Sawalaat-O-Jawabaat#11 | HaaDi Khan

 سوال : بعض لوگ دلوں میں نفرتوں کے بیج بو دیتے ہیں جن کی جڑیں وقتاً فوقتاً مضبوط ہوتی جاتی ہیں.. لیکن اس کے باوجود ان سے ٹھیک طرح بولنے کی آپ پر پابندی ہوتی ہے ایسے لوگوں کو کیسے نظر انداز کیا جائے؟؟؟
جواب : جناب اس سوال میں تو کسی سے جان چھڑوانے کے بارے میں پوچھا گیا ہے..
ہاہاہاہاہاہاہا...
چلیں ہوتے ہیں کچھ لوگ چیچک کی مانند جو چپکے تو ہوتے ہیں مگر خون پینے کے واسطے...
آپ ان سے بات کرنے کے دوران زیادہ بولیں... زیادہ بولیں سے مراد اگر تو وہ اسلامی طبیعت کے ہیں تو آپ گانوں کی فلموں کی اور ناولز کے ہیرو ہیروئن کی باتیں کریں اور غیر سنجیدہ رہیں... اور اگر وہ آزاد خیال ہیں تو ان سے اسلامی بات شروع کر دیں جب وہ مسلسل ایک دو بار اسی روٹین پر آپ سے سخن کریں گے تو وہ اُکتا جائیں گے...
چھوٹی چھوٹی باتوں پر اور لوگوں کے حوالے دیں ہر وقت اسی انسان کو موضوع کا مرکز بنائیں جو اس شخص کو ایک آنکھ نہ بھاتا ہو تو پھر دیکھئے جہاں خیر کی بات ہو وہاں سے شر نے غائب ہوجانا ہے...
 سوال : ایسے لوگوں سے کیسے معاملہ طے پایا جائے جو اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہوتے ہیں؟
جواب : اسلام انسان کو تین درجے دیتا ہے.. مومن ،منافق اور کافر...
یہ منافق ہوتے ہیں جو اپنی صفوں میں دشمن ہوتے ہیں....
ایک تو کھلے عام دشمن ہوتا ہے اور ایک منافق ہوتا ہے جو اندر بغض رکھتا ہے اور سامنے تعریفیں کرتا ہے...
ایسے لوگ میٹھا زہر ہیں جو انسان کو وہاں سے چوٹ پہنچارہے ہیں جہاں سے انسان کو گمان بھی نہیں ہوتا..
ان سے بالکل عاجزانہ رویہ اختیار کریں اور افسوس کریں.... تھوڑی سی عبرت بھی حاصل کریں... بیچارے نا جانے کس حسد ، بغض میں جل رہے ہوتے ہیں... دنیا میں بھی جلن اور آخرت میں بھی نارِ جہنم ان کا مقدر...
جب بھی ان سے گفتار و سخن کریں ان کو مظلوم سمجھیں کے ان کی ہدایت کو رسالت مآب ﷺ کو بھیجا گیا مگر ان کے مقدر میں ہدایت نہیں...
بوجہ ضرورت ہی ان سے کلام کریں بنا کسی مقصد کے ان سے مخاطب ہونا بےکار ہی ہے...

No comments

Powered by Blogger.