Sawalaat-O-Jawabaat#17 | HaaDi Khan
سوال:
کیا ہم رب کے لیے یا رسول ﷺ کے لیے عشق کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں؟؟
جواب :
جی کیوں نہیں جب ہم عشق کا لفظ کہتے ہیں تو اس کا مطلب نہیں کہ ہم رسالت مآبﷺ کو معشوق کہہ رہے ہوتے ہیں بلکہ یہ اصطلاحاً کہتے ہیں ۔
فرزندانِ توحید کہتے ہیں تو کیا ہم اللہ کے بیٹے ہیں؟ ہرگز نہیں.. اس پر کوئی پکڑ نہیں...
اکثر یہ سنتے ہیں کہ تیس لاکھ فرزندانِ توحید نے حج ادا کیا تو کیا اس کا ہم غلط مطلب لیں؟
یہ ہر ایک کا تاجدارِ حرم ﷺ سے محبت والی ہی نیت ہے اب کسی نے عاشق رسول سنا.. اس کے اپنے دماغ میں بھی وہ عشق معشوق والا مطلب نہیں آئے گا.. اس لئے جو کام خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ چھوڑیں ہیں وہ انسان اپنے ہاتھ میں لے کر سزا جزا فتویٰ سے گریز کریں...
ہمارا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم اپنی بنائی شریعت کسی پر بھی لگادیتے ہیں حالانکہ وہ ہم پر خود لاگو نہیں ہوتی...
رب سے عشق اتنا عام نہیں ہے چونکہ اس سے محبت انسانوں سے محبت ہے...
یہ کہتے اور سنتے عجیب لگے گا مگر مسئلہ نہیں ہر انسان کی محبت کا اپنا اپنا قرینہ اور طریقہ ہوتا ہے..
سوال:
سکون ضروری ہے یا خوشی. اور اگر کسی کی سکون کی خاطر اپنی خوشی قربان کرنی پڑے تو کیا کردینی چاہیے.
جواب:
سکون اور خوشی کا یوں ہی تعلق ہے جیسے جسم سے جان کا۔۔۔
سکون میسر ہوگا جب ہی خوشی ملے گی۔۔۔
جب انسان بے سکون ہوگا تو اس کی خوشیاں بخار میں منہ کے کڑوے ذائقے کی مانند ہوجائیں گی اس کو چینی بھی بے سواد لگے گی۔۔۔
میرے خیال میں کسی کو سکون آپ میسر کر دیں تو اس سے بڑا صدقہ کیا ہوگا۔۔۔
سکون کے جتنے لمحے وہ سانس لے اس راحت کا اجر آپ کو پہنچے گا ۔۔۔
آپ ایثار کرکے اپنی نیکی لکھوا دیں ۔۔۔
دونوں طرف اجر آئے گا اور اس سے دائیں ہاتھ والے فرشتے کا کام بڑھ جائے گا۔۔۔

Leave a Comment