Column#10 | Tarjeeh Bila Marjaj | HaaDi Khan


ترجیح بلا مرجج
ازقلم ہادی خان 
آج میں اگر لکھنے بیٹھا ہوں تو اس کے پیچھے میرا چھ ماہ کا مشاہدہ ہے۔۔۔۔ تقریباً ہر روز میرا گزر سبزی منڈی سے ہوتا ہے۔۔۔۔ وہاں تمام کے تمام ٹھیلے والے افغانی مہاجر ہوتے ہیں۔۔۔۔ جن کے پاس دکانیں نہیں ہیں بس ریڑھی، ٹھیلے وغیرہ ہیں اگر کسی کے پاس اتنی بھی گنجائش نہیں ہوتی تو وہ زمین پر ہی اپنا سامانِ کاروبار لگالیتا ہے۔۔۔ میرا گزر وہاں سے سات سے آٹھ بجے کے درمیان ہوتا ہے۔۔۔۔ میں نے انھیں صبح صبح دیکھا ہے، وہ بھوکے پیٹ ہی گھروں سے نکل آتے ہیں اور ناشتہ وہی سڑک پر بیٹھ کر مل بانٹ کر کرتے ہیں۔۔۔۔ مقامی لوگوں کی دکانیں اس وقت بند ہوتی ہیں جب کہ افغانی مہاجروں کے ٹھیلے سجنا شروع ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ کیا ہی عمدگی سے سجاوٹ کرکے سبزیاں سلیقے سے لگا لیتے ہیں البتہ اس میں ان کو آدھا گھنٹہ لگتا ہے مگر وہ کتنے بےنموں سی نقوش کاری کرتے ہیں۔۔۔۔ اپنے سامنے بچھی سڑکوں کو رضاکارانہ طور پر صاف کرتے ہیں پانی ڈال کر دھوتے ہیں اور جھاڑو لگاتے ہیں۔۔۔۔ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ لوگ رزق کے لیے خالی پیٹ ہی گھروں سے نکل آتے ہیں کیونکہ یہ خدائی قانون ہے کہ وہ رزق فجر کے بعد تقسیم کرتا ہے جب آدھا پاکستان اوندھے منہ سویا ہوتا ہے۔۔۔۔ کتنے پختہ ایمان والے باہمت لوگ ہیں یہ۔۔۔۔ ہم لوگ فرصت سے دس بجے اٹھ کر دکانیں کھول کر عوام الناس پر احسان کرتے ہیں جب ان کی آدھی ریڑھی بک چکی ہوتی ہے۔۔۔۔ پھر وہاں میں نے بچوں کو خوانچے میں رکھے ہوئے مختلف میوہ جات، پکوان، اور دیگر روزمرہ کی اشیاء کو لے کر بازاروں میں آوازیں لگاتے دیکھا ہے۔۔۔۔ اگر دیہاڑی دار مزدور ہوں تو چوک میں سب سے پہلے مزدور افغانی مہاجر ہی پہنچتے ہیں۔۔۔۔ اپنے آلات کو سیلقے سے رکھ کر اپنی خدمات کو بہتر طریقے سے پیش کرنے کے لیے بہترین طرازی سے اپنے اوزار سجا لیتے ہیں۔۔۔۔ یہاں ہم بیس سے بائیس کروڑ لوگ فقط بےروزگاری کا رونا روتے ہیں کیونکہ ہم محنت کرنا ہی نہیں چاہتے بلکہ ہم کم محنت پر لامحدود منافع  حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔۔۔۔ میرا اٹھنا بیٹھنا ہر قسم کے لوگوں میں ہے۔۔۔۔ امیر، غریب، فقیر، خوش، ناخوش تقریباً سب کے مزاج سے واقف ہوں۔۔۔۔ میں ایک ایسے پاکستانی شخص کو بھی جانتا ہوں جو مہینہ وار چالیس سے پچاس ہزار کی بچت کر لیتا ہے مگر روز ناشکری کا منہ لٹکائے سامنے والے افغانی ہوٹل کو دیکھ کر منصوبہ کرتا ہے کہ چلو ہم بھی ہوٹل کھول کر پلاؤ لگاتے ہیں۔۔۔
یہ کتنی خوش آئند بات ہے مگر جب اُن کا ارادہ پوچھا تو اپنے لوگوں کی سوچ پر بین کرنے کا دل چاہا۔۔۔۔ ان کے مطابق "ہم افغانی کیمپ سے پکا پکایا لا کر ایک شخص کو اس پر مقرر کر لیں گے سب کرتا دھرتا وہی ہوگا بس ہم لوگ منافع اتنا اتنا بانٹ لیں گے۔۔۔"
روز کے بنتے بگڑتے منصوبوں سے مجھے تو کوفت ہونے لگی جس کی بنا پر میں نے وہاں پر آنا جانا کم کردیا۔۔۔
خیر میں ایک افغانی ہوٹل سے کھانا کھاتا اور چائے پیتا ہوں تو اک روز میرے کچھ جاننے والے بھی ساتھ ہی بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے اور ساتھ ہی ایک زبردست بحث چل رہی تھی کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں چلے گئے ہیں۔۔۔۔ ایک طرف امریکیوں کی ہار پر جشن اور دوسری جانب ان کی پالیسیوں کو سراہا جارہا تھا اور مہاجرین کے رویوں کے اتار چڑھاؤ کی باتیں کی جارہی تھیں۔۔۔۔ جب کہ اسی ہوٹل میں کھانا پکانے والا، برتن دھونے والا اور کھانا قریب کی دکانوں میں پہنچانے والے چار افغانوں کو ملا کر کُل پانچ لوگ موجود تھے۔۔۔۔ اسی طرح میں نے براہِ راست ایک افغانی سے  اس واقعے کا ذکر کیا اور پوچھا۔۔۔۔ اس نے دوٹوک انداز اپنا کر کہہ دیا "ہمیں کیا لینا دینا اس سب سے ہم محنت کر کے اپنا پیسہ کماتے ہیں۔۔۔۔ جس کا ملک وہی جانیں۔۔۔۔" میں نے اسے اپنے موقف پر قائل کرنے کی کوشش کی۔۔۔ اسے اس کے ملک کے حالات کی سوچوں میں گھیرنے کی ایک اور کوشش کی مگر اس نے یکسر موضوع بدل دیا۔۔۔۔ میں بہت دیر تک اس مکالمے کو سوچتا رہا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ "ہمیں اپنی ذات کے علاوہ ہر مسئلے کو سنجیدگی سے سوچنے کا کتنا شوق ہے نا؟ اپنے مسئلوں پر فکر کرنے کے بجائے دوسروں کے مسائل کا حل نکالنا ہم اپنا منصب اعلیٰ سمجھتے ہیں۔۔۔ اور مسئلے بھی وہ جن کے متعلق کسی نے ہم سے پوچھا بھی نہ ہو اور نہ ہماری رائے جاننا چاہی ہو۔۔۔۔ ہم اصل میں لیڈر سے لے کر عوام تک غلط کہاں ہیں ہم سب بس اپنے نام کی تختی لگوانا چاہتے ہیں." میں نے ہزاروں بے روزگاروں کو حکومتی ، ملکی، ہمسایہ ممالک کے مسائل و حالات پر بحث کرتے دیکھا مگر یہیں اس ملک میں سترہ لاکھ افغانی مہاجر بھی ہیں جو ملک بدر ہیں۔۔۔ ان میں سے میں نے نہ تو کسی کو بھی بےروزگار پایا اور نہ کسی کو مسائل پر آپس میں لڑتے جھگڑتے دیکھا کیونکہ ان کا کام صرف کام کرنا ہے لڑنا یا تختیاں لگوانا نہیں۔۔
باقی فیصلہ آپ کا اپنا ہے۔

No comments

Powered by Blogger.