Afsancha#06 | Wajood e zan sy hai Tasveer kainaat mai rang | HaaDi khan


وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ۔۔۔۔
از قلم ہادی خان
محلے میں تمام گھر قد کے لحاظ سے چھوٹے اور مختصر تھے۔۔۔ میرے گھر کی نسبت تمام کچے اور غلیظ بھی معلوم ہوتے تھے۔۔۔ میں نے ان گھروں اور مکینوں کو بہت قریب سے بغور دیکھا ہے۔ وہ بہت گدلے اور کثیف ظاہر ہوتے ہیں۔ نہ رہن سہن کا ڈھنگ، نہ لباس پہننے کا سلیقہ۔۔۔۔ ان مَل کچے گھروں کی مختصری کا عالم یہ ہے کہ دھوپ اور روشنی روک ٹوک کی وجہ سے بمشکل آتی ہے۔۔۔بچارے دھوپ کی نعمت سے محروم ہیں۔۔۔ کسی کی کھولی کے سامنے گندی نالی کا پانی جمع ہوتا ہے تو کسی کے دروازے کے قدموں میں گھر کا کوڑا کرکٹ۔۔ مجھے ان پر ترس بھی آتا ہے۔۔۔ یہ اجیرن جیون کیسے گزارتے ہیں میری سمجھ میں تو نہیں آتا اور میرا حال ہر منظر میں، نظر میں، زاویہ نظر میں سب سے بہتر ہے۔۔۔ میرا  گھر بڑی حویلی نما ہے جس میں بڑے بڑے اور کھلے کمرے تعمیر کئے ہوئے ہیں ۔۔۔
میں نے اس محلے کو کافی بار چھوڑا مگر جہاں بھی جا کر آباد ہوتا تنہائی ساتھ ساتھ چلتی۔۔۔
میری پہلی شادی اندرونِ سندھ عمر کوٹ میں ہوئی تھی۔۔۔ ثمینہ سے بتدریج ۳ بیٹیاں ہوئیں۔۔۔میرے والد پر پوتے کا بھوت سوار تھا۔ انھوں نے ناگواری میں آ کر مجھ سے ثمینہ کو طلاق دلوادی۔۔ ابا کی جلی کٹی سن کر میری فطرت میں زن سے بدگمانی پیدا ہونے لگی۔۔۔ خدا جانے ثمینہ اب ان تین بچیوں کو لے کر کہاں رل رہی ہوگی۔ ان ہی سوچوں کو میں سمیٹے ہوئے تھا۔۔بعد از معلوم پڑا اسی کے خاندان کے ایک پرانے عاشق خالہ زاد  نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور بچیوں کی سرپرستی اپنے سر لے لی۔۔۔ مجھے تو رشک آیا سوچ کر بھی کہ عورت کو دیکھو کیسی قسمت پائی اگرچہ طلاق یافتہ ہو یا طوائف ہو کسی کی سچی محبت بن جائے تو ہر حالت میں مرد کو قابلِ قبول ہے۔۔۔
دوسری شادی سے میری دو اولادیں ہیں۔۔۔۔ جن میں سے میرا ایک بیٹا امریکہ منتقل ہو گیا۔۔۔۔دوسرا پڑھائی کے سلسلے میں امریکہ میں مقیم ہے اور واپسی کےآثار نہیں لگتے۔ مجھے ادراک ہو گیا ہے کہ وہ بھی وہیں اپنی مستقل رہائش کا انتظام کررہا ہے۔۔۔۔ میری بیوی کے انتقال کو چار برس ہو گئے۔۔۔اب میں سوکھے پتے سا بے وقعت و بےاہمیت ہوا سے رلتے پلتے دھول مٹی میں گرد بن  گرد ہوتا جا رہا ہوں۔۔۔ میں باہر کا چکر لگانے جاؤن اور  کسی گھر میں بچیوں کی کھیلنے کی آوازیں آنے لگیں تو دل مچل جاتا ہے۔۔۔ کہیں کسی باپ کی زنگ آلود سائیکل کے کیریئر پر بیٹھی بچی کی پُرمسرت مسکراہٹ میرا دل موہ لیتی۔۔۔۔ اُف اس بھائی نے اپنی بہن کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔
آہ۔۔۔۔ یہ کلو روز اپنی بیوی کو مارتا کیوں ہے۔۔۔ایک ہی تو بار بیچاری سے چائے میں چینی کی جگہ نمک ڈل گیا تھا اب وہ جب جب نشہ کرتا ہے وہ بات اسے ازسر نو یاد آتی ہے۔۔۔ پھر بالوں سے پکڑ کر بیچاری کو گھسیٹتا ہے اسکا منہ پیٹتا ہے۔۔۔۔ کھال نوچتا ہے۔ واہیاتیاں بکتا ہے۔ اس وقت وہ جو کہتا یے عام زندگی میں ان الفاظ کے آدھے چوتھائی یا اس سے بھی کم اس نے بکے اور اس سے بھی کم کے میں نے معنی سمجھے ہوئے ہیں۔۔۔ یہ تمام باتیں مل جھل کر افسوس ،ندامت شرمندگی کا ایک مجموعی تاثرات پیدا کردیتی ہیں۔۔۔۔ مملکت پاکستان کی منڈی کے بھاؤ گرتے چڑھتے رہتے ہیں کبھی گر گئے تو بلند بھی ہوجائیں گے مگر عورت کے کردار کے گرتے ہی اس کا اقدار بھی گرجاتا ہے جو دوبارہ بلند نہیں ہوتا۔۔۔
خدا جانے  یہ جانور بن کر مار کیوں کھاتی ہے۔۔۔۔میرے منہ سے افسوس کا ٹوٹا پھوٹا، لولا لنگڑا الفاظ بھی نہیں نکلا ذائقہ بگڑا تو میں گھر لوٹ آیا۔۔۔۔
میرے بڑے سے گھر میں اب میں اکیلا ہوں اور میری انمول چیزیں ہیں۔۔۔ وہ چیزیں جو دورِ حاضر میں دقیانوس جانی جاتی ہیں میری ہم راہ بسر ہیں۔۔۔۔
میں آرام دہ کرسی پر دراز ہو گیا۔۔۔ اس سے قبل ناگواری سے میرے چہرے کے خدوخال مسخ ہوتے جاتے میں نے ریڈیو چلا دیا جس میں صنف نازک کچھ پڑھ رہی تھی۔۔۔
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں 
(علامہ محمد اقبال)
غالباً یہ ایک نئے ادبی جریدے راہِ ادب کی ہدایت کار طوبیٰ صدیقی کی آواز معلوم ہوتی تھی۔۔۔میں عموماً ان کو سن کر الجھنوں سے چھٹکارا پاتا ہوں۔۔۔۔
اقبال کی اس خوبصورت نظم کو سن کر میرے دل میں ٹیسیں اٹھنے لگیں۔۔۔۔
میرے دل میں ایک درد کرتا جذبہ ابھرا۔۔۔۔ میرے ہاتھ کی ابھری رگوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ میں ادھیڑ عمری سے قریب المرگ ہوں۔۔۔۔ میں نے اپنی صراحی جیسی لمبی گردن میں جھانک کر دیکھا تو تولہ سوا تولہ مغز میں فقط نفرتِ صنف نازک ہی پڑی ملی۔۔۔۔ میرے نیر تخت سے لٹک کر بہہ گئے۔۔۔ سر دسی مرطوب ہوا میرے انگ انگ کو چھو کر نکل گئی۔۔۔ مجھے میرے اندر قرون اولیٰ کے عربوں کی بگڑی ہوئی شکل نظر آنے لگی۔۔۔ میں اپنے باپ کے نفرت کے ورثے کو لیئے چل رہا تھا۔۔۔۔
مجھے آپ ہی آپ وسوسہ آیا میں نےخود سے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔ "کیا میں، میں ہی ہوں؟ کیا میں مکمل ہوں وجودِ زن کے بنا۔۔۔۔" اس جذبے نے میرے سوال و شکوک کی تردید کر دی۔۔۔۔
(تمام شد)

No comments

Powered by Blogger.