Sawalaat-O-Jawabaat#24| HaaDi Khan

سوال:
 جب کوئی کسی کے مخلص رشتوں کو دور کر دے کسی سے اس کے اپنے دور کروا دے اور پھر وہ جب بے چین ہو وہ اپنا کیا اس لئے نہیں سمجھتے کیونکہ لوگ بے حس ہیں؟
جواب:
 انسان ہمیشہ جتنا بھی مخلص ہو وہ پھر بھی خود غرض ہوتا ہے..
اگر وہ کسی سے اس کے مخلص رشتے چھین رہا ہو تو وہ اس سے مزید کی توقع کرے گا...
کیونکہ ہم جو بھی کچھ کر لیں کسی سے ۱۰ سال بھی اپنائیت کا احساس دلانے کے لئے سرتوڑ محنت کر لیں اپنے برے کو بھی اس کا اچھا جان کر مان لیں لیکن ایک زرا سی رنجش سے سب کچھ برباد ہو جائے گا..
سوال:
 اداسی کیا ہوتی ہے اس سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے؟
جواب:
 جب کوئی فعل، کوئی بات ایک انسان کی سوچ کے خلاف ہو یا کوئی تعلق تکلیف دے اور انسان اس عمل کو اپنے اندر بٹھا لے تو اسے اداسی کہتے ہیں.
جب انسان کے اندر کوئی رنجش، رنج و الم یا دکھ کوئی بات بیٹھ جائے تو انسان اداس ہوجاتا ہے..
سب سے پہلے اداسی کو مانیں کہ مجھ پر یہ مسلط ہو چکی ہے...
دوسری بات اس کی وجہ تلاشیں اور پھر حل نکالیں..
کیونکہ انسان کی سوچ ہی اسے مضبوط بناتی ہے..
اگرکوئی نقصان ہو تو یہ کہنا کہ میں مرگیا تو آدھی موت ہم نے خود ہی خود کو دے دی. اداسی آدھی موت ہی ہے کیونکہ انسان اس کی وجہ سے پژ مردہ ہو جاتا ہے..
اس کے بجائے ہم کہیں مجھے چوٹ لگی ہے...
چوٹ پر مرہم رکھا جا سکتا ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے مگر دماغی طور پر خود پر اذیت مسلط کرنا، خود کو پژمردہ کرنا،یہ اداسی ختم کرنے کا حل نہیں...
اپنی اداسی کو جانیں، مانیں، حل تلاشیں اپنے خیالات سے آگاہ رہیں، سب اچھا ہوگا...

No comments

Powered by Blogger.