Sawalaat-O-Jawabaat#18 | HaaDi Khan
سوال:
قیامت والے دن میں نے سنا ہے کہ ماں باپ اولاد کے پاس یا اولاد ماں باپ کے پاس ایک نیکی لینے جاۓ کہ مجھے اپنی ایک نیکی دے دو تو وہ دینے سے انکار کر دینگے. ایسا کیوں ؟؟
جواب:
اس دن کو قیامت اس لئے ہی کہا گیا ہے.. اس دن ان کے شعور کو ایک بہترین دھچکا لگے گامم جیسے ہی ان پر اللہ تعالیٰ کا اصل روپ آشکار ہوگا وہ سب اپنی اپنی جان کی بخشش کروائیں گے..
جب حساب کے استاد کتاب چیک کرنے لگتے تھے تو تب ۴ سال پرانی دوستیاں بھی اپنی کتاب دوست سے واپس لے کر ختم کردیتے تھے کیونکہ اس وقت صرف ۳ فٹ کا مولا جٹ نظر آرہا ہوتا تھا...
ویسے ہی جب ایک نظر پر منظر سارا جہنم کا ہو تو اس وقت ہر کوئی اپنا سوچے گا...
سوال:
اذیت کب ختم ہوتی ہے؟؟؟اذیت ختم ہونے کے باوجود اس کی تکلیف کیوں نہیں ختم ہوتی؟؟کسی سےشیئر کرکے تکلیف کیوں زیادہ ہو جاتی ہے؟
جواب:
اذیت انسان کی سعی سے ہی ختم ہوتی ہے.. جب انسان ذہنی طور پر مضبوط ہو جائے اور اذیت کو با زور بازو پچھاڑ دے..
ہم درخت کو کاٹ کر سمجھتے ہیں کہ وہ ختم ہو چکا ہے مگر اس کی جڑیں ابھی زیر زمیں باقی ہوتی ہیں.. اسی لئے ان جڑوں کو جب نمی ملتی ہے وہ پھر سے سر اٹھاتے ہیں اور بڑھوتری کرتے ہیں..
اسی طرح ہم اذیت کو پوری طرح ختم نہیں کرتے وہ تازہ تازہ مرہم جب بھی پانی کی زد میں آتا ہے تکلیف دیتا ہے... بس اس کا ظاہر ختم کرکے مطمئن ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ دوبارہ ہمیں اسی کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے...
میرے خیال میں زیادہ ہرگز نہیں ہوتی مگر اگر آپ کسی غلط انسان کو بتا رہے ہیں اور بدلے میں ہمدردی کی توقع کر رہے ہیں... جب وہ آپ کی توقع پر ہوا نہ اتررہا ہو تو آپ کی تکلیف بڑھ جاتی ہے.. ایک شخص اسے محسوس ہی نہیں کر رہا نہ اس کرب سے گزرا تو وہ کیسے آپ کی تکلیف کا مداوا کرے..

Leave a Comment