Sawalaat-O-Jawabaat#15 | HaaDi Khan
سوال:
کہتے ہیں عزت کمانا بہت مشکل ہے لیکن اس سے بھی زیادہ مشکل عزت سنبھال کے رکھنا ۔اس چیز کو خود کے لئے کیسے آسان کیا جا سکتا ہے؟؟؟
جواب:
عزت اور ذلت باری تعالیٰ دیتا ہے اس پر کسی انسان کا بس نہیں چلتا۔۔۔
وہ عزت دے تو نورالدین زنگی کو نیند سے اٹھا کر حضور ﷺ کے ناموس کے دفاع کے لئے حجاز بھیج دیا جاتا ہے۔۔۔
اور جب وہ تاج ذلت دے تو نمرود (خدائی کا دعوا کرنے والا) سر میں خود جوتیاں کھاتا ہے سکون کے لئے۔۔۔
نوح علیہ سلام کی کشتی کو کیسے صاف کروایا تھا؟
بہترین نسخہ یہی ہے کہ خدمت کیجیئے جب آپ کسی شاہ سے ملیں تو شاہوں کی طرح ملیں کہ اسے یہ نہ لگے کہ آپ اس سے کم ہیں اور جب آپ ایک فقیر سے ملیں تو ایسے ملیں کہ اس کو یہ نہ لگے آپ اس سے افضل ہیں۔۔۔
سوال:
آج کل کے معاشرے میں اساتذہ کو والدین کا رتبہ صرف تب ہی حاصل ہوتا ہے جب وہ عمر رسیدہ ہوں یا ایک مخصوص عمر سے آگے بڑھ چکے ہوں. جب کہ اسلام نے استاد کا رتبہ باپ برابر بتایا ہے. کیا ایک شاگرد کو اپنے استاد سے محبت ہو سکتی ہے اور کیا یہ بات معاشرے کے لیے نقصان دہ نہیں؟
جواب:۔
معلم کو خداتعالیٰ نے باپ اور ماں کا درجہ اسی لئے دیا ہے کہ اس کے سامنے جو طالب علم ہوں اس معلم اور ان بچے/بچیوں میں ایک گیپ رہے۔۔۔
استاد کا ایک تقدس ہے اگر وہ اس طرح کرے گا تو ایک بری روایت قائم ہوگی۔۔۔
جب ایک رشتہ ہی اتنے بڑے منصب پر فائز ہے تو اسے ہرگز نہ پامال کیا جائے۔۔۔
استاد کو استاد رہنا چاہئے۔ اسے پڑھنے والوں کو بچہ سمجھ لینا اور اسی پر قائم رہتے ہوئے سارے معاملات کی نگرانی رکھنی چائیے۔۔۔
کوئی بچہ بچی اس طرف جانے لگے۔ جذبات میں بہنے کے بجائے اسے سمجھائے، استاد کا فرض بنتا ہے۔۔۔
حلال حرام کہوں گا نہیں کیونکہ نا محرم ہے نکاح تو ہو ہی جائے گا۔۔۔
میرے نزدیک یہ ایک ناپسندیدہ روایت ہے۔۔۔
معاشرے میں کافی سارے رشتوں سے اعتبار کا پردہ سرنگوں ہو جائے گا۔۔۔

Leave a Comment