Afsana#07 | Ajar Man Soye batkha | HaaDi khan
اجر من سوئے بطخہ۔۔
ازقلم ہادی خان
💫💫💫💫💫
💫💫💫💫💫
جھاڑو کے تنکوں کی چھینکوں کی آواز سے سارے ماحول میں شوروغل گرد و غبار پھیل کر سارے سماں کو آلودہ بنارہا تھا...
جہاں ہر سانس انسان کو چھینکنے پر مجبور کر دے...
"آچھیی!!!" جس کا خدشہ تھا اسی میں شاہ جی مبتلا ہو گئے...
اسی دوران آلاراسی سے کام کرتے ہوئے بلال کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی..
"کیا ہوا قبلہ..." اس نے فکرمندی سے جھاڑو زمین پر پھینکا اور شاہ جی کے مقابل آگیا...
پہلے تو ان کو بہت غصہ آیا مگر درگزر کردیا...
"پانی لادوں؟" بلال نے دوبارہ پوچھا..
"جس کام کو کھول بیٹھے ہو اس کو پورا کرو.." شاہ جی نے اسے غصے سے جھڑک دیا..
وہ پلٹ کر واپس چلنے کو ہوا..
"آچھیی!!!"
"الرجی کی دوا لادوں قبلہ؟" بلال تفکر سے گویا ہوا...
"جاؤ وہ کام کرلو, خدا کا واسطہ ہے.." شاہ نے اسے سر سے اتارنے کے لئے زمین پر پڑے جھاڑو کی جانب اشارہ کیا... وہ صبح صبح اسے ڈانٹ نہیں پلانا چاہتے تھے...
"نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے.." یہ بات بلال نے صرف سوچی تھی...
اس نے جھاڑو اٹھایا اور اپنا غصہ رہتے کچرے پر اتار دیا جس سے ماحول مزید زدِ گرد ہوگیا...
اسے خیال آیا تو فوراً جا کر خارجی پنکھا چلا دیا...
کچھ دیر تک وہ صفائی کرتا رہا...
جب جھاڑو کا کام ختم ہوا تو صوفوں پر گرد نے پھر سے ڈیرے جما لیے تھے کیونکہ اُڑتا ہوا غبار اب دوبارہ بیٹھ چکا تھا...
دوبارہ تردد کرتے ہوئے ساری میز اور صوفے چمکائے اور پھر بلال نے تمام کام ختم کر کے ہی دم لیا..
"بلال زرا دیکھنا اس مہینے کے کتنے ٹکٹ ہوئے ہیں..." شاہ نے موبائل میں دیکھتے مصروف انداز میں پوچھا...
"جی ابھی دیکھتا ہوں.."
"جی آٹھ ہوئے ہیں.."بلال چند جھلکیوں کے حساب و کتاب کے بعدبولا...
"صرف آٹھ.." یہ سنتے ہی شاہ کی ساری توجہ اس جانب مبذول ہو گئی..
"جی بادشاہ یہی ہوئے ہیں..." بلال نے یقین دلانے کے لئے دہرایا...
"اس میں تو گزارہ نہیں ہوگا..." شاہ نے پریشانی سے کہا...
"جی بجلی ' گیس کے بل، آفس کا کرایا اور دیگر اخراجات ادا کرنے کے لیے تو خود سے ڈالنے پڑیں گے..." بلال نے پریشانی پر پریشانی دے دی...
"خیر اللہ مالک ہے..." وہ یہ کہہ کر پھر سے موبائل میں مصروف ہوگئے..
"بلال یہ ایک کام کردو بچے.." شاہ نے چیک سائن کرتے ہوئے کہا...
"حکم قبلہ..." بلال تابعداری سے بولا...
"یہ بینک سے پیسے نکلوا آؤ.. ماں جی کو ڈاکٹر کو دکھانا ہے تو ضرورت پڑے گی اور حساب میں بھی یہ رقم درج کر لینا...جب پوچھتا ہوں تو منہ بنا کر کہتے ہو یاد نہیں کس وجہ سے پیسے نکلوائے تھے..." شاہ نے سارا لائحہ عمل اسے انگلیوں پر گنا دیا...
"جی بہتر.." وہ چیک لے کر چلا گیا...
وہاں دوبارہ جامد خاموشی راج کرنے لگی...
💫💫💫💫💫
💫💫💫💫💫
زہرہ پیدل ہی اپنے گھر کے راستے پر چل رہی تھی...
اس کے دامن سے دو چار دھاگے لٹکے نظر آرہے تھے...
مگر اسے اس کی کوئی فکر نہیں تھی...
گھر سے نکلتے ہوئے اس نے کپڑوں کو اچھی طرح سے جھاڑ لیا تھا اسی لئے وہ مطمئن تھی..
وہ نظریں جھکائے اپنے گھر کی جانب جارہی تھی جیسے بھیڑ بکریاں شام ہوتے ہی لاشعوری طور پر سر جھکائے اپنے باڑے کی جانب جانے لگتی ہیں...
اس کے جوتے پوری طرح گھس چکے تھے اور اتنے دقیانوس تھے کہ ان کا تلوا بھی پھٹ چکا تھا.. جس سے کنکر یا پانی کے گیلے پن کی پاؤں تک رسائی برائے راست تھی...
اس چبھن کو سہنے کا ہنر بھی اس نے بڑی مہارت سے وقت کے ساتھ سیکھ لیا تھا...
گھر کے سامنے والے چبوترے پر پاؤں رکھا اور مٹیالے رنگ کے لکڑی کے خستہ حال دروازے سے اندر داخل ہوئی..
گھر میں مٹی کے بنے فرش اور قلیل سے صحن کے بعد ایک کمرے پر یہ غریب خانہ ختم ہوجاتا تھا..
دو افراد کے لیے اتنی جگہ کافی تھی.
صحن میں چٹائی پر سلائی والی مشین اور کچھ کپڑے بکھرے پڑے ہوئے تھے جسے اس نے منظم طریقے سے رکھا...
سلیقے سے بیٹھ کر سلائی کرنے والے کپڑوں کے رنگ کی ڈوری اپنی جیب سے نکالی اور اپنے کام میں مصروف ہوگئی...
وہ کام کرتے کرتے کچھ سوچنے لگی اور اگلے ہی لمحے وہ کام کو ترک کرکے کسی خیال کی زد میں چلی گئی...
چند ساعت کے بعد دروازے پر دستک ہوئی..
یہ گھر ارشد خان نے ان غریب , بے سہارا کو دیا ہوا تھا...
اس کا باب دراز قد اور قدیم روایت کا تھا..
دروازے پر دستک ہوئی مگر دستک کے ساتھ دروازہ کھل گیا...
ایک بچی اندر آئی اور اپنی مٹھی میں دبے چند مُڑے تڑے نوٹ اس کے سامنے کئے..
"یہ اماں نے دیئے ہیں کپڑوں کی سلائی کے.." اس بچی نے اسے پیسے پکڑائے اور اُلٹے پاؤں چل دی...
اسے دوبارہ اٹھنا پڑا..
اب وہ کمر پکڑ کر اٹھی اور کمرے کے اندر چلی گئی...
ایک صندوق کا سر اٹھایا تو اس میں اسی طرح کے مڑے ہوئے نوٹوں کی لاشیں رکھی تھیں جن پر اس نے اپنی مٹھی والے روپے بھی رکھ دیئے تھے..
اس نے پرانے نوٹوں پر ان چند مزید نوٹوں کا وزن لادا اور ایک تھکی تھکی سی آہ خارج کر کہ اس نے صندوق کو بند کردیا...
💫💫💫💫💫💫💫
💫💫💫💫💫💫💫
"السلام علیکم... کیا یہ ایجنسی پھول حسین شاہ کی ہے؟" داغ دار اور پیوند زدہ کپڑے پہنے ہوئے شخص نے دریافت کیا...
"جی جی میں ہی ہوں کہیے کیا کام ہے.." شاہ نے سرسری سی نگاہ ڈالتے ہوئے کہا...
اس شخص نے بڑی عقیدت سے مصافحہ کیا..
"ایک منٹ.." وہ شخص فوراً باہر چلا گیا...
چند جھلکیوں کے بعد ایک عورت بدبودار لباس پہنے ہوئے اس شخص کے ساتھ اندر داخل ہوئی..
جس نے اپنے سینے سے کچھ لگایا ہوا تھا...
پہلا تاثر تو یوں ہی لگ رہا تھا جیسے وہ قرآن پاک کو اٹھائے ہوئے ہے..
"شاہ جی عمرہ کے پیکج کا پتا کرنا ہے..." اس شخص نے آنے کی وجہ بتائی .
"کتنے دن کا پیکج چاہیے.." شاہ نے آہستگی سے پوچھا...
"وہاں سے آنا ہی نہیں چاہتی..." زہرہ نے بے لگام ہو کر کہہ دیا..
"جی کتنے کتنے دن کا ہوتا ہے ہمیں تو کوئی علم نہیں ہے جی..." واصف نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا..
"میں آپ کو سب سے سستا ریٹ بتا دیتا ہوں. کتنے بندے ہیں؟" شاہ نے ایک نگاہ ان دونوں کے چہروں کو دیکھا...
"جی بس میں ہی.." زہرہ نے بے اختیار کہا اور اپنا پاسپورٹ شاہ کے سامنے میز پر رکھ دیا..
کچھ حساب و کتاب کر کے شاہ نے ایک سرد سی آہ بھری..
"آج کے حساب سے دیکھا جائے تو ایک شخص کا مناسب سا عمرہ پینسٹھ ہزار روپے کا ہوگا..."
یہ سنتے ہی زہرہ کا دل ایک دم رُک سا گیا..
زہرہ نے واصف کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا...
اب یہ دونوں آہستہ آواز میں ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔۔۔
اسی دوران شاہ نے پاسپورٹ پر نگاہ ڈالی...
تاریخِ پیدائش کو پڑھتے ہی شاہ نے سوال کیا..
"محرم کے بنا تو عمرہ پر نہیں جا سکتے.." شاہ نے طنزیہ نگاہوں سے ان کو دیکھا جیسے اب وہ ان سے سوال طلب کررہے ہوں...
"مگر مجھے جانا ہے کیسے بھی کرکے.." زہرہ نے بلند آواز میں کہا..
اس کے چہرے پر غم و غصہ کے آثار نمایاں ہوئے..
"دیکھیں بی بی ایسے نہیں ہوتا بنا محرم کے کوئی کیسے جائے..." شاہ نے اپنی مجبوری اور قانون کی اطلاع دی..
"میں بہت امید سے آپ کے پاس آئی ہوں مجھے میرے نبی پاکﷺ کے پاس بھیج دیجئیے میں آپ کا احسان کبھی نہیں بھولوں گی..." زہرہ نے روتے اور گڑگڑاتے ہوئے التجا کی..
شاہ کسی سوچ میں گم ہوگئے..
"شاہ جی مجھے کیسے بھی کرکے بھیج دیں.." زہرہ نے فریاد کی..
زہرہ نے جھولی پھیلا کر کسی سید زادے کے آستانے پر کچھ مانگا تھا..
"یہ سارے پیسے لے لیجئیے.." ایک بڑی سی چادر میں اس نے ساری رقم، سکے نوٹ جمع کئیے ہوئے تھے...
بلال نے اٹھ کر پیسے لے لئے اور ان کو ترتیب دے کر گننے لگا...
تقریباً آدھا گھنٹہ گنتی و شمار کرنے کے بعد مکمل رقم چونتیس ہزار سات سو اٹھارہ روپے بنتے تھے...
"نہیں بی بی بہت کم پیسے ہیں اتنے میں کہاں عمرہ ہوگا..." بلال نے یکسر منع کر دیا..
"مجھے نہیں پتا مجھے کیسے بھی کرکے بھیج دیں میں نبی پاک ﷺ کے در پر نہ گئی تو میں نے مر جانا ہے.." زہرہ اب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی..
"مجھے کسی ہوٹل میں بھی جگہ نہ دو میں مدینہ شریف کی گلیوں میں سو لوں گی، مانگ کر کھانا کھالوں گی پر مجھے وہاں جانا ہے..." زہرہ بے ترتیب سی باتیں کہتی جا رہی تھی..
ناجانے ایک عجیب س بےبسی واصف کو محسوس ہوئی...
"عمرہ پینسٹھ ہزار کا ہوتا ہے اور آپ کے پاس صرف لگ بگ پینتیس ہزار ہیں..." بلال نے کڑے تیوروں کے ساتھ کہا..
زہرہ اب کے ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی...
"میں تو جی خود مزدور ہوں جس سے دو وقت کی روٹی نکل جائے وہی کما لیتا ہوں وگرنہ میں ذمہ داری لے لیتا باقی رقم ادا کرنے کی.." واصف نے ندامت سے کہا..
"پیسے پورے ہوتے تو محرم والا مسئلہ ہم حل کر لیتے کسی قافلے کے ساتھ ہی محرم بنا کر روانہ کر دیتے مگر..." بلال بری طرح ٹوکا گیا..
"چلو کل آجانا ہوجائے گا..." شاہ نے پاسپورٹ پر نام زہرہ پڑھ لیا تھا..
وہ دونوں ڈھیر ساری دعائیں دے کر چلے گئے...
"شاہ جی اتنا نقصان کیوں اٹھالیا آپ نے..." بلال حیرت زدہ ہوکر پوچھنے لگا..
"اس کی بے بسی اور آنسو میں صداقت تھی اور باقی کی اس کے نام نے متاثر کردیا .." شاہ نے بلال کو پاسپورٹ دیا...
چار دنوں بعد ایک قافلے کے ساتھ محرم بنا کر شاہ نے خود سے باقی کی رقم لگا کر زہرہ کو عمرہ کے لئے روانہ کر دیا...
اللہ اللہ کرکے وہ خوشی سے گئی..
خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے بے شمار دعائیں کی...
جس نے اسے وہاں بھیجا تھا اسے زہرہ نے ہر ہر دعا میں اول رکھا.. زہرہ کی سب سے بڑی خواہش جو پوری کردی تھی شاہ نے...
💫💫💫💫💫💫
💫💫💫💫💫💫
چودہ دن کب گزر گئے معلوم نہیں ہوا...
شام کے دفتر بند کرنے سے چند منٹ پہلے ہی زہرہ اور واصف اندر داخل ہوئے...
"السلام علیکم.." زہرہ نے آتے ہی شاہ کے پاؤں میں گر کررونا شروع کردیا..
"ارے ارے یہ نہ کیجئے.." شاہ کے منہ کے زاویے بگڑ گئے..
"اس کو اٹھاؤ.." شاہ نے برا مناتے ہوئے واصف کو کہا...
"شاہ جی میں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں.." زہرہ نے عاجزی سے کہا..
"ہو گیا نا عمرہ نبی پاکﷺ کے در کو ہاتھ لگا آئی ہیں نا اب یہ سب نہ کریں..." شاہ نے سخت لہجے میں منع کیا...
"یہ کھجوریں, تسبیح , مصلیٰ اور زم زم آپ کے لئے..." وہ دے کر رونے لگی..
"سب سے پہلے آپ کے پاس آئی ہے شاہ صاحب، ہوائی اڈے سے اترتے ہی یہاں کا رخ کیا..." واصف نے تفصیلات دی...
"شکریہ.. اس کو گھر لے کر جاؤ.." شاہ نے اس کی ابتر حالت دیکھتے ہوئے واصف سے کہا...
وہ دونوں وہاں سے چلے گئے...
💫💫💫💫💫💫
💫💫💫💫💫💫
خدا کا کرنا کہ اگلے چودہ دن سر کھجانے کو وقت نہ ملا اتنا کام ملا اور زہرہ کی کوئی خبر نہ لی گئی...
وقت گزرتا گیا اور لوگ آتے اور احسن طریقے سے ٹکٹ لے کر جاتے..
جو بھی آتا شاہ کا باقائدہ نام لیتا اور ٹکٹ لے کر جاتا...
جاتے ہوئے یہی کہتا ساتھ والے گاؤں سے زہرہ کپڑے سینے والی نے آپ کی بڑی تعریف کی ہے اسے کے کہنے پر آئیں ہیں...
جاتے جاتے اپنے گاؤں کا نام بتا جاتا وہاں سے آئے ہیں..
شاہ نے حساب لگایا جتنے اس کے پیسے لگے تھے زہرہ کے عمرے پر اس کے دس گناہ زیادہ اس نے منافع کما لیا تھا...
خدا تعالیٰ اجر کا بدلہ اجر سے ہی دیتا ہے...
مخلوق انسانی کا درد بٹانا ہی اصل سیرت نبوی ﷺ ہے....
💫💫💫💫💫
💫💫💫💫💫

Leave a Comment