Column#09 | Ikhlaqi bohran | HaaDi Khan

اخلاقی بحران
ہادی خان
ہری پور, پاکستان 

عموماً یہی گوش گوار ہوتا ہے یا اخبار کے اوّل صفحے پر بڑے حروف میں لکھا پڑھنے کو ملتا ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے گزر رہا ہے.. مگر اس معاشی بحران سے کئی زیادہ بڑا بحران ہمارے سروں پر آکھڑا ہوگیا ہے اور وہ یہ کہ ہم سب اخلاقیات کے بحران سے دوچار ہورہے ہیں.. اپنے ارد گرد دیکھیں تو لوگوں کا مزاج اور معیار دن بہ دن بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے..کچھ عرصہ قبل جب والدین اپنے بچوں کے سامنے اردو بولتے تھے تو تربیت کی ریت ایسی تھی کہ منہ سے نازیبہ الفاظ نہ نکلتے تھے، کوئی بچوں کے سامنے جھوٹ بولنے کی جسارت نہ کرتا تھا..  مگر اب تو یہ سب عام ہوگیا ہے.. ہماری زبانیں بے باک اور لہجے بدتمیز ہونے کی مثال یہ ہے کہ ہم سیاہ فام انسان کو منہ پر کالا ، مختصر قدامت کے شخص کو منہ پر بونا ، اور بوڑھے شخص کو آڑے ہاتھوں لینے میں ایسے ماہر ہیں کہ بے سود باتوں میں ہی قبر کا رستہ دیکھا دیتے ہیں... الفاظ کا اچھا چناؤ ہمارے لئے شاید کسی کوڑھ مغز سے فہم کی بات کی توقع کا سا مشکل ہو گیا ہے... ہمیں کسی پر بے جا تنقید نہیں کرنی چایئے لیکن اگر کسی پر تنقید بھی کریں تو اس پر بے صرفہ اپنے الفاظ کے تیر نہ چلائیں، بلکہ الفاظ وہ استعمال کریں جس سے کسی کی تذلیل نہ ہو.. ناجانے ہم کس جانب کو چل پڑے ہیں... والد اور بیٹے میں ہمیشہ سے  ایک فاصلہ رہا تھا.. آج کل باپ بیٹے کے درمیان ادب آنکھ کے سرمے کے برابر بھی میسر نہیں.. پہلے ماں بہن کی عصمت کا خیال کیا جاتا تھا.. مگر اب ناجانے ہر ایک زبان کا غلام کیوں ہے.. ہر کسی کا دل و دماغ کیوں کمزور پڑگیا ہے... زبان کے سامنے ہر سوچ و فہم، عقل و دنائی نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں... ہمیں اپنے الفاظوں میں چاشنی بھرنی چاہئے...

ہم میں کچھ لوگ تو مسجد میں بھی موبائل چلاتے اور کال آنے پر اونچی آواز میں بات کرتے ہوئے مسجد تک کا احترام نہیں کرتے... میری مقدس عبادت گاہ کے احترام کا پردہ کس نے چاک کیا ہے... بچے والدین پر چلا رہے ہیں، ہر ایک کی آواز بلند ہو رہی ہے.. لفظوں سے انسانوں کی عزتیں، جذبات اور خیالات مجروح ہو رہے ہیں، ان سب کا قتل ہورہا ہے.. اور پھر ہم شکوہ کرتے ہیں خدا سے کہ ہم نے ترقی نہ پائی.. انسان جب خودی کو پالیتا ہے خاموش ہو جاتا ہے... یہاں تو سب سے اونچی آواز ہی صاحبِ ڈگری یافتہ کی ہے... ہمارا قومی فرض یہی ہے کہ اب سے ہم مناسب الفاظوں کا استعمال کریں اور شیریں  لہجے میں گفتگو کریں وگرنہ اس بحران کی بھرپائی ہمارے بوڑھے ہونے کے بعد جب کوئی نوجوان ہمیں روند کر نکل جائے گا تب ہوگی اور وہ نقصان تلافی کے ہر پیمانے سے کافی اوپر ہوگا...

No comments

Powered by Blogger.