Sawalaat-O-Jawabaat#23 | HaaDi Khan

سوال:
 انسان کی کیفیت ہر وقت بدلتی رہتی ہے. کبھی چھوٹی سی بات بھی برداشت نہیں ہوتی اور کبھی بڑی سے بڑی بات پر بھی صبر آجاتا ہے. ایسا کیوں؟
جواب:
 اگر ایک وقت میں ہمارے ہوش و حواس مکمل طور پر مطمئن ہوں اور ہمیں باقائدہ میسر ہوں تو اس وقت ہم کسی بھی بڑی بات کو پی سکتے ہیں.. لیکن اگر ہمارے ذہن و گمان میں کوئی اور بات انتشار پھیلائے ہوئے ہو تو ہم پہلے ہی ایک مصیبت میں مبتلا ہیں تو ہمیں کسی کا اونچا کھانسنا بھی سر میں ہتھوڑے کی مانند لگے گا...
مثال کے طور پر آپ معمول کے حساب سے بلند آواز میں گانے سننے کے قائل ہیں لیکن اگر آپ کے سر میں درد ہو تو واجبی سی آواز بھی آپ کے لئے کوفت کا باعث بنے گی اسی طرح بڑی بات پی جانے میں اور چھوٹی بات پر ہنگامہ کھڑا کرنے میں فرق صرف اور صرف انسان کے ذہنی سکون و انتشار پر مبنی کرتا ہے...
سوال:
 زندگی اور موت کا مفہوم بیان کریں؟
جواب : 
موت:
 جس کا مطلب ہے انتقال کرنا...اس جہاں سے اگلے جہاں کی جانب منتقل ہوجانا.. حالتِ نزاع میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں ایک وہ جو بری روح ہو جس کو جسم سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے اور اس کے روم روم اور لہو لہو سے کھینچ کر نکلتی ہے جان... احادیث میں ہے کہ ایسے شخص کی روح چار فرشتے مار مار کر نکالتے ہیں.. اور ایک اچھی روح جو بالکل بھی تکلیف سے آشنا ہوئے بنا ہی پرواز کر لیتی ہے... موت دراصل اس دنیا میں دی گئی مہلت کا اختتامیہ ہے...
زندگی : 
ابویحیٰ نے بڑا اچھا ناول لکھا ہے "جب زندگی شروع ہوگی". وہ ناول پڑھ لیں وہ اس کے بارے میں ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد جو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں "دوبارہ زندہ ہونا ہے." ان کے لئے ایک سبق آموز تحریر ہے.. قرآن و سنت اور کچھ افسانوی کلاکاری سے ایک خوبصورت طرح زندگی کو بیان کیا گیا ہے...
زندگی تو ابدی زندگی والی ہوگی جو جاویداں ہے.

No comments

Powered by Blogger.