Column#08 | Hosh kardna daan | HaaDi Khan



ہوش کرناداں
ہادی خان
ہری پور,پاکستان  
دورِ حاظر میں اگر کسی جانب کوئی حادثہ ہو جائے تو لوگ کھڑے ہوکر اس منظر کو اپنے اپنے کیمروں کی زینت بناتے ہیں جیسے بڑی محنت سے میڈیا کی مانند بڑھا چڑھا کر لوگوں کو پریشان کرنے کے لئے خبر بنائیں گے... ایسا تب ہوتا ہے جب ہم اس بات کو نظر انداز کردیں کہ ان حادثات کے لئے متعلقہ ادارے موجود ہیں جو اپنے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں... جدید دور ہے اور دنیا ترقی پذیر ہوچکی ہے.. انسان کو پہلو میں بیٹھے دوسرے انسان کی خبر ہو نہ ہو مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا عالمی گاؤں بن گیا ہے... میں نے بیشتر بار حادثات میں لوگوں کو تصویریں بناتے دیکھا ہے اور زخمی لوگ رستے خون میں نہائے مدد کی طلب میں ان کے چہروں کو مبہوت ہو کر امید سے تکتے تکتے بہت سارا خون بہنے کی وجہ سے ابدی نیند سوجاتے ہیں... خدا جانے کونسی ترقی یافتہ پڑھے لکھے لوگوں کی عقل و فراصت کی دنیا ہے جس میں نہ تو احساس ہے نہ ندامت، ان میں عبدیت کے آنسو ہیں...
ایک وقت تھا جب کہیں  کوئی حادثہ ہوجاتا تھا تو ہسپتال کے باہر  لوگوں کی قطاریں لگ جاتیں تھیں کہ خون کی ضرورت ہو تو ہم حاظر ہیں... جہاں گاؤں کا کوئی شخص بیمار ہو جاتا تھا تو لوگ  اس کے ساتھ دوسرے شہر تک سفر کر چھوڑتے تھے...اپنی جیب سے پیسے لگا کر  سفر کے کھانے پینے اور دیگر اخراجات کر لیتے تھے... ایک دور تھا جب پاکستان میں لوگوں کے پاس ڈگریاں نہ تھیں، ہم ترقی پذیر تھے ترقی یافتہ نہ تھے... میڈیا کا کام میڈیا کو ہی کرنے دیتے تھے.. تب احساس موجود تھا، تب بے حس نہ تھی ہماری قوم..
اب ہم نے کافی کچھ پالیا ہے مگر ہم نے جو کھو دیا ہے وہ اخلاقی قدریں ہیں... ہم میں جانوروں کا تو کیا انسانوں کا دکھ سہنے کی حس تک ختم ہو چکی ہے.. ہم سے باحیثیت قوم بزرگوں کی دی  ہوئی تربیت و ورثہ سنبھالا نہ گیا.. ایک نظر سے دیکھیں تو ہم واقعی نااہل نسل ہیں.. اس دور میں سب سے زیادہ ورثے کا خون ہوا ہے...
اب جلد ہی سب کو ہوش کے ناخن لینے پڑیں گے وگرنہ جب خود کو ٹھوکر لگے گی اور اٹھنے کی ہمت نہ رہے گی تو تب ملال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا.. 
تب اپنا ہی بویا، کاٹنا پڑے گا..

No comments

Powered by Blogger.