عمر مولا علی سے عشق کیا ہے اب موت کو سامنے دیکھ کر میں ان پر لعنت نہیں کرونگا..
یہاں اگر سمجھوتہ ہوتا تو موت سے بچا جاسکتا تھا لیکن پھر بدنامی ہوجاتی...
سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔۔۔
دوسرا واقعہ ہے شیرِ مصحور کا جسے ہم ٹیپو سلطان کے نام سے جانتے ہیں.. آخر میں سلطان کا محاصرہ کردیا گیا اور ہتھیار ڈالنے کو کہا گیا... دوسرے الفاظ میں سمجھوتہ کرنا.. مگر اس مردِ مجاہد نے اسے الفاظ کہے جو امر ہوگئے.. "شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے.."
سمجھوتہ نہیں کیا گیا ۔۔۔۔
محمود غزنوی کو سونا ' ہیرے ' جواہرات پیش کئے گئے اور ہندوؤں کی جانب سے کہا گیا یہ سب لے لو مگر ہمارے اس بڑے بُت کو نہ توڑو.. وہاں محمود غزنوی کے تاریخی الفاظ کچھ یوں تھے.. 
"آج میں نے یہ سب لے لیا تو تاریخ مجھے محمود بُت شکن کے نام سے نہیں محمود بُت فروش کے نام سے جانے گی."
تاریخ میں زیادہ تر کسی نے سمجھوتہ نہیں کیا.. مگر پہلے دیکھیں کہ حق کیا ہے.. حق کے ساتھ رہیں.. بھلے وقتی طور پر بدنامی ہو جائے.. لوگ اس فیصلے کو برا بھی کہیں تو وقت گزرنے کا انتظار کریں.. منظر صاف ہوجائے گا..
کنوؤیں سے واپسی کی راہ نکل سکتی ہے لیکن کھائی سے نہیں!!
سوال : وہ کون سی سوچ تھی جس نے اس ماڈرن دور میں (کہ جس دور میں نوجوان لڑکے فیسبک انسٹا پر زیادہ پائے جاتے ہیں) ہادی خان سے قلم اٹھوایا.ہادی خان کی وہ سوچ جاننا چاہتی ہوں جو انکو لکھنے کی طرف لائی.
جواب : انسانوں کی بے بسی، اپنے بچپن میں محرومیاں، بچے بچیوں سے زیادتیاں، قتل و غارت، سب دیکھا ہے..
میرا جس شہر میں بسیرا ہے وہاں حاملہ عورتوں کے پیٹوں میں گولیاں ماری گئیں..
بدلے میں قاتل کے سات ماہ کے بچے کی آنکھوں میں گولیاں ماری گئیں...
ایک پالتو جاور کے تنازے پر چار انسانوں کی جان کا ضیاع ہوا...

میں جب بڑھوتری کے دور میں تھا تب یہ سب دیکھا سنا اور سمجھ لیا تھا...

No comments

Powered by Blogger.