Sawalaat-O-Jawabaat#16 | HaaDi Khan

سوال:
انسان جو سوچتا ہے وہ ہر دفعہ نہیں ہوتا مگر کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں؟

جواب:
 جدید سائنس کہتی ہے کہ انسان کے دماغ میں اتنی طاقت ہے کہ وہ اگر کسی شخص کو سترہ سیکنڈ سوچے تو اس سوچے جانے والے شخص کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرواسکتا ہے...
ایک طرح یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پوری یکسوئی سے سترہ سیکنڈز کسی کو سوچتے رہنے پر انسان کے دماغ سے کچھ سگنل نکل کر جاتے ہیں جو اس دماغ کے سگنل کو ڈھونڈتے ہیں اگر وہ مل جائیں تو دنیا کے کسی کونے سے بھی ان دو انسانوں میں کشش پیدا ہوجائے گی اور وہ مل جائیں گے..
دوسری جانب ہمارا مذہب بھی یہی ترغیب دیتا ہے..

===ترجمہ صحیح حدیث ===
حضرت عمرفاروق رضیﷲعنہ نے مسجد نبوی ﷺ میں منبر رُسولﷲﷺ پر فرمایا کہ میں نے رُسولﷲﷺ سے سنا:
"آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا. پس جس کی ہجرت ( ترک وطن ) دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے"-
[صحیح مسلم : باب- رُسولﷲﷺ پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی حدیث - 1]


سوال:
 انسانیت اور بندگی میں کیا فرق ہے؟

جواب:
انسانیت:
ایک انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اسے کچھ چیزیں ورثہ میں ملی ہوتی ہیں جیسے کہ سانس لینا , جمائی لینا ,چھینک مارنا اور سونا یہ انسان دنیا میں سیکھ کر آتا ہے کیونکہ یہ قدرتی ہے..
انسانیت کا تعلق بھی انسان سے قدرتی طور پر جڑا ہوا ہے جیسے انسان پانی کھڑا ہو کر پی رہا ہے.. انسانیت ہے اس لیے وہ پانی کو بھر کر ہاتھ سے اٹھا کر پی رہا ہے جانوروں کی طرح نہیں پی رہا.. بیٹھ کر پانی پینا, یہ مذہب ہے۔ بعد کی بات ہے...
انسان کے اعمال کو انسانیت کہتے ہیں جو انسان کو جانوروں سے الگ کرتے ہیں...
مشہورِ زمانہ واقعہ ہے ایک بڑھیا سامان باندھے جانے لگی تھی مکہ چھوڑ کر تو حضور ﷺ نے اس کا سامان سر پر لادا اور ساتھ چل پڑے...
سارا راستہ وہ عورت نبی پاک ﷺ کو برا بھلا کہتی رہی اس بات سے غافل کہ میں جس کی برائی کر رہی ہوں وہی میرا وزن سر پر اٹھائے ہوئے ہے...
اور آخر میں یہ جاننے کے بعد کہ وہ شخص حضور پاک ہیں اسلام لے آئی..
یہاں بھی مذہب سے پہلے انسانیت کو فروغ دیا گیا...
انسانیت انسان کے احساس کو بھی کہتے ہیں وہ جذبے جو باقی مخلوق کو نہ دیئے گئے جیسے کہ کسی جانور کے مرنے پر بھی دل کا اداس رہنا...
کسی کے ساتھ ناانصافی ہونے پر دکھ ہونا بھی زندہ دل ہونے کی نشانی ہے جس میں انسانیت ہے اس کا دل بھی گویا زندہ ہے..
انسانیت میں کوئی بندش نہیں ہوتی یہ مذہب سے پہلے کسی کی چلتی سانس کو دیکھ کر اس کی ضرورت کا سوچتی ہے..
بندگی:
 اس سے مراد ہے کسی کی غلامی، نوکری، تسلیم...
اسی لفظ کو زیادہ تر مذہب میں استعمال کیا جاتا ہے لفظ سے ہی ظاہر ہے بندگی بندش کسی شریعت کے، کسی ہستی کے بنائے ایک آئین کے تحت اور اس دائرے کا اسیر بن کر رہنا...

کسی حد، لکیر کو پار نہ کرنا، اس کے اندر رہنا..

No comments

Powered by Blogger.