Tehreer#05 | Padaash | HaaDi khan

پاداش
بقلم ہادی خان
شاید تم اب غافل ہو...
جب میں دعا مانگتا ہوں تو مجھے اپنے ہاتھوں کو اٹھانا نہیں پڑتا.. میں سر کو سجدہ کی حالت میں جھکا کر طلب کو بیاں کرتا ہوں جب ہی مجھے مدہم مدہم سی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں...
اور جب میں مصّلیٰ سے خود کو اٹھا کر مصّلیٰ کو تہہ لگارہا ہوتا ہوں تو مجھے مکمل سکوت کا عالم میسر ہوتا ہے...
تم نے مجھے کثرت سے مانگا تھا نا لو اب میں تمہارے حق میں ہو گیا مگر تم کہاں ہو؟ اس کا علم نہیں...
میں تمہارے انتظار میں تمام رات کو وقف کررہا ہوں..
کیا تم صرف میری اناؤں اور میری مگرائی کو توڑنے آئی تھی...
مجھے جھکنا پسند نہیں تھا, آج میں ٹوٹ گیا ہوں جب اس نے جھکایا...
جھکایا کیا توڑ دیا گیا ہوں..
کاش میں تم سے تمہاری پاکی چھیننے کی کوشش نہ کرتا تو آج تم میری ہوتی...
تمہیں تو میں نے کیا کچھ نہ کہا.. کتنا دل دکھایا.. تم کبھی چھوڑ کر نہ گئی.. ہمیشہ میری سن لیتی لیکن جب میں نے روایتاً تمہیں کسی نامحرم رشتے میں مانگا تو شاید تم نے عورت نام کا پاس رکھا...
شاید تم نے کسی غیرت مند مرد کی طرح اپنی عزت کی خاطر تعلق توڑنے کو ترجیح دی...
تم جب سے چلی گئی تمہیں پتہ ہے میں کیسی زندگی گزار رہا ہوں...
میں پرواہ کرتا ہوں اب, میں ایسی زندگی کاٹ رہا ہوں..
کسی کو کہتے ہوئے سنا تھا ہجر میں انسان مر جاتا ہے... یہ ممکن بھی ہو سکتا ہے مگر تم نے تو دل دھڑکنے کا سبب یاد کروا دیا..
میں غفلت میں تھا حرکتِ قلب کچھ ساعت کو تھم گئ تھی... اس جہاں کی جھلکی میرے لاشعور سے شعور میں آئی... مجھے دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا میں نے تو اس جہاں کے لئے ایک ہینڈ بیگ تک پیک نہ کیا تھا...
کتنی لمبی مسافت ہے اس زندگی کی...
میں بھی ایک لاش تھا مقصدِ حیات جانے بِنا جینے والا...
مجھ سے میرے احباب میرے کفن کے بارے سوال کرکے میرا تمسخر اڑاتے تھے...
کیا میں کوئی گمنام لاش ہوں جس کا فیصلہ کرنا بھی مشکل ہے کہ مجھے تدفین کیا جائے یا جلایا جائے...
میں کیوں اب تک بھٹک رہا ہوں...
میں سفید کپڑے نہیں پہنتا مگر تم جو ہر جمعہ فرمائشوں پر پہنا ہی دیتی تھی...
میں نہانے گیا تو پانی کی ننھی ننھی بوندیں تک مجھے غوطے دے رہی تھیں...
اور فوارے کی تیزی مجھے کنکریوں کی مانند منہ اور سر میں لگ رہی تھی...
مجھ پر جیسے کنکریاں گررہی ہوں کہ میں ابلیس کا بھیس دھارے ہوئے تھا...
یاد آیا وہ کریم ہے اس کے جلال پر اس کا کرم حاوی ہے...
میرا بدن نہا کر بھی میلا تھا...
میں نے اس جمعہ بھی سفید کپڑے پہنے مگر وہ اجلے نہ تھے..
ان پر آنسوؤں سنگ بہہ جانے والے سرمہ کے داغ نمایا تھے...
میرے حصول کو ترستی تھی تم اب مجھے ایک بار صرف ایک بار آکر میرے سوالات کا جواب دے دو...
تم تو مجھے بددعا بھی نہیں دے سکتی..
پھر یہ کیا ہے؟
یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کیا تمہاری دعائیں انتقام بن کر آئی ہیں؟
سر میں سفیدی اور سیاہی عجیب سی دھوپ چھاؤں کی سی کہانی کا منظر پیش کر رہی ہیں..
میری ناک کبھی کبھی ناکارہ ہو کر رہ جاتی ہے اور میں کھینچ کھینچ کر منہ کے بل سانس لیتا ہوں... یہ ان سسکیوں اور ہچکیوں کا کفارہ ہے جو تم نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر روکیں ہونگیں .. جو اب مجھے میری زندگی منہ سے سانس کھینچنے پر مل رہی ہے..
میں شکر کروں میرے استغفار کے تخفے ہیں کہ میری جان نہ نکلی ۔مجھے میری سزا پوری ہونے کا وقت دیا جا رہا ہے یا میں بین کروں کہ ابلیس کو بھی لامحدود وقت دیا گیا تھا...
میری پاداش کی عمر بھی متعین نہیں..
ایک لامحدود سی ڈور اپنی انگلیوں پھر ہاتھ اور اب جسم پر کَس کے لپیٹے جارہا ہوں وہ میرے جسم میں اتر رہی ہے مگر میں اسے لپیٹ رہا ہوں ناجانے کیسا پاگل پن ہے کیسی دیوانگی ہے...
میرا خون بھی رس رہا ہے... پھر بھی میں بےبس ہوں اس عمل کو جاری رکھنے میں..
جس کی مدت آدھی ادھوری سانس پر جی کر پوری کرنی ہوگی..
شاید یہ کسی پاک دامن کو داغ دار کرنے کی دعوت کا کفارہ ہے...
جو قرض نہیں رہتا..
بس پورا ہونا شروع ہوجاتا ہے اور اس رہتی آدھی ادھوری سانس کے ٹوٹنے تک اذیت کو جاری رکھتا ہے...
مجھے اب زندگی کی کوئی امید نہیں بس مجھے اپنی سزا مکمل کر کے اس جہاں میں جانے کا انتظار ہے...
تمام شد
۲ اگست ۲۰۱۹

No comments

Powered by Blogger.