Column#07 | Hamara majmui rawaiya, taraki mai rukawatein | HaaDi Khan

ہمارا مجموعی رویہ،ترقی میں رکاوٹ۔۔۔
ازقلم ہادی خان
میں نے اکثر و بیشتر دیکھا ہے کہ ہم میں سے کوئی جب کامیاب ہوجاتا ہے تو اس میں ایک تبدیلی رونما ہوجاتی ہے...
خود اعتمادی کا فقدان ان کفِ پا سے خارج ہوتا محسوس ہوتا ہے..
 جب کوئی پاکستانی غیر ملک اپنے پیر گاڑھ لیتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے ہم وطنوں کی بھی مدد کرے اور انھیں کامیابی سے ہمکنار کرے..
 مگر وہ اپنے ہی دُکھڑوں کا سمندر بہا کر اپنی مجبوریاں یوں بتانے لگتے  ہیں کہ الٹا وہ ہم ہی سے مدد کا مطالبہ نہ کردیں۔۔۔
اس معاملے میں ہندوستانی قوم ہم سے دس درجے بہتر ہے..
اس قوم کا ایک شخص جب کامیابی کی سیڑھی کے دو زینے طے کرتا ہے تو اپنے ہم وطنوں کو بھی ان دو زینوں پر لا کھڑا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہےجن سے وہ آگے چل پڑا...
دبئی ' گلف ' عرب و عجم جہاں کہیں بھی ہندوستانی قوم کسی دفتر میں نظر آئیں گی تو اعلیٰ عہدے پر نظر آئے گی اور تعداد میں بھی زیادہ  ہوتے ہیں ، ایک گٹھ جوڑ کی مانند رہتے ہیں .
مثال کے طور پر اگر ایک عربی کا کوئی کاروبار ہے اس کمپنی میں  پچاس لوگ کام کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ ان میں دس پاکستانی اور چالیس ہندوستانی ہوں...
 لیکن اگر وہاں سے کچھ لوگوں کو نوکری سے فارغ کرنا پڑے تو ان کی کوشش ہوگی کہ غیر قوم کے افراد کو فارغ کروایا جائے.. یہی وجہ ہے کہ آج عرب ممالک میں تقریباً ہر ذمہ دار وعہدوں پر چھوٹے بڑے کام میں ہندوستانیوں کی وافر تعداد پائی جاتی ہے...
اللہ کرے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حوصلہ پالیں اس سے ہمارے ملک، ہماری قوم اور ہمارے مذہب کی بہتری ہوگی.. ذمہ داری لینے سے، کفالت کرنے سے ہی اجتماعی طور پر مثبت تبدیلی آئے گی وگرنہ خدا نے تم سے پہلے اور قوموں کو بھی اسی وجہ سے برباد کیا ہے...

No comments

Powered by Blogger.