Sawalaat-O-Jawabaat#28 | HaaDi Khan

سوال:
 اگر آپ کو پتا ہو کہ سامنے والے نے آپکے متعلق وہ بات کی ہے جو آپ نے نہیں کہی۔ وہ بات آپ سے منسوب کردی ہے، عمر میں وہ آپ سے بڑی ہے لیکن کام تو غلط کیا ہے کیا ان سے تعلق استوار رکھنا چاہیے یا ان سے محتاط رہنا چاہیے؟؟
جواب:
اول تو بہتان لگانا ہی گناہ ہے. کسی کے بارے میں خود سے کوئی بات گھڑ دینا نہایت ہی کم ظرفی کی علامت ہے.. اور یہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کو محفل میں اپنے لئے تالیاں بجوانے کا شوق ہوتا ہے.. مداری کی کیا زندگی ہے چار تالیاں بجتی ہیں جس بندر کو وہ نچواتا ہے اسی کو سر چڑھانا پڑھتا ہے.. دوسری بات اگر تہمت ہے تو اس بارے میں رسالتِ مآبﷺ نے فرمایا : 
"پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا سو برس کی عبادت کو ضائع کردیتا ہے.." (مجمع الزوائد ۲۷۹/۶)
یہ حدیث بہت جگہوں پر بہت سی باتیں سمجھنے میں آسانی فرماتی ہے..
سوال کے دوسرے حصے کا جواب ایک اور حدیث سے : 
"مومن ایک بل (سوراخ) سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا (یعنی ایک ہی غلطی دو مرتبہ نہیں کرتا)." (۷۴ صحیح مسلم)
سوال:
 خود پسندی کی وضاحت بمعہ مثال کردیں؟
جواب:
 خود پسندی کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی مقام و مرتبہ یا کسی عہدے یا خاصیت کو خدا تعالیٰ کی دین نہ سمجھنا بلکہ اپنی سعی و کاوش کا صلہ سمجھنے لگ جانا ہے.. آسان الفاظ میں تکبر آجانا.. کوئی اچھا لکھاری ہے تو وہ بھی محتاج ہے مزید الفاظ کو جوڑنے کے لئے.. یہ سب خدا کی دین ہیں.. اگر کوئی لکھاری لکھتے لکھتے اپنے دل میں رتی برابر بھی تکبر لے آئے گا اس کے قلم کو بند کرکے اسے اس کی اوقات یاد دلا دی جاتی ہے..
خود پسندی ایک شروعات ہے جب انسان کو اپنے کام کی تعریف پسند آنے لگے وہ لوگوں کی واہ واہ سننے کا قائل ہو جائے تو اپنے ہر عمل میں وہ ریاکاری لے آئے گا... اگر اس کی کامیابی کو پھر اگر آپ اللہ کی دین کہیں گے اسے وہ بھی ناگوار گزرے گا..
خود پسندی نے ابلیس کو بھی اسی "میں میں" مبتلا کر دیا تھا..
ایک جگہ خدا تعالیٰ نے قرآن میں بھی اسی بات کا حکم دیا ہے : 
"اور ازراہ (غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا.. کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا.." 
(سورہ لقمان آیت نمبر ۱۸)
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ( یمن کے ) نجران کی بنی ہوئی موٹے حاشیے کی ایک چادر تھی. اتنے میں ایک دیہاتی آگیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑ کر اتنی زور سے کھینچا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھے پر دیکھا کہ اس کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے نشان پڑ گیا تھا. پھر اس نے کہا: "اے محمد! مجھے اس مال میں سے دیئے جانے کا حکم کیجئے جو اللہ کا مال آپ کے پاس ہے." نبی کریم 
صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرائے اور آپ نے اسے دیئے جانے کا حکم فرمایا. 
صحیح بخاری شریف
کتاب لباس کے بیان میں
حدیث نمبر ۵۸۰۹
حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ سے روایت ہے ، دونون نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "عزت اللہ عزوجل کا تہبند ہے اور کبریائی اس ( کے کندھوں ) کی چادر ہے. جو شخص ان ( صفات ) کے معاملے میں میرے مد مقابل میں آئے گا ، میں اسے عذاب دوں گا."
صحیح مسلم
کتاب: حسن سلوک‘صلہ رحمی اور ادب
حدیث نمبر ۶۶۸۰

No comments

Powered by Blogger.