Sawalaat-O-Jawabaat#19 | HaaDi Khan

سوال:
 انسان اپنی بےگناہی کا ثبوت کیسے دے سکتا ہے. وہ اپنی بات اگلے بندے کو کیسے سمجھا سکتا ہے.
جواب:
ہم میں سے بہت سے لوگ ہیں جو ہر کسی کو چودھری بنا کر خود کو اس کا جواب دہ سمجھ لیتے ہیں..
اگر ایک انسان کو یقین ہی نہیں آپ کی ذات پر تو آپ ثبوت کیوں دے رہے ہیں... اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ آپ کی ذات کو ناقابلِ اعتبار سمجھتے ہیں مطلب ایک جانب اعتبار ہی نہیں تو دوسری جانب سے ثبوت والا تردد کیونکر کیا جائے..
اگر ایک انسان بے گناہ ہے تو اسے ثبوت دینے کی کوئی ضرورت نہیں جب اس کا قلب مطمئن ہے تو کسی اور کو مطمئن کرنے کیا ضرورت..
حقیقت نہیں چھپتی کبھی بھی نہیں..
حضرت یوسف نے اطمینان سے اپنی قید کاٹی قدرت نے ان کی بے گناہی کے بدلے انھیں عزت سے نوازہ...
کسی کو بات سمجھانے کے لیے اسی کی زبان میں بات کریں...
ماہرین کہتے ہیں کسی سے بات منوانی ہو تو یہ نہیں کہو یہ کام کر کے آپ کا کتنا فائدہ ہے بلکہ اسے اس کے مطلب سے آگاہی دو وہ دلچسپی لے کر آپ کی بات کو تسلیم کرے گا...
باقی اللہ سبحان تعالیٰ کو جان دینی ہے ہر فرد اپنی قبر میں جائے گا اپنا حساب دینے کے لئے تب بھی اسے خود اپنی بے گناہی کا ثبوت نہیں دینا ہوگا کیونکہ تب سب اجزاء خود بولیں گے..
بے گناہی کا سب سے بڑا ثبوت سچے آنسو ہیں اگر وہ سچے ہوں تو سامنے والے پر غیر معمولی اثر چھوڑ جاتے ہیں...
سوال:
 انسان اگر ہر جگہ سے مایوس ہوچکا ہو اور اسے زندگی کسی قیمت پر چاہیے ہی نہ ہو تو وہ کیا کرے.
جواب:
 اگر آپ جائزہ لیں اس دنیا میں آپ کا ایک نہ ایک مخلص ضرور ہوگا...
ماں ،باپ , بہن , بھائی , دوست کوئی بھی.. سب سے بڑا مرتبہ ماں کا ہے اگر ان سے آپ کی قسمت لکھنے کا کہا جاتا تو یقیناً وہ سب سے بہتر آپ کی قسمت میں لکھ دیتیں...
وہ آپ کا برا سوچ کر ہرگز نہ لکھتیں..
مگر وہ بھی اتنا آپ کو نہیں جانتی جتنا شہ رگ سے قریب وہ اللہ جانتا ہے...
تو جب ایک ماں بچے کے لئے برا نہیں لکھ سکتی تو وہ ۷۰ ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا اللہ ہے...
جب ہم دنیا میں دنیاداروں سے امید باندھیں گے تو بری طرح چاروں شانے چت ہو جائیں گے..
مایوسی تو گناہ ہے یہ اللہ کو ناپسند ہے جب اس نے خود کو انسان کے لئے لمحہ بہ لمحہ میسر کر رکھا ہے تو ہم کون ہیں یہ جملہ کہنے والے ہمارا تو کوئی سہارا نہیں..
مایوس ہونا اس کی ذات کی نفی کرنا ہے... جب اس نے ہمیں تھام لینے کا وعدہ کیا ہے ہم کیونکر کہیں کہ ہماری سننے والا کوئی نہیں...
ترجمہ: (یہ لوگ تمہارے خیر خواہ نہیں)بلکہ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہے ،اور وہ بہترین مددگار ہے.
(آلِ عمران۱۵۰)

No comments

Powered by Blogger.