Sawalaat-O-Jawabaat#20 | HaaDi Khan
سوال:
کمپرومائز کی آخری حد کیا ہوتی ہے؟
جواب:
انسان کا اندرونی حصہ بھی جہاںِ فانی کی مانند ہوتا ہے. جس میں احساسات کے موسم آتے جاتے ہیں. کبھی خوشی کا موسم اور کبھی غم کا.. لیکن اگر یہ احساسات کے موسم آنا یکسر رُک جائیں تو.. اگر کسی کام سے انسان کو خوشی نا ہورہی ہو یا اُسے اس کام کے کرنے سے دکھ ہورہا لیکن وہ مجبوراً وہ کام کررہا ہو تو یہ کمپرومائز ہے..
انسان کسی کے تلخ رویے کو جھیلے جب کہ وہ نازوں پلا ہوا ہو, انسان کسی سے بات نہ کرنا چاہتا ہو مگر پھر بھی اسے کسی وعدے کا پاس رکھنے کی خاطر بات کرنی پڑے تو یہ کمپرومائز ہے.
جب انسان کمپرومائز کرتا ہے تو وہ اپنی خوشی اپنے سکون کا قتل کرتا ہے.. اور جب دل اپنی خوشی کے مسلسل قتل کئیے جانے پر خون آلودہ ہوجائے.. دل کے سبھی موسم مرنے لگیں اور وہاں صرف خاموشی کا بسیرا ہوجائے تو اسے کمپرومائز کی آخری حد کہہ سکتے ہیں. جب انسان تھم جائے. دل کے موسم بدلنے بند ہوجائیں تو وہی کمپرومائز کی آخری حد ہے.
سوال:
کبھی کبھی ہم کسی انسان یا جگہ کو دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے پہلے بھی یہ سب دیکھا ہوا ہے. ایسا کیوں ہوتا ہے؟
جواب:
خیال کیا جاتا ہے کہ جب انسان سوجاتا ہے تو اس کی روح اس کے جسم سے نکل کر چہل قدمی کرتی ہے. جو ہم خواب میں دیکھتے ہیں وہ دراصل ہماری روحانی زندگی ہوتی ہے. جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو وہ سب ہمارے لاشعور میں کہیں محفوظ ہوجاتا ہے. اور جب ہمارا وجود وہاں کبھی پہنچتا ہے تو وہ خیال لاشعور سے شعور میں آجاتا ہے. جس کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم یہاں پہلے بھی آچکے ہیں. کسی جنس سے انسیت دراصل ہمارے دماغ سے خارج ہونے والی فریکوینسی کی مماثلت کے سبب ہوتی ہے.. بیشک ہم اس شخص سے پہلے نا ملیں ہوں لیکن ہمارے دماغ کی فریکوینسی مل چکی ہوتی ہے.

Leave a Comment