Sawalaat-O-Jawabaat#27 | HaaDi Khan

سوال:
ابھی ایک تحریر پڑھی اس میں لکھا تھا کہ سکون اپنے اندر ہی ہوتا تو سکون تلاش کرو خود میں!! لیکن کیسے؟ آپ کی نظر میں سکون کیا ہے؟
جواب:
اطمینان کو , قرار کو , سکون کہتے ہیں. کسی نے اپنا سکون پیسے میں ڈھونڈ لیا. کسی نے سکون کی تلاش میں زندگی کو ختم کردیا کہ سکون سے ابدی نیند سوجائے. محاوراً تو یہ باتیں بجا ہیں مگر اصل سکون مادہ پرستی , دھن دولت یا خود کی تسکین نہیں. اپنے اچھے لگنے کے لیے کوئی لوگوں کو تنگ کرے یہ دائمی حل نہیں. انسان کی سعی کی کرامت ہے کہ اس نے فکر و سوچ کر کے سجدہ پالیا. خدا کا قانون اگر دیکھیں تو وہ ہمیں خدمت پر آمادہ کرتا ہے. والدین کی ' اساتذہ کی ' معاشرے کی. اس لیے میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آپ کہیں فقیر کی ' درویش کی ' صاحبِ حاجت کی حاجت کو پورا کریں ان کے ساتھ احسن معاملات کریں تو سکون آپ کی روح کو محسوس ہوگا.اپنے اردگرد دیکھیں بہت سے لوگ ہیں جن کو صرف کوئی بیٹھ کر سننے والا نہیں.. آج کل کے زمانے میں بچوں کی موبائل کی مصروفیات نے والدین کو ذہنی مریض بنا دیا ہے. اپنے وقت میں سے صرف کچھ وقت عمر رسیدہ نظر انداز لوگوں کو دیں پھر اپنی تہجد کی نماز پر ملے سکون کا اس سکون سے موازنہ کریں فیصلہ آپ کے سامنے ہوگا.تقریباً اٹھارا ہزار مخلوقات میں سے انسانوں کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے. مگر تمام مخلوقات ہم سے ڈری ہوئی ہیں. اگر ہم اپنی ہم مخلوق , ہم زبان کو ہی مسکرانا سیکھا دیں تو شاید اسے راضی کرسکیں. بے شک سکون خدا کی مخلوق کی خدمت میں ہے.
سوال:
مقابلہ آرائی کی حد کیا ہو؟ مطلب آج کے دور میں کومپٹیشن کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟
جواب:
 مقابلہ اصل اگر ہوتا تو ہم مسلمانوں میں تقویٰ میں ہونا چاہئے تھا کہ ہم کسی سے حسنِ سلوک کریں آخرت کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر نیکی کمائیں مگر افسوس کے ساتھ ہم دنیا کی مال و زر میں عشرت کا عنصر ڈھونڈنے لگے ہیں..
مقابلہ جب ہی آیا ہم نے اپنے آپ کا دوسروں سے موازنہ کرنا شروع کردیا ہے...
لائق بچہ نجی اسکولوں میں نالائق بچہ گاڑیوں کی دکان پر یا مدرسہ میں..
پھر بچے کو معلوم پڑتا ہے کہ یہ ایک جنگ ہے جس میں مجھے دوسرے بچے سے زیادہ نمبر حاصل کرنے ہیں...
بڑھوتری میں ساتھ چلنے پھرنے والوں سے بہتر کپڑے ماں اسی لئے پہناتی ہے کہ فلاں کے بچوں سے زیادہ مہنگا کپڑے پہن کر میرا بچہ منفرد لگے..
پھر نوکری تو باپ اٹھارا گریڈ کا افسر ہے بیٹا اس سے اوپر کا افسر بنے..
مقابلہ ہمارے ملک کے کونے کونے میں ہے.. روٹی کے لئے یا چھت کے لئے... 
یہ سب ماں کا کردار ہے. 
ایدھی صاحب کہتے ہیں :
"مجھے میری ماں دو آنے دیتی تھیں ایک میرے لئے ایک کسی اور پر خرچ کرنے کے لئیے."
یہاں پھر اسی دیش میں ایک ایسا بھی انسان پروان چڑھا جس کی ماں پر فخر ہوتا ہے...
مقابلہ مریض لوگ کرتے ہیں.
آپ کو اشرف المخلوقات بنا دیا گیا ہے اب اس سے افضل کیا بننے کا من ہے خدا تو بن نہیں سکتے مرنا لازم و ملزوم ہے...
مقابلہ انسان میں اس لئے بڑھ گیا ہے کیونکہ خوفِ خدا اور توکل باری تعالیٰ کم ہوتا جارہا ہے.. اس نے سیاہ رات میں سیاہ پتھر پر سیاہ نظر آنے والے کیڑے کو بھی اس کے نصیب کا دینا ہے... ہمارے تو وہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے...
جب ہی خدا نے رزق اپنے اختیار میں لیا ہے وگرنہ ہم سب کتوں کی مانند چھینا چھپٹی کرتے اگرچہ اب بھی کر رہے ہیں جسے اس سیاہ معاشرے نے مقابلے کا نام دے دیا ہے.

No comments

Powered by Blogger.