Sawalaat-O-Jawabaat#13 | HaaDi Khan
سوال: رب سے عشق کیا ہے؟
جواب: جب انسان کسی ایک مقام پر استعجاب، اچنبھے یا حیرانی کے عالم میں چلا جائے... اس کے تمام موسم رُک جائیں , اس کی ساری باتیں سارے الفاظ ختم ہو جائیں.. بولنے کی اور خاموشی کی اصل اہمیت سمجھ آجائے...
جب اسے ہر معاملے میں قضائے الہٰی کا خیال ہو..
جب انسان کو ہر چیز کی باریک بینی سے سمجھ فہم ہو گئی اور اس نے عارضی دنیا میں طوطا چشمی اختیار کر لی اور اس کے ہونے کو محسوس کر لیا تو وہ عشق الہٰی کو پاگیا..
سوال: رب سے عشق کیسے ہوتا ہے؟
جواب: وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِؕ
ترجمہ : "اور ایمان والوں کو تو اللہ ہی سے سب زیادہ محبت ہوتی ہے"
سورہ البقرہ آیت ۱۶۵
اللہ ایمان والوں سے محبت کرتا ہے یہ ایمان والے کون لوگ ہیں وہی جو نفع نقصان نہیں دیکھتے...
جو محبت کرے اس سے ویسے ہی محبت سے جواب دینا چاہئیے..
جو بے لوث اس کی عبادت کرتے ہیں فائدہ نقصان کی تجارت نہیں کرتے جو دعا میں اس کی رضا ، عمل میں شگفتگی، معاملات میں نرمی، تعلقات میں عاجزی , رحم اور صبر سے کام لیتے ہیں..
خدا تعالیٰ کی محبت ان کو حاصل ہوتی ہے جو خود کو اس کے حوالے کر دیتے ہیں...
صبر و شکر کرتے ہیں اولاد ملی شکر کیا واپس لے لی صبر کیا...
نہ شکوہ نہ شکایت بس اس کی مرضی میں ہاں اور سر خم تسلیم...
یہ نہیں کہ یہ سب کسی جنگل میں ڈیرہ جما کر بیٹھ جانے سے ہوگا...
خدا سے عشق اپنی بہتری سے ہوگا اور انسانوں سے حسن و سلوک سے...
خدا تعالیٰ سے عشق کی ایک سند بھی ہے جسے ہم مومن کہتے ہیں اسے پانے کا طریقہ رسالت مآبﷺ کے تمام احکامات اور زندگی ہے...

Leave a Comment