Column#06 | Nafrat ki Tarbiyat | HaaDi Khan

 
نفرت کی تربیت۔۔۔۔
ازقلم ہادی خان
بحثیت ایک قوم ہر سطح پر ہم میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔۔۔۔اس کی برسوں پرورش ہوئی ہے جس سے ہمارے مزاج اور معیار میں منفی جدت  کا عنصر بےتکلف بڑا ہو تا گیا۔۔۔۔کبھی گرمیوں کی چھٹیوں میں مہمان بن کر اپنوں کے گھر جاتے تو تین تین مہینے رحمت ہی سمجھا جاتا تھا، کبھی زحمت نہ گردانا گیا۔۔۔مگر قریب ان دس سالوں میں ہماری گرمیوں کی چھٹیاں بالائی علاقوں کے پہاڑوں کے بیچ تنہا گزرنے لگیں۔۔۔ہم نے آپسی رنجشوں سے اپنے بچوں کے دماغوں میں نفرت کا بیج بو دیا ہے۔۔۔۔بڑے بزرگ آپسی لڑائیوں کو جب بچوں کے میل جول پر لاگو کرتے ہیں تو دائرے کم سےکمتر ہوتے جاتے ہیں۔ ایک اتنا جھوٹا دائرہ جس میں بچے اپنے آپ کو اسیر سمجھ کر گھٹنے لگتے ہیں۔۔۔۔ہم نے اپنے بچوں کو ان کی بڑھوتری کی عمروں میں ہی سیاست پڑھا دی۔۔۔۔ان کی پرورش میں ایک منفی عنصر نے مداخلت کر لی ہے جس سے وہ اپنے قدو قدامت ، ظرف و لحاظ سے خارج اورصبر کے فقدان کے بونے بچے بڑھ رہے ہیں۔۔۔۔یہی بچے بڑے ہو کر ماں باپ کی رنجشوں کا ورثہ اپنے کندھوں پر رکھے، آگے بڑھیں گے ۔۔۔یہی لوگ جب اپنوں سے اتنے بے زار ہوں گے تو باہر کسی کا کیا لحاظ کریں گے۔۔۔۔
جب بچوں کو ہم ان کی عمر سے پہلے ہی اپنے درجے کی باتیں بتائیں گے، جب ان پر یہ ظلم ڈھائیں گے کہ تم نے غلطی نہیں کرنی فلاں  فلاں  سے زیادہ مل جول نہیں رکھنی تو تب ہمارے کردار کیسے بنیں گے۔۔۔۔یہ وہ مستقبل ہیں، ملک کا وہ سرمایہ ہیں جن کے دماغوں میں شر و انتشار بھرا جارہا ہے۔۔۔

جب وہ قضیہ معاملات کو کم سنی سے جاننے لگیں گے ۔۔۔وہ معصوم نہیں رہیں گے۔۔۔ان کے بچپن کا قتل، معصومیت سب کچھ  ہم ان سے چھین رہے ہیں۔۔۔۔جن پر ابھی شریعت لاگو نہیں ہوتی۔۔۔۔خدا تعالیٰ نے ان پر ابھی حساب کا  قلم بھی نہیں رکھا۔ ان معصوم بچوں کو نفرت کی تعلیم دیں  گے تو جب اپنا بڑھاپا آئے گا تو وہی بچے اپنے دائرے کو اور کشادہ کر لیں گے جس  سے آپ کی ذات بھی نکل جائے گی۔۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.