Microf#4 | Neech | HaaDi Khan
مائیکروفکشن۔۔۔۔
نیچ ۔۔۔۔
ازقلم ہادی خان
وہ شراب خانے سے منہ اندھیر پیٹ بھر کر نکالا گیا تھا۔۔۔
"سالا بھڑوا۔۔۔" دروازے کے کھلتے شور صدر میں سے آواز گونجی۔۔۔
پورک نوش کر کے حبس ذدہ ماحول سے باہر نکالا گیا تو ماتھے پر ننھی منی سی پسینے کی بوندیں نمودار ہونے لگیں۔۔۔
اس کا دماغ ہر طرح کی سوچوں سے ماورا ہوا بالکل ماؤف ہوچکا تھا۔۔۔ سور کے گوشت اور شراب سے اس کے دل جگر میں گرمائش محسوس ہونے لگی۔۔۔ اس کا من کیا سیگریٹ خریدنے کو مگر جیب خالی پائے۔۔۔ اس کے جوتے کا تلوا جلنے لگا۔۔۔ وہ قریب ہی ایک چبوترے پر بیٹھ گیا۔۔۔ اس نے گھٹنوں پر سر رکھا اسے اپنے سے آتی بو بالکل محسوس نہ ہوئی۔۔ وہ کب سو گیا معلوم نہیں۔۔
کسی گھر میں ھو کا عالم ہے۔۔۔ ہر طرف خامشی کا ڈیرا ہے۔۔۔ وہ چوری کے غرض سے جھکی کمر کے ساتھ آگے کو چلتا گیا۔۔۔ اس کا ارادہ صرف چوری کا ہے۔۔۔ اس نے سارے گھر میں فقط ایک لڑکی کو پایا جو نیند کی دوا لیئے بےہوش سوئے پڑی تھی۔۔۔ اس کی کومل اور ملائم دودھیا رنگت نے نیت و ارداے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔۔۔۔۔ وہ مکمل نشے میں تھا۔۔۔
اس نے ایک بھاری سرہانا اٹھایا اس کے چہرے کو دبوچا اور پوری مردانہ قوت سے اس کا سانس بند کر کے ارادہِ قتل سے بھرپور زور لگایا۔۔۔ کچھ دیر بعد جب لڑکی پھڑپھڑا کر ساکن ہو گئی تو اس نے اپنے نفس کی پیروی کی۔۔۔
وہ ہر بدبودار طوائف سے قدرے دس گناہ بہتر تھی۔۔۔ نہ روکھاپن نہ سختی نہ دھندے پن کا گدلا تن۔۔۔ اس نے جو ہاتھ لگا لوٹا۔۔۔ کمرے میں بہت سارا مال ہاتھ لگا۔۔۔۔ سب لیا اور جس سمت منہ تھا اسی سمت دوڑا۔۔۔
اس نے سر کو گھٹنوں سے ایک جھرجھری لے کر اٹھایا۔۔۔ وہ خواب سے بیدار ہو گیا تھا اسے نشہ اترا معلوم ہوا۔۔۔ اس لاش سے اب طوائف کی بے مزگی ،سختی اور ٹھنڈےپن کے خیالات آئے۔۔ وہ مردہ تھی اور گھردری بھی اس میں طوائفوں والی کوئی حرارت نہ رہی۔۔۔ وہ بےسمت دوڑا۔۔۔بھاگا۔۔۔ اس نے سندھ چھوڑ دیا۔۔۔ اس نے پنجاب سے گاڑی پکڑی نہ رکا۔۔۔ بس چلتا رہا دوڑتا رہا۔۔۔گاڑی پر گاڑی بدلی۔۔۔ اپنے آبائی گاؤں سرحد میں آگیا۔۔۔ اسے اپنے عقب میں سرسراہٹ کی آہٹ سنائی دیتی تو وہ مسافت جاری کرتا۔۔۔ اس نے مُڑ کر دیکھا وہ بدروح، بدشکل و لاغر شخص تھا۔۔۔ زبان کتے کی مانند ہانپتے ہوئے نکلی ہوئی تھی۔۔۔ آنکھوں میں نیند پوری نہ ہونے کی سیاہی سے انڈھی ہوئی تھی۔۔۔ اس نے سکڑی آنکھوں سے بغور جائزہ لیا وہ وہم تھا۔۔۔۔ وہ واقعی اس کا وہم تھا اس کا سایا تھا اس کا اندرون۔۔۔ اس کی ابلیسی۔۔۔ اس کی درندگی۔۔۔ وہ چکرا کر زمین بوس ہوا تو وہ بھی گر پڑا۔۔۔ وہ اس شخص کا سایہ تھا۔۔۔

Leave a Comment