Diary | Story #03 | HaaDi Khan
ڈائری کاصفحہ سوم
ہوئے أسرارفاش
ہادی خان
🌟🌟🌟
کھچا کھچ مردانہ نشست گاہ ذی روحوں سے بھری محفل جمی ہوئی تھی... صاحبِ محفل سربراہ عالیٰ سرنگوں بہت خفیف سی جنبش سر کو دیتے کچھ حساب کتاب کر رہے تھے.. یہ یونین کی مجلس تھی.. جس میں تمام شرکت کرنے والوں کو آفتاب کریم کی اچانک موت کے سبب موعو کیا گیا.. بہت طرف سے لوگوں کی غوزیں مل ملا کر مکھیوں کی بن بناہٹ بن کر ماحول میں مبہم انتشار پھیلا رہی تھیں...
"بہت اچھا تھا بھائی کریم.." ایک جانب سے تعزیت کے کلمات کا اظہار ہوا..
"بالکل بھائیوں جیسا تھامیرا تو.." ساتھ والے نے بھی روتی شکل کو اور بگاڑ کر کہا..
"آپ دونوں نے ایک دم درست فرمایا.." ہرایک نےحمایت میں لبیک کہنااپنا فریضہ جانا۔۔۔
"نہ کسی سے زیادہ لین دین کرتا تھا نہ کسی سے تکرار و بحث.." ایک ضعیف العمر کثیف سی چادر میں لپٹے شخص نے تبصرہ فرمایا..
"ہاں آپسی جھگڑوں کو سلجھانے والا تھا وہ تو.." دوسری جانب سے نہایت معین خیز انداز میں محبت آئی..
"کھانا سب کے ساتھ ہی تو مل جُل کر کھاتا تھا... مجھے تو اپنا بہت اچھا دوست کہتا اور مانتا تھا..میرے لئے تو بھائی کی سی نسبت رکھنے والا تھا" پھر دائرے نما اجلاس میں کسی نے اخلاص کو عین لوگوں کے جھرمٹ کے مابین پٹخا...
"میں بھی تم سے متفق ہوں..مجھے بھی بھائی جانتا تھا" یہاں مثبت صدگونہ مماثلت فرداً فرداً نظر آئی...
افسوس و فسوں کے درمیان تپتی پکتی بحث و تکرار میں افسوس کا سینگ بلند رہا...
"چونکے کریم کی کوئی بیوی یا اولاد نہ تھی.. ہاں اس کو کوڑے سے ایک بچی ملی تھی.. اس کی ایک بہن بھی تھی جو چھتی ہوئی گلی کے علاقے کو سنبھالتی ہے.."صدرِ اعظم نے ہاتھ میز پر مار کر سب کو متوجہ کیا..
"جس کو جانا تھا چلا گیا اب آگے بڑھتے ہیں.." صدر اعظم نے خاموشی کو توڑا..
"مگر بھولنا مشکل ہے.." حیات علی نے یارانہ گانھٹنےکی کوشش کی..
"میں نے سب کی آہ و پکار سوز و گداز سن لیا ہے۔۔۔۔مجھے اب بٹوارہ کرنا چاہئے باقی باتیں بعد میں.." صدرِ اعظم نے دانت نکوس کر تنبیہ کی..
حیات علی کھسیانی بلی کھمبانوچےجیسےمیز نوچنے لگا۔۔۔۔
"جی کرلیں.. کاش وہ نہ گیا ہوتا میں چلا گیا ہوتا.. بٹوارہ میرا ہورہا ہوتا..." اب کے پاس بیٹھے مسکین کاکا نے کوتاہ فہمی سے کہا...
"چلے ہی جائیں آپ بھی.." کسی کے منہ سے لنگڑا سا جواب نکلا.. مگر نہ جانے کس جانب سے.. سب ایک دوسرے کا منہ تاکنے لگے..
"کس کم ذات نے کہا یہ..خدا کا قہر پڑے اس پر" مسکین کاکا نے عقابی نظریں چاروں اور گھمائیں..
"تھم کے رہو, مسکین چھوڑو، میری طرف توجہ دو سارے لوگ.." صاحبِ محفل ان کے جنگلی پن سے بے لطف ہونے لگے..
"آفتاب دن میں آٹھ سو دکانوں میں مانگتا تھا.." سارے دن میں وہ پچیس سو سے تین ہزار کما لیتا تھا.. اب اس کے حصہ کا علاقہ میں تین لوگوں میں بانٹوں گا ان کا کام یہی ہے کہ وہ آدھے پیسے اس کی بچی کے حصہ سمجھ کر امانت کے طور پر اپنے پاس رکھیں گے اور شام کو اسے دے دیں گے....تم تینوں کو ہی بہت دکھ ہورہا ہے تو اس کے اس بوجھ کو تم تینوں پر ڈالاجائے گا" صدرِ اعظم نے اپنا دوٹوک مگر جاری فیصلہ سنا کر خاموشی اختیار کرلی جیسے وہ جواب کے منتظر ہوں..
"یہ نامنظور ہے.."
"یہ نہیں ہو سکتا مرے ہوئے کو بنا محنت کے کیسے پیسے ملیں.."
"ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں آپ نظرِثانی کریں.." اچانک سب کی بغاوت کی رگ پھڑک اٹھی..
"تین نام آپ تینوں کے ہیں..یونین کے صدر ہونے کے ناطے میں فیصلہ کرسکتا ہوں" صدرِاعظم نے سامنے بیٹھے ہوئے تین لوگوں کی جانب اشارہ کیا..
افسوس کے کوہسار توڑنے والے وہ تینوں اشخاص بپھر گئے...
"منظور نہیں منظور نہیں.." وہ اپنی اپنی نشستوں سے اٹھ گئے..
نشستیں خالی ہونے لگیں...اجلاس برخاست ہوگیا... یہ گداگروں کا آخری اجلاس تھا جس کے بعد ایک دوسرے کے علاقوں میں مداخلت پر سائلوں کے دنگے فساد، قتل و غارت بڑھ گئی.. یہ سب ایک دوسرے کو ہی کاٹ کاٹ کر مرگئے.. جو کل تک ایک دوسرے کےعلاقوں میں یونین کے حکم میں نہ گھستے تھے اب زر کی لالچ میں جانے لگے۔۔۔۔گداگروں کی وجہ سے سفید پوشی میں مرنے والوں کی تعداد میں کمی ہونے لگی حق اب حقدار کو ملنے لگا اور گداگروں کی برادری نابود ہوگئی..
🌟🌟🌟

Leave a Comment