Sawalaat-O-Jawabaat#25 | HaaDi Khan
سوال:
جب آپ کو معلوم ہو کہ آپ کو صرف اور صرف صبر کرنا ہے لیکن پھر بھی آپ کا خوف بڑھتا چلا جائے۔ جب وقت نہ گزرنے کے برابر گزرے اور آپ کو ہر مسئلے کا حل وقت کے پاس ہی ہو لیکن آپ کو سمجھ نہیں آئے آپ کیا کرو اور آپ تنہا ہون۔ آپ کو صبر کرنا ہو لیکن آپ نہیں کرسکو۔ تو کیا کرنا چاہیئے ؟
جواب:
انسان اور خدا کے کچھ تقاضے ہیں جیسے کہ انسان جب غم اور پریشانی کی حالت میں ہو تو وہ خدا اور انسان کے فیصلوں کے مابین سفر کر رہا ہوتا ہے۔۔۔اگر وہ انسان کو راستہ چنے گا تو برباد ہوگا خدا کو راستہ چنے گا تو اسے صبر عطا کیا جائے گا۔۔۔
جب راستہ خدا کا ہو انعام صبر ہو تو ڈر نہیں رہتا آزمالیں بے شک یہ کہنے کی بات ہے کہ صبر پر خوف بڑھتا ہے۔۔۔
سر کٹ جاتا ہے امام حسین علیہ سلام کا صبر پر مگر خوف نہیں گھروالوں کاکم تعداد کا ،جان کا اور نہ ہی انجام کاصبر بے خوف ہے یہ آپ پہلے نہ کہیں صبر کرکے دیکھیں۔۔۔
دوسری بات دنیا کے تمام انسان جو عظیم ہیں رسالت مآبﷺ سے لے کرتمام خود شناس لوگ جنہوں نے اپنی خودی کو پہچان لیا ہو وہ سب صبر پر رہے آپ پہلے خودی کو پہچانیں اپنے آپ کو اپنے ساتھ ملاقات کریں ۔۔۔خود کی چان بین کریں خود کی تفتیش کریں خامشی آپنائیں ۔۔۔کم نپا تلا ہوا بولیں صبر آپ کے اسم میں اتر جائے گا۔۔۔
جب وقت رکے تو فقیر درویش صوفی لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں یقین مانیں خاموشی اور صبر کا مظہر ہوتے ہیں ایسے لوگ۔۔۔
جب صبر کونا ہو اور نہ کرسکتے ہوں تو پودا لگائیں اس کی دیکھ بھال کریں کوئی پرندہ پالتو جانور رکھیں جب ایک ماں بن کر کسی شے کی پرورش کریں گی صبر آجائے گا۔۔۔
خدا نے ماں کی صفت کی مماثلت کرتے ہوئے ہی کیوں کہا میں ۷۰ ماں ؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہوں ۔۔۔
ماں بھی اولاد کو برداشت کرتی ہے معاف کرتی ہے رب بھی تو ہمیں برداشت کرتا ہے ہماری غلطیاں ہمارے گناہ نافرمانیاں جب وہ رب اس خود کو صفت کی تشبیہ دے رہا ہے تو ہم انسان بھی اسی کو اپنائیں جب ہی صبر کرنا آئے گا۔۔۔
ماں کا ظاہر دراصل میں صبر کا پیکر ہوتا ہے ۔۔۔
سوال:
جن لوگوں کو حاصل ہی نہ کیا ہو انہیں کھودو تو اتنی اذیت کیوں ملتی ہے؟
جواب:
جیسے ہم کرکٹ کھیلتے ہیں جب ہم فیلڈنگ کرتے ہیں بالنگ کر کے گھنٹہ بھر کو دھوپ میں خوار ہو کر بیٹنگ پر آئیں آتے ہی ہم آؤٹ ہو جائیں تو برا اسی لئے لگتا ہے کہ ہم جس کام کے لئے اتنا تردد کررہے تھے ہمیں وہ حاصل نہ ہوا تب انسان کو دکھ ہوتا ہے.. مگر اگر آپ ایک کرکٹ پلیئر ہیں آپ نے صرف فیلڈنگ کی اور بیٹنگ نہ بالنگ آئے مگر آپ کی ٹیم جیت گئی تو آپ اپنی باری نہ آنے کا گلہ نہیں کریں گے بلکہ جیت کو منائیں گے کیونکہ آپ نے کھیل کو کھیل سمجھ کر کھیلا..
جب ہم ایسے ہی کبھی کسی انسان کو کسی تجارت کے تحت اپنانا چاہیں اس سے دوستی کرکے ساری عمر ساتھ رہنے کا دعویٰ کریں گے تو جب وہ تعلق ختم ہوگا تو آپ کو اذیت ہوگی ہی لازمی بات ہے آپ نے غلط جگہ پر اپنے جذبے صرف کیئے یہی ایک بیوی اپنے شوہر کے ساتھ امید رکھے تو یہ متوقع ہے وہ پورا ہوگا..
اپنے جذبے مناسب جگہ پر صرف کریں گے تو ہی اپنے لئے خوشیاں پائیں گے مگر اگر ان کو غلط جگہ استعمال کریں گے تو اذیت اٹھانی پڑے گی..

Leave a Comment