Diary | Story #02 | HaaDi Khan
عصرِحاضراورعقائد..
ڈائریکاصفحہ دوم
ہادی خان
🌟🌟🌟
تکرار در تکرار بحث کے بعد مکمل سکوت کا عالم چھا گیا..
کوئی ہار ماننے کو تیار ہی نہیں تھا....
نہ قائل ہونے پر، نہ ہتھیار ڈالنے پر..
اپنی بات کو دوسرے پر مسلط کرنے کو ہر شخص دماغ کھپا کر دلیلیں دے کر اپنا مؤقف منوانے پر آمادہ تھا...
جھکے سر، نظر انداز و بےنیاز مغرور سی گردن لاتعلقی کا تماشہ بنے سب آپس میں بےزار ہوچکے تھے..
"میاں یہ پان تھوڑی ہے جو منہ میں ڈالتے ہی اثر دکھا دے.. وید کی تعلیم لو تو جانو نقرس کی دوا کیسے بنتی ہے.. کیسے متاثر کرتی ہے.." حکیم صاحب ڈھٹائی سے دھاڑے..
"مسہری پر لیٹے ابا کو کسی معجزے کی تلاش ہے.. دوا ہی ایسی مطلوب ہے کہ جو ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے مماثل ہو.." حکیم صاحب کی نسبتاً جوان سر کو خفیف سی جنبش دے کر بولا..
"میاں تم ڈسے ہوئے ہو ولایتی ڈاکٹروں واکٹروں کے.. ہمارا علاج تم کیا جانو، یہ دیر طلب اور دیر تلک چلتا ہے.." مستطیل وضع کے چبوترے سے آگے کو جھک کر پان کی پچکاری تھوکتے ہوئے حکیم صاحب سنبھل کر بولے..
جوان دیا سلائی کو دانتوں کے درمیان جکڑ کر کہنے لگا..
"بات ڈاکٹروں کی نہیں مستقل اور جھٹ پٹ علاج کی ہے.."
"مرکھنا بیل جی کا جلاپا یوں ہی اپنے ابا کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے.." حکیم صاحب اشاروں کنایوں میں لطیف مگر سخت بات کہہ گئے..
"اب آپ زیادہ بول رہے ہیں..." جوان نے برا منایا..
"برا مت مناؤ مذاق کر رہا ہوں..." حکیم صاحب نے بگڑتی بات فوراً سنبھال لی..
"اچھا اچھا... قبلہ مطول علاج سے جان چھڑانا چاہتا ہوں.. ہفتہ وار کون دوا کے لئے قطاروں میں خوار ہو... پیسوں کی بربادی الگ سے... آپ کو دیکھا تو تقویت سی محسوس ہوئی.. مگر اس اُمید کی قندیل کو یکا یک بجھا دیا آپ نے.." جوان کا تربتر ملول لہجہ نمایاں تھا..
"ناداں پریشان نہ ہو.. ہم تم کو ایسی پُڑیا بنا کردیں گے جو دو مہینوں میں اپنا شباب منوالے گی.." حکیم صاحب نے فہمندی سے مشورہ دیا..
"ابا دوا سے یوں ہی بےزار آچکے ہیں. یہ بھی اٹھا کر شوکت کی پلنگ کے نیچے پھینک دیں گے.." جھکے سر کے ساتھ جوان تمغماتے ہوئے بولا...
"میں ضمانت دیتا ہوں یہ اصل شے ہے زیادہ تردّد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی.. تم میری ضمانت پر یہ آزماؤ.. ایک بار کھلا دینا باقی جوڑوں کا درد کیا معذور بھی اٹھ کھڑا ہوگا..ایسا مریض پیدا نہیں ہوا جو میری دوا سے صحت یاب نہ ہوا ہو... چلی نبض والے انسان کو یوں ٹھیک کردوں.." حکیم صاحب نے ادھ کھلے کوٹ کی زپ کو بند کرتے ہوئے اترا کر کہا..
"مجھے بھی چاہیے حکیم صاحب.." مجمع سے ایک مجہول صاحب بولے...
"دیکھا میرا نام چلتا ہے.. میری زبان کا کہا چلتا ہے... ایک تم کو میری ضمانت پر بھروسہ نہیں..." حکیم صاحب نے عقل مندی کی قبا جیسے درست کی ہو...
"آپ نا صاحب کل آجائیے گا.. یہ پچھواڑے میں ہی میرا دواخانہ ہے"
"نہیں مجھے تو ابھی چاہیے.." تن و تواش شخص جھلملاتی لو میں نمودار ہوا..
"ابھی کیا بھئی وقت لگتا ہے.." حکیم صاحب تو جیسے کڑوا بادام کھا کر بولے....
"نہیں نہیں مجھے دوا نہیں چاہیے.." وہ بول کر رُکا..
"تو پھر.." حکیم صاحب پھاڑ کھانے والے انداز میں دانت پیس کر بولے..
"آپ کی ضمانت چاہیے.." طمانیت سے جملہ مکمل ادا کیا..
"کیسی ضمانت.." وہ بوکھلا کر بولے..
"۲ ماہ آپ کے زندہ رہنے کی ضمانت... آپ کا تو نام چلتا ہے... آپ کی زبان کا کہا چلتا ہے..." اجنبی نے کہا تو سکوت طاری ہوگیا..
رات کی تاریکی میں بیشتر ذی روحیں گونگی زبانیں بن گئی تھیں..
🌟🌟🌟

Leave a Comment