Diary | Story #01 | HaaDi Khan

شب بھرمسافت...تیری تلاش میں...
ڈائری کا اول صفحہ...
ہادی خان
🌟🌟🌟
بابا کی موت کو ۵ سال ہوچکے تھے..
میری ماں کا کُل سہارا میں اور میرا کُل سہارا وہ تھیں..
ماں کہتی تھی میرا اور اس کا صرف اللہ ہے مگر ماں نے کبھی مجھے یہ نہیں بتایا کے اللہ کہاں ہے؟ 
کس سے ملتا ہے؟
کب ملتا ہے؟
میرے سوالات تو خیر بارہا جاری ہی رہے..
جانے کیسا ایک ڈر میرے اندر جا کر نگر آباد کر چکا تھا کہ میں نو برس کا لڑکا اب بھی ماں کی آغوش میں سر رکھ کر سوتا تھا..
بابا کی موت کے بعد میری بڑھوتری کا عمل رُک سا گیا تھا..
ایک رات فیکٹری سے آکر ماں آرام کرنے کو لیٹی اور جب اٹھی تو بخار سے تپنے لگی...
اُن کے منہ سے درد کے باعث کراہت اُبل رہی تھی..
میں مارے خوف جو شاید پہلی بار اس کیفیت سے آشنا ہوا تھا سہم گیا...
میں لاعلم تھا کہ ٹھنڈی ٹھار جما دینے والی سرد رات میں بلکتی سسکتی ماں کے دکھ درد کو کیسے کم کروں..
میں بہت دیر تک ماں کا سر دباتا رہا جیسے ماں اکثر میرا سر دباتی تھی..
پھر میں کبھی ماں کا ماتھا چومتا اور کبھی ہاتھ کہ آدھ مری ہی سہی مگر کوئی حوصلے کی کونپل تو پھوٹے..
مجھے یاد آیا ماں نے کہا تھا ہم سب کی مدد کو اللہ ہروقت موجود ہوتا ہے..
میں نے بالکل ویسے ہی جانماز بچھائی جیسے امی بچھاتی تھیں اور نماز کی مشق کرنے لگا.. زیادہ کچھ یاد نہیں بس جو یاد تھا وہ سبق بھی پڑھنے لگا... جانے ماں کب سوگئی مگر میرا یہ عمل جاری رہا حتیٰ کہ صبح ہونے لگی اور میں ادھر ہی سجدے میں سویا پڑا رہا.. میری زندگی جو بچپن میں ہی رُک گئی تھی ایک جھٹکے سے چلی.. مجھے مصلےٰ سے صبح ماں نے ہی اٹھایا تھا..
میں نے انسانوں کو ہر رات ایک جیسی ملتی دیکھی ہے.. سب کے لئے رات کی تاریکی ایک مانند ہوتی ہے.. کوئی سوجاتا ہے, کوئی جاگتا ہے, کوئی روتا ہے, کوئی بےچینی کے باعث سو نہیں سکتا.. وہ رات بھی مجھے سب جیسی ہی ملی تھی اور اس رات میں نے مسافت کی تھی... اسکی تلاش میں... میری عمر اب وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے اور میں ۲۷ برس کا ہوں.. اُس وقت مجھے ایک سوال کا جواب مل گیا تھا.. اُس رات مجھے کسی لمحے, کسی ساعت, کسی دعا کے حرف پر, روتے ہوئے, اللہ ملے تھے...
🌟🌟🌟

No comments

Powered by Blogger.