Afsana#08 | Hazrat-e-Azazeel | HaaDi khan

حضرت عزازیل
ہادی خان
عرصہ دراز سے میں دمام میں کام کر رہا تھا.. ایک دن ٹرک چلاتے ہوئے سر پر پڑے انگوچھے سے اپنا پسینہ صاف کیا... میں کوتوالی کے پاس سے گزر رہا تھا جب مجھے ایک خیال آیا.. اسی دروان چھٹی کا عنقریب اندیشہ بھی معلوم پڑتا تھا.. مقدس دھرتی پر سر میں کہولت کے آثار نمودار ہونے لگے تھے اور بار بار عمرہ کرنے کے باوجود قادرِ مطلق کے دربار اعلیٰ میں دوبارہ ماتھا ٹیکنے کے لیے دل مچل اٹھا تھا..  ادھر مردہ حال وطنِ عزیز کی کوئی خیر و عافیت کی خبر بھی نہ تھی.. بتدریج  میرے کشمیر کو جلتے ہوئے ۱۰۰ دن گزر چکے تھے..
پاکستان میں یکتا ضروری رشتہ چچا سے تھا ان کو اس بارے معلومات دے دی تھی.. والدین کی طلاق کے بعد میرا پاکستان اور وہاں کے لوگوں سے صرف نام سنے سنانے کا رشتہ باقی رہا تھا پھر میں اُن گلیوں میں واپس نہ گیا۔ ہاں البتہ ایک معقول رقم چچا کے نام بجھوا دیتا ہوں جو مشکل میں میری بیساکھی بنے تھے... میں نے ارادہ کر کے منہ کعبہ شریف کی جانب موڑ لیا..
خیر اس نیک کام کے لئے کسی کی حمایت یا مشورہ لینے کے بجائے اس صراط مستقیم پر بنا دیر سویر کیے بغیر تلاش ہمسفر و کارواں منزل کی جانب روانہ ہو گیا...
امید تو یہی تھی کہ وہاں کسی خدا کے بندے سے بات چیت ہوجائے گی... یہ تنہائی آخر کو میرا پیچھا کرتے کرتے مجھ سے تھک جائے گی.. نئے لوگوں سے میری ملاقات ہو جائے گی... برسوں کی تنہائیاں جا کر کسی اور کو نہیں تو غلافِ کعبہ کو تھام کر سنا آؤں گا.. مقامِ آخرم بے شک وہی ہے...
یادش بخیر میری والدہ کا لاڈ رہ رہ کر ستاتا ہے.. میں عصر سے پہلے پہلے حرم میں داخل ہو چکا تھا اور اچھے سے احرام پہن لیا تھا.. میں نے نماز کی تیاری کر لی اور نمازِ عصر ادا کرنے کی غرض سے ہوٹل سے بیت اللہ کی جانب چل دیا..
یہ راستہ بہت خفیف سا معلوم ہوتا تھا مگر یہاں کی گرمی نے میرے وجود کو تربتر کردیا تھا اور میری جبیں پسینے سے شرابور ہوگئی..
شہادت والی انگلی کی مدد سے میں نے پسینے کو خود سے جدا کرکے زمین بوس کیا..
میرے سامنے ایک شخص چل رہا تھا... تھوڑی دیر کا مشاہدہ مجھے اس نہج پر لے آیا کہ وہ بھی کسی قافلے کا حصہ نہیں...
اس کے منہ سے بےاختیار جملے نکلتے جارہے تھے.. میں نے اپنی رفتار بڑھا کر اس کے برابر چلنا شروع کر دیا...
مجھے وہ عربی نہ لگا تو میں نے سلام میں پہل کر دی... مجھے عربیوں سے ناجانے کیوں مکاری، غنیمی کی بدبو آتی ہے.. شاید ان کی عیاش مزاجی کی وجہ سے یا شاید ان بےجا عجمیوں مظالم کے باعث جو وہ ہم غیر عربی قوموں کے مسلمانوں پر کرتے ہیں.. 
میرے ساتھی مزدور جس کو یہیں کام کرتے ہوئے سات سال ہو چکے ہیں اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا مگر اسے اس کی ماں کے جنازے میں شرکت سے کفیل عربی مالک نے محروم کردیا تھا....
یہاں مجھے غصے سے زیادہ اس مزدور پر ترس آیا تھا کہ غریب کندھا بھی نہ دے سکا اپنی ماں کو.. آخری بار جی بھر کر دیکھنے سے بھی محروم رہا... مجھے اس طرز کی بے شمار ناخوشگوار یادوں اور  غلو نے ان عربوں سے بدظن کر دیا تھا..
اس کے لہجے، رنگ وشکل سے مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ برصغیر کا رہنے والا ہے... جس پر میں نے اس سے اور گرم جوشی سے مصافحہ کیا..
مجھے اس جگہ سے اُنسیت تھی جب کے وہ پہلی بار آیا تھا اسی لئے کچھ گھبرایا ہوا نظر آرہا تھا..
اس کا احرام بھی اس سے سنبھالا نہیں جارہا تھا... ہم لوگ غوزیں کوٹتے ہوئے منزل کی جانب گامزن تھے...
مختصر سے تعارف کے بعد اس نے مجھے بتایا کہ وہ ہندوستانی ہے.. میں نے بھی اسے تن کر اپنے پاکستانی ہونے کا بتایا...
ہم دونوں بابِ عبداللہ سے داخل ہوئے... میرے دماغ میں ایک خیال آیا شاید یہ ایک شریر خیال تھا.. مجھے ایک شخص نے کہا تھا کہ یہ لوگ بادشاہ کی قبر کو بھی پکا نہیں کرتے ہیں اور بادشاہ کا بھی نام و نشان باقی نہیں رہتا ہے. مگر اس باب کا نام باب عبداللہ کیوں ہے؟ اللہ کے گھر کا دروازہ کسی بادشاہ کے نام کا کیوں؟ یہاں اللہ کے نام کا باب ہونا چاہئے تھا بادشاہوں کے نشانات کی باقیات کا نہیں.. خیر اس خیال کو میں نے جھڑک دیا اور آگے چلا گیا.. یہ واقعی ایک شریر خیال تھا.. 
پڑوسی مسلمان بھائی کے چہرے کی جانب نگاہ ڈالی تو اس کی آنکھیں برس رہی تھیں اور میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا تو سامنے حرم پاک سے میری آنکھوں کو بھی لو لگی.. پل کو میرا دماغ سب خیالات و واقعات ، سوچ اور  ہوش و حواس سے معذور ہو گیا تھا.. 
ہم نے نماز ادا کی، طواف کیا اور واپس آگئے..
ہم نے دینِ اسلام پھر اردو زبان اور آخر میں ملک کے حالات پر بحث شروع کر دی.. 
میں زیادہ سیاسیات کا قائل نہیں تھا اور نہ اس بات کا قائل تھا کہ اس پر بات کروں۔ جب ہی یہ موضوع جلدی بند ہو گیا.. یہ فقط میری لنگڑی سی سوچ تھی... میں سیاسات سے بیش تر طوطا چشمی سے کام لیتا ہوں وگرنہ کشمیر کا غم اتنا ہے کہ پھٹ پڑوں.. مگر عمر کے ساتھ میں اتنا عقیل ہو گیا تھا کہ یہ راز جان گیا کہ صرف باتوں سے کچھ نہیں ہوتا... 
سات دن میرے ساتھ رہنے کے بعد وہ برصغیر کا رہائشی میرے نقشِ قدم پر چلنے لگا تھا..یہاں ہماری رہائش ساتھ جڑی ہوئی تھی.. 
ایک بار وہ میرے ہوٹل میں آیا اور ایک بار اس نے مجھے مدعو کیا... ہم رات کا کھانا عشاء کے بعد باہر کھا لیتے تھے...
یوں ہی ہم نے مدینہ پاک کا سفر کیا.. میں نے بہت سی جگہوں پر اس کی اصلاح کی.. وہ مسح کر کے بازوں کو دھو رہا تھا... میں نے اسے صحیح طریقہ بتایا.. اب وہ بازو دھو کر مسح کرتا ہے..
ایک اندر کی بات ہے دراصل مجھے اس سے معلوم ہوا کہ اس کا مذہب کی جانب کوئی رجحان نہیں تھا مگر حال ہی میں ایک فلم میں سے اس نے وضو کا طریقہ سیکھا تھا جس میں وضو ایسے کیا گیا تھا..
ایک دن گہری نیند میں سوتے ہوئے اس نے عصر کی نماز قضا کر لی.. وہ میرے ساتھ آ نہ سکا.. ہم اگلے دن واپس مکہ کو آگئے تھے.. یہیں سے ہماری واپسی ہونی تھی... میری دمام کو اور اس کی دہلی کو..
مزید سات دن ہم نے ایسے ہی گزار دیئے..
آخری دن جب وہ مجھ سے ملنے آیا تب میں نے بھی واپسی کی تیاریاں کرلی تھیں..
میں مکمل سکوت کے عالم میں اپنے خیالوں میں بیٹھا  جوتے کے تسمے باندھ رہا تھا..
دھڑلے سے دروازہ کھلا ، میں اس کے لئے تیار نہ تھا۔ دل میں ہلکی سی تیزی بڑھ گئی..
"غضب ہو گیا یہ تو..." وہ بولا اور تھوک ایسے نگلنے لگا جیسے خشک ستو حلق میں پھنس گیا ہو...
"ارے ایسا بھی کیا ہوا.." میں بھی دھیمے سے مسکرا کر جذباتِ لطیفہ کی پال پوس کرنے لگا.. دراصل وہ بہت سے مقامات پر ذرا ذرا سی بات پر اپنے سیاہ مائل منہ کو حیرت و استعجاب سے سرخ کرنے میں ناکام ہوتا کیونکہ سرخی کی نیم پختگی پر سیاہی اپنے چودہ طبق روشن کیے ہوئی تھی..
"میں نے ابھی اپنے بچپن کے دوست کو فون کیا اور بتایا کہ میں آرہا ہوں.. وہ ہندو ہے مگر اس نے جب پوچھا کہ شیطان کو کنکریاں ماریں تو مجھے یاد آیا کہ میں نے تو شیطان کو کنکریاں ماریں ہی نہیں..." اس کا چہرہ فق ہوچکا تھا..
وہ میری جانب معین خیز انداز میں گھگیا کر کسی قسم کی امید و ڈھارس بندھانے کا منتظر تھا..
"ہاہاہاہاہاہاہا..." میں نے اس کے جنگی پن کا لطف اٹھایا..
"یار.. یاسین بھائی وہ شیطان کو کنکریاں کہاں مارنی ہیں میں نے تو ماری نہیں.." بہت خوفزدگی کے باعث اس کی ناک کے نتھنے یکایک پھڑپھڑائے..
مجھے بے حد ہنسی اور پھر کچھ رونا سا آنے لگا مگر میں نے اس احمق پر یہ دونوں جذبے  آشکار نہ کئے..
"وہ جب مدینے گئے تھے نا وہاں تم نے ایک دن نماز پر نہ جا کر شیطان کو جتوا دیا تھا.. الٹا وہ تمہیں کنکریاں مار گیا تھا.." میں نے نیم پیٹ کے بل جھک کر جوتے کا تسمہ باندھا۔ اسی دوران میرے منہ سے قہقے اُبل رہے تھے.. 
میری ہڈیاں چٹخنے لگیں, ہنس ہنس کر باچھیں شل ہو کر رہ گئی اب آنکھوں کے کونوں سے پانی بہنے لگا..
میں نے واقعی یہاں جھوٹ نہیں بولا تھا...
"مطلب میرا عمرہ پورا نہ ہوا پھر تو..." اس نے روتی شکل بنالی تھی..
"باپ رے باپ اب آنے جانے کا کیا فائدہ.." اسے منہ بھر کر غصے کی ابکائی آئی مگر وہ کر بھی کیا سکتا تھا..
اس کا جسم گویا بے جان و بے بس ہو کر بیڈ پر گرا...
"کوئی مسئلہ نہیں بھائی.." میں اٹھا اپنا بیگ پکڑا.. اس کے قریب گیا، کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس سے یارانہ نبھانے کی کامیاب کوشش کی تھی.. 
"بہت بڑا مسئلہ ہے یاسین بھائی بہت بڑا مسئلہ ہو گیا ہے..." وہ اتنا بے وقوف نظر نہ آتا تھا جتنا وہ ظاہر کر رہا تھا...
"تم واپس جاؤ یہ رسم تم دہلی میں ادا کر لینا.." میں نے مردہ سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اسے مخاطب کیا جس میں طیش کا عنصر اب نمایاں ہونے لگا تھا..
وہ یک دم میرے منہ کی جانب تکنے لگا..
"تم وہ سات کنکریاں مودی کو مارلینا.. شیطان نے تمہارے ملک میں پناہ لے رکھی ہے آج کل.. وہ مجھے بھی یہاں نہ ملا.." یہ کہہ کر میں نے وہاں سے کوچ کرلیا..

کمرے سے میرے بیگ کے ٹائروں کی آواز دور سے دور ہوتی جارہی تھی...

No comments

Powered by Blogger.