Sawalaat-O-Jawabaat#22 | HaaDi Khan
سوال:
سچ اور جھوٹ کا مفہوم اور فرق؟
جواب:
ایک حدیث ہے.
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:
"بلاشبہ سچ ،آدمی کو نیکی کی جانب بلاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے کر جاتی ہے.. ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے..."
(صحیح بخاری جلدنمبر ۸ کتاب الادب، باب نمبر 69، حدیث نمبر6094)
آقاﷺ نے دونوں پہلو سمجھا دیئے ہیں..
میرے نزدیک اگر ایک شخص صادق ہے وہ مذاق پسند نہیں کرے گا اور جس کا عام ہمارے جیسے بال بال جھوٹ میں ڈوبا ہو وہ مذاق پسند کرے گا..
ہمارا مذاق عموماً جھوٹ پر منبی ہوتا ہے..
اسی سے آپ کسی شخص کو پرکھ سکتے ہیں کہ وہ کس مزاج کا ہے..
سوال:
چاہے انسان کتنا بھی مضبوط کیں نہ ہو لیکن دوسروں کی باتیں اسے بری لگتی ہیں. اور کبھی کبھی لوگ اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ آنکھوں میں آنسو آجائیں. کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم اتنے بےنیاز بن جائیں کہ ہم کو کسی کی سخت سے سخت بات بری نہ لگے؟ لیکن ایسے تو ہم پتھر دل بن جائیں گے نا؟
جواب:
آپ نے عورت کا روپ دیکھا ہوگا کبھی ساس سسر، شوہر ، بھائی، اور پھراولاد کتنے ہی لوگ دکھ دیتے ہیں.. خصوصی طور پر اولاد میں بیٹا جب لڑکپن میں ماں سے بدتمیزی کرتا ہے وہ ٹال دیتی ہے.. درگزر کرتی کیونکہ اس کا دل نرم ہوچکا ہوتا ہے..
دیکھیں آپ نے کبھی کوئی پرندہ پالا ہے؟
آپ دیکھیں جب ہم کسی طوطے چڑیا یا چوزے کو پالتے ہیں تو آپ بھی ماں جیسے ان کا خیال رکھتے ہیں اسی فکر سے ہم میں نرمی کا عنصر بڑھنے لگتا ہے جب وہ چوزہ ہمیں چونچ مارتا ہے تو ہمیں برا تو لگتا ہے مگر ہم اسے کچھ نہیں کہتے یوں ہی انسان کے دل میں نرم اور صبر پیدا ہونےلگتا ہے...
میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ پہلے اپنے دل کو نرم کریں کوئی بھی پالتو پرندہ جانور یا پودا ہی لگا لیں اور نتیجہ وقت کے ساتھ ساتھ دیکھیں.

Leave a Comment